خلع کا قانون، طلاق کی لوٹ سیل - نصیر اللہ خان ایڈووکیٹ

بلا شبہ ہر مرد و عورت کو خوشحال زندگی گزارنے کا حق دستور پاکستان میں دیا گیا ہے۔ اگر زوجین کے درمیان حدود اللہ کے اندر رہتے ہوئے انس ومحبت اور خوشحال زندگی کی ضمانت نہ ہو تو میاں بیوی کو اخلاقی، قانونی اور شرعی طور پر جدائی کے حقوق دیے گئے ہیں۔

اس حق کے دفاع کے لیے فریقین کو عدالتوں سے رجوع کا حق حاصل ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان میں عدالتیں ”فیملی قوانین“ کو بروئے کار لاتے ہوئے زوجین کے حقوق کی نگہبان ہوکر فیملی معاملات اور مسائل کو نمٹاتی ہیں۔ عدالتیں مقدمے کی سماعت سے پہلے اور شہادت فریقین کے بعد کیس کو فیصلہ کرنے سے پیشتر جوڑے کو راضی نامہ، مفاہمت اور مصالحت کی پیشکش کرتی ہیں۔ مصالحت اور راضی نامہ نہ ہونے کی صورت میں عدالت اپنا فیصلہ سنادیتی ہے۔ عدالتوں اور قانون کی اسکیم ہی یہی ہے کہ کسی طرح فریقین میں صلح کی گنجائش پیدا کی جاسکے۔ تاکہ فریقین میں صلح ہوکر پھر سے گھر آباد ہوسکے۔ شادی سماجی معاہدہ اور ایک ایسا بندھن ہے جس سے خاندان بنتے ہیں۔ دراصل شادی نظریات و عقائد کی ہم اہنگی کی بنیاد پر چلتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ سماجی ساخت بکھرکر خاندانوں میں نفرت، بغض و عناد بڑھ رہا ہے۔ ہم پُر امن شادی شدہ زندگی گزارنے اور عدم اتفاق کے باعث طلاق حاصل کرنے، مصالحت، راضی نامہ اور فریقین مقدمہ کے بعد کے حالات پر آپ سے کچھ عرض کریں گے تاکہ وہ امور سامنے آسکیں جن سے طلاق واقع ہونے کے بعد فریقین، بچوں، خاندانوں اور معاشرے پر ممکنہ غلط اور خراب اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

اس طرح وہ کون سے عوامل ہیں جن سے خاوند اور بیوی کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے اہل ہوسکتے ہیں؟ مسلم میرج ڈیزہ لوشن ایکٹ مجریہ 1939ء، مسلم فیملی لاز آرڈیننس مجریہ 1961، فیملی ایکٹ مجریہ 1964ء کی دفعات کے مطابق طلاق حاصل کرنے میں آسانیوں نے شوہر کے ساتھ سمجھوتا کرنے کے بجائے طلاق کے لیے عدالت آنے والی عورتوں کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ صرف ایک لفظ ’’خلع‘‘ سے طلاق سے متعلقہ فیملی لاز میں طلاق کے حصول کے لیے زبردست جگہ مل گئی ہے۔ اس سنگین معاملے پر نظرثانی اور خلع کے سائے میں طلاقوں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ فیملی لاز ایکٹ میں خلع کے علاوہ تمام دوسری وجوہات کو گرہن لگ چکا ہے اور شاذ و نادر ہی دیگر وجوہات پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ جب خلع فیملی کورٹ ایکٹ مذکورہ سے پہلے رائج نہیں تھا تو اس وقت طلاق لینے کے چانسز انتہائی کم اور راضی نامہ کے مواقع زیادہ تھے۔ یہ وہ وقت ہے جہاں ہمیں سوچنا ہوگا کہ خلع کے بجائے دوسری وجوہات پر بھی نظرثانی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن اب حالات یکسر مختلف ہیں۔ خلع میں آسانی اس مقصد کے لیے پیدا کی گئی تھی کہ بعض دوسری صورتوں میں طلاق لینا دشوار تھا، لیکن ایک عرصہ سے خلع ایک ہتھیار کے طور شادی کے بندھن کو توڑنے کے کام آ رہا ہے۔ نتیجتاً شادی کے بندھن توڑنے کی وجہ سے معاشرے کی ساخت میں بگاڑ اور تباہی کے اثرات شروع ہو چکے ہیں۔

اب حال یہ ہے کہ خاندانی زندگی کے دائمی رشتے اور خوشیوں کے تصورات اپنا اعتماد کھوچکے ہیں۔ خاندانوں میں طلاق کی بہت زیادہ بڑھتی ہوئی شرح نے ہمارے معاشرے کی اعلیٰ روایات، اخلاقی اقدار اور ثقافت کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ کثرت طلاق کی وجہ سے ہم معاشرے کو منقسم خاندانوں میں بٹتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ آئیے اب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جن سے خاندان اور گھرانے بکھر جاتے ہیں، اور طلاق ہوجاتی ہے۔ شوہر کی طرف سے مسلسل پابندیاں ڈال دینا کہ والدین کے گھر نہیں جانا، خریداری نہیں کرنی، والدین سے پوچھ کر جانا، فلاں کام کرنا، فلاں سے بات نہیں کرنی، تنگ کرنے کے بہانے ڈھونڈنا، وغیرہ، اس طرح عورت کو شناخت کھونے اور اعتماد کا فقدان ہونے کا ڈر لگ جاتا ہے۔ نتیجتاً عورت علیحدگی کی کوشش میں عدالت سے رجوع کرلیتی ہے۔ طلاق کے حصول کے لیے سب سے زیادہ اور عام وجہ سسرال اور نند کی بلاوجہ مداخلت ہوتی ہے۔ شادی کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ شوہر کی بہن اور ماں کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ اور شوہر کی انتہائی توہین، مار پیٹ، بد کرداری پر مائل کرنا، جائیداد سے بےدخلی، مذہبی فرائض سے روکنا، غیر اخلاقی کاموں پر مجبور کرنا، جسمانی اور ذہنی تشدد، زیادتی و ناروا سلوک، گالی اور ظلم وغیرہ شامل ہیں۔ بعض دیگر صورتوں میں بھی بیوی کسی صورت تیار نہیں ہوتی کہ سسرال کے گھر میں رہائش اختیار کرے۔

بامر مجبوری مرد عورتوں کو علیحدہ رہائش بھی دے دیتا ہے لیکن بسا اوقات پھر بھی فریقین میں راضی نامہ کی صورت نہیں نکل آتی۔ اس کے برعکس جہاں فریقین میں شادی کی حرمت کو شوہر اور بیوی کی طرف سے برقرار رکھا گیا ہے اور اپنے معمولی جھگڑوں پر سمجھوتا کیے ہوئے ہوں، وہ گھرانے خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔ طلاق کی ایک بہت ہی بڑی اور شرمناک وجہ جنس مخالف میں دلچسپی ہوتی ہے۔ یہی وجہ طلاق پر منتج ہوکر اٹوٹ بندھن کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کردیتی ہے۔ بسا اوقات بیوی اپنے شوہر اور جگر گوشوں کو چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ بیوی اپنے شوہر سے توقعات رکھتی ہے۔ اس وجہ سے بھی اکثر اوقات طلاق لینے تک نوبت آجاتی ہے۔ شوہر کی اپنی بیوی کے علاج میں کوتاہی و ہمدردی کے جذبات کا نہ ہونا بھی طلاق کی وجہ بنتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات شوہر کی جنسی نا آسودگی بھی طلاق لینے کا اصل سبب بن جاتا ہے۔ بیوی کی نافرمانی، ناشیزہ ہونا، گھر میں بلا کسی معقول وجہ آباد ہونے سے انکاری ہونا، دروغ بیانی، عزت و احترام نہ ہونا، جہالت اور سادہ لوحی طلاق کی بڑی وجوہات ہیں۔ اس کے علاوہ دوسری وجوہات شوہر اوربیوی کی دھوکا دہی، ظلم و زیادتی، مار پیٹ، غلط سرگرمیاں اور برے کردار ہیں۔ شادی کی ناکامی کی ایک اور بڑی وجہ شوہرکی غلط اور بری خواہشات، حق مہر و نان نفقہ کی عدم ادائیگی ہے۔

فسخ نکاح کی وجہ سے فریقین کے بچوں کےماضی و مستقبل کی نان نفقہ کی حوالگی، جہیز کی وصولی، نان نفقہ عدت، حق مہر کے مسائل عدالتوں میں زیر غور رہتے ہیں جس کے دوران ہی اکثر فریقین کے بچے جوان ہوجاتے ہیں اور مقدمہ حل ہونے میں سالوں بیت جاتے ہیں۔ عدالت کو اپنے نظام میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ فسخ نکاح کا فیصلہ کرتے ہوئے ضرور کوشش کرنی چاہیے کہ اگر عورت بغیر کسی ٹھوس وجوہ کے عدالت آئی ہے، تواس پر اخلاقی دبائو ڈالے۔ ساتھ ہی سماجی اقدار و روایات کا پاس رکھتے ہوئےمعاشرے کی تباہی، بچوں کی بعدازاں ذہنی کوفت اور انہیں والدین کے ہوتے ہوئے یتیم ہونے سے بچانے کی بھر پور کوشش کرے۔ عدالت فریقین کو اس بات کا احساس دلائے کہ شادی ایک مقدس فریضہ ہے اور فسخ نکاح، مسائل کے حل کے لیے اخری حق انتخاب نہیں ہوسکتا۔ قانون معاشرتی بھلائی کے لیے بنایا جاتا ہے نہ کہ تباہی و بربادی کے لیے۔ معاشرے میں طلاق کے بڑھتے رجحانات نے عظیم تر اقدار وروایات کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ شادی شدہ جوڑے اگر صبروتحمل اور سمجھوتے کے اصول پر کاربند رہتے ہوئے صبر کے اصولوں کی پیروی کر تے ہیں تو ہم دیکھتےہیں کہ ان لوگوں کے جوڑے کامیاب گردانے جاتےہیں۔ طلاق کے وقوع پذیر ہوتے ہی خاندان کی تقسیم عمل میں آتی ہے۔ ایسے میں بچوں کا کیا گناہ؟ فریقین کی بچوں کی کفالت، تربیت اور معاشرتی ناہمواری بچوں کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

سب سے زیادہ سنگین سوال ان کی دیکھ بھال،تربیت اور تحویل کا ہے۔ بچے جب بڑے ہونے لگتے ہیں تومعاملہ اور سنگین ہونے لگتا ہے۔ اس طرح قانونی چارہ جوئی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ میاں بیوی کے درمیان شروع ہوجاتا ہے۔ ہر مسئلےکا ایک نہ ایک حل ضرور ہوتا ہے۔ ہمیں مسئلے کے حل پرغور کرنا چاہیے۔ شادی کے فوراًبعد زوجین کی اصلاح کے لیے کنسلٹنسی کا انتظام ہونا چاہیے۔ ایسے اداروں کا عمل میں لانا وقت کی اہم ترین اور ناگزیر ضرورت ہے۔ جہاں پر فریقین کی تربیت کی جاسکے، اورفریقین کو بتایا جاسکے کہ کس طرح مستقبل میں قانونی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ان اداروں میں ایسے افراد ہوں جو کسی بھی مشکل صورتِ حال میں انہیں سمجھاسکیں کہ ایک دوسرے کے پسند و نا پسند کا خیال کریں۔ معمولی کوتاہیوں اور سرزنش پر سمجھوتہ کرنا سیکھیں۔معاہدہ نکاح خونی رشتے تخلیق کرتا ہے۔ فریقین کو چاہیے کہ وہ اپنی بچوں کی خاطر اپنی زندگی پر امن طریقے سے گزار نے کی کوشش کرتے ہوئےایک دوسرے کی عزت اور ایک دوسرے کو احترام دیں۔ مفاہمت، ترس، درد مندی، ہمدردی، برداشت، پیارو محبت، فراخ دلی اور معافی ہی وہ زریں اصول فراہم کرتی ہیں جنہیں بروئے کار لاتے ہوئے شوہر اور بیوی کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے ضامن اور لائق ہوسکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com