گوادر پاکستان کے مستقبل کی ضمانت - عمران ناصر

عمران ناصر گوادر صوبہ بلوچستان کا ایک چھوٹا سا شہر ہے، آبادی تقریباً ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔ تین اطراف سمندر میں گھرا یہ شہر اپنے وجود سے اس خطہ زمین کو ایک خوبصورت اور دلفریب منظر بخشے ہوئے ہے۔ موسمی لحاظ سے یہ علاقہ اپنے معنی ”ہوا کا دروازہ“ کے عین مطابق بہت ہوادار ہے. یہاں کے باسیوں کا سب سے اہم ذریعہ معاش مچھلی کا شکارہے۔\r\n\r\nفیروزخان نون نے اسے اومان سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا. بعد ازاں ایوب خان کی دروبین نظروں نے اس علاقہ کی قدر و قیمت کو بالکل صحیح انداز میں جانچا تھا۔ انھوں نے اسے ایک بین الاقوامی طرز کی بندرگاہ بنانے کا خواب دیکھا جو پاکستان کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے۔ حکومت وقت نے محسوس کیا کہ گوادر پورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان، وسط ایشیا جن میں تاجکستان، قازقستان، آذربائجان، ازبکستان، ترکمانستان اور دیگر روسی ریاستیں کو ایک تجارتی منڈی میں شامل کرنے میں مددگار و معاون ثابت ہوگا۔ لیکن بین الاقوامی دباؤ اور ملکی حالات اس منصوبہ پر فوری عملدرآمد میں آڑے آئے اور معاملہ طویل عرصہ تک التوا کا شکار رہا۔\r\n\r\nجغرافیائی لحاظ سے پاکستان بحرہند میں سٹریٹ آف ہرمز کے لیے بہت اہم گیٹ وے ہے۔ سٹریٹ آف ہرمز دنیا کے 20 فیصدی تیل کی ترسیل کا باعث ہے۔گوادر پورٹ خلیج فارس، بحیرہ عرب، بحر ہند اور خلیج بنگال سمیت تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری ہوگی۔ یہ دیوقامت کارگو بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے کے لیے انتہائی موزوں اور مناسب ہے۔گوادر دو اسلامی ممالک ایران اور افغانستان کی سرحدوں کے قریب ترین ہے۔گوادر پورٹ کے ذریعے وسط ایشیائی ممالک تک رسائی نے اس کی اہمیت کواور بھی بڑھا دیا ہے۔ یہ بات ایران اور متحدہ عرب امارات کے لیے معاشی حریف ہونے کے ناطے بہت تشویش کا باعث ہے، جس کے لیے یہ دونوں ممالک گوادر کے منصوبہ میں رکاوٹیں پیدا کرنے لیے اپنی اپنی کوششوں میں مصروف ہیں۔\r\n\r\nگوادر فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے بھی بہت اہم ہے۔ یہ بندرگاہ بحیرہ عرب پر پاکستان کی برتری کے لیے راہ ہموار کرے گا۔گوادر بھارت سے پاکستان کا 460 کلومیٹر فاصلہ بڑھا دیتا ہے جس سے ہم بھارت سے دور اور بھارت ہمارے لیے آسان ہدف ہوگیا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ بھارت گوادر کی تعمیر و ترقی سے سخت خائف ہے اور ہر ممکنہ سازشی سرگرمیوں میں متحرک ہے۔ بلوچستان میں دہکی ہوئی آگ کے پیچھےگوادر پورٹ کا معاملہ سب سے بڑی وجہ ہے۔\r\n\r\nگوادر پورٹ اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر چائنہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ شاید پاکستان سے بھی زیادہ چائنہ کو گوادر کی ضرورت ہے۔ چائنہ گرم پانیوں پر بندرگاہ سے محروم ہے جس سے وہ بحری راستے سے سال بھر تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھ سکے۔ علاوہ ازیں دفاعی اور علاقائی فوائد بھی چائنہ کے لیے گوادر میں مضمر ہیں۔ شنگھائی پورٹ چائنہ کے صنعتی زون سے لگ بھگ 16 ہزار کلومیڑ کے طویل فاصلہ پر ہے۔ بحری سفر کے ذریعہ شنگھائی پورٹ سے صنعتی زون تک تجارتی سامان کی ترسیل دو یا تین ماہ کا اضافی وقت لیتی ہے، جو ٹیکسز اور ڈیوٹی کی مد میں ایک غیرمعمولی بوجھ ہے، جبکہ اسی صنعتی زون سے گوادر پورٹ کا فاصلہ محض 25 سو کلومیٹر ہے جو وقت اور پیسہ دونوں کی مد میں ایک دیوقامت ریلیف کا موجب بنتا ہے اور مزید براں تجارتی سرگرمیوں میں تعطل بھی پیدا نہیں ہوگا۔\r\n\r\nمغربی چائنہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے لیکن ان وسائل سے استفادہ کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ اس کا چائنہ کی قریبی بندرگاہ سے بہت دور ہونا تھا۔ چائنہ کی قیادت اس علاقے کی ترقی کے لیے بہت سنجیدہ ہے اور گوادر کو اس ضمن میں بہترین حل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔\r\n\r\nچین گوادر پورٹ کو اپنے مغربی علاقے کےلیے ایک ناقابل بیان ترقی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ گوادر سے فاصلوں کی طوالت کا مسئلہ باآسانی حل ہوتا ہے۔ کاشغر سے گوادر محض 15 سو کلومیٹر کے مختصر فاصلہ پر ہے جبکہ کاشغر سے چین کی مغربی کوسٹ 35 سو کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ لہذا 2 ہزار کلومیٹر کا شارٹ کٹ وقت اور پیسہ کے ضیاع کو روکتا ہے۔علاوہ ازیں گوادر کے راستےگیس اور تیل کی آسان اور بروقت ترسیل بھی ممکن ہوسکے گی۔\r\n\r\nگوادر کی جغرافیائی اہمیت چین کی اس بندرگاہ میں خصوصی دلچسپی کا باعث ہے۔ 1993ء میں حکومت پاکستان نے گوادر کو کراچی کے بعد دوسری پورٹ بنانے کا منصوبہ بنایا لیکن سیاسی بحرانوں کے سبب یہ معاملہ کھٹائی میں رہا۔1997ء میں اس پر عملدرآمد شروع ہوا۔ 1999ء میں وقوع پذیر ہونے والا فوجی انقلاب ایک دفعہ پھر اس منصوبہ پر پیش رفت میں حائل ہوا، 2000ء میں دوبارہ کام کا آغاز ہوا۔ چین کے تعاون سے 25 کروڑ کی لاگت سے پہلا مرحلہ تکمیل کو پہنچا، اس میں 25 ٖفیصدی شیئر حکومت پاکستان کا تھا۔ چین کی دلچسپی کچھ عناصر کے لیے باعث تشویش تھی، چنانچہ اسے متزلزل کرنے کےلیے بلوچستان لیبریشن فرنٹ نے چائینیز انجینئرز کو قتل کیا لیکن کام جاری رہا۔ چین کا دوسرا اہم اقدام 635 کلو میٹر طویل کوسٹل ہائی وے کی تعمیر تھی، جو مکران ڈویژن کی ترقی میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس کے بعد اس علاقے کی طرف سرمایہ دار متوجہ ہوئے اور گوادر اسٹیٹ کے کاروبار کا گڑھ بن گیا۔ مقامی شہری کو ان کی زمینوں کے منہ مانگے دام ملنے لگے۔ یہاں کے کاروباری مراکز میں کرایوں اور زمینوں کے دام آسمانوں سے باتیں کرنے لگے۔ ویرانوں میں رونقیں لگنے لگیں اوردیکھتے ہی دیکھتے شہر میں ترقی یافتہ شہروں کا ماحول پیدا ہونا شروع ہوگیا۔ بیرونی دباؤ کے سامنے سرنگوں ہو کر اس وقت کی حکومت نے اس کا انتظام و انصرام سنگاپور کے حوالے کردیا، مگر2013ء میں ایک دفعہ پھر اسے چین کے زیر انتظام کردیا گیا۔\r\n\r\nچین کی ایک معروف کمپنی گوادر کو ایک سہانے سپنے سے حقیقت میں بدلنے کے لیے شبانہ روز محنت میں مصروف ہے ۔ پورٹ کی فعالیت 3 سے 4 سال کے عرصے میں متوقع ہے۔اس کے ثمرات سے نہ صرف پاکستان اور چین مستفید ہوں گے بلکہ وسط ایشیائی ریاستوں کے مابین نئے تجارتی تعلقات کا آغاز بھی ہوگا۔ حکومت پاکستان گوادر کو عالمی تجارت میں فروغ کا پہلا زینہ گردانتی ہے. بلوچستان کا احساس محرومی بھی اس بندرگاہ کے سبب اپنے انجام کو پہنچے گا اور صوبہ تعمیر و ترقی کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا. روزگار اور خوشحالی کے تازہ دریچے کھلیں گے۔ شاہراہ قراقرم سے متصل تمام شاہراہیں بلوچستان بالخصوص اور دیگر ملکی علاقوں میں بھی نئے معاشی راہدریوں کے قیام کا سبب ہوں گی۔\r\n\r\nضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کو دلکش نعروں اور پر تعیش وعدوں کی خیالی جنت میں رکھنے کے بجائے حکومت ترقی یافتہ ممالک کی تاریخ سے استفادہ کرتے ہوئے گوادر پورٹ کو عملاً بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے جنت بنا دے۔

Comments

عمران ناصر

عمران ناصر

عمران ناصر علم و ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ سیاست، ادب، تاریخ، مطالعہ مذاہب سے شغف ہونے کے باعث اپنا نقطہ نظر منطقی اور استدلالی انداز میں پیش کی کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ شدت پسندی اور جانبدارانہ رویوں کواقتضائے علمیت سے متصادم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.