مصر میں حالیہ تبدیلی - سید مستقیم معین

%d9%85%d8%b3%d8%aa%d9%82%db%8c%d9%85-%d9%85%d8%b9%db%8c%d9%86 یہ بات حقیقت ہے کہ مصر کے موجودہ قابض صدر جنرل سیسی آج کل شدید پریشانی کا شکار ہیں. انہیں امور سلطنت چلانے کے لیے اور اپنی جائیداد میں اضافہ کے لیے ڈالروں اور ریالوں کی اشد ضرورت پڑ چکی ہے. لیکن کرائے کے مشٹنڈوں کی طرح کام مکمل ہونے کے بعد ان کا کردار عالمی سیاست میں ختم ہو چکا. اب وہ اپنی آمریت کو بچانے کے لیے تنہا کھڑے ہیں. مصر میں آمریت اور پھر اخوانیوں کے قتل عام کا سلسلہ تقریباً ایک صدی سے کچھ کم عرصہ سے جاری ہے. جمال عبد الناصر، انور سادات اور حسنی مبارک کے بعد پھر سیسی، ہر کچھ عرصے بعد وہاں کی فوج اپنا ہی ملک فتح کر لیتی ہے. اپنی ہی عوام پر ٹینک چڑھا کر وکٹری کا نشان بنانی والی افواج بعض دیگر اسلامی ممالک میں بھی موجود ہیں، ترکی میں البتہ انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے.\n\nاب جنرل سیسی ہلکے پھلکے مقدمات میں مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کی سزا میں تخفیف کر کے دراصل اپنے مغربی آقاؤں اور عربی بادشاہوں کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ مجھے پیسے نہ دیے تو میں اخوانیوں کو رہا کر دوں گا. پھر یہ تمہاری بادشاہتوں کے لیے درد سر بن جائیں گے. مبصرین کے مطابق مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دیگر شہروں میں ہونے والے حالیہ احتجاجی مظاہرے، بھرپور قوت کا اظہار تھے. لیکن یہ پر امن رہے اور سرکاری پولیس اور فوج نے ان پر تشدد نہیں کیا. جس سے یہ سلسلہ مزید بڑھنے کا امکان ہے. سیسی اس وقت اخوانیوں کی آمد کا ڈراوا دے کر مزید ڈالر اور ریال لینا چاہتا ہے.\n\nجبکہ حقیقت یہ ہے کہ دیگر ملکوں سے ملنے والی بھیک سے آپ کچھ عرصے کے لیے معیشت کو دھکیل تو سکتے ہیں لیکن اپنے قدموں پر کھڑا نہیں کر سکتے. اس پر مستزاد یہ کہ آپ کی ساری کابینہ کرپشن کی بےتاج بادشاہ ہو تو جو حال کسی ملک کا ہو سکتا ہے، وہ اس وقت مصر کا ہو رہا ہے. توانائی کا بحران، معیشت روبہ زوال، بے روزگاری میں اضافہ... اس سب انحطاط میں اگر کچھ بڑھ رہا ہے تو وہ بےحیائی کا طوفان ہے، شراب نوشی میں اضافہ ہے اور ایڈز جیسی بیماری عام ہو رہی ہے.\n\nاگر جمہوری حکومت برقرار رہتی تو یقیناً چین، ترکی، قطر، تیونس، مراکش، پاکستان اور ایران سے دو طرفہ تجارت کے کے ذریعے باعزت اور مستحکم معیشت قائم کی جا سکتی تھی، لیکن ایسا نہ ہو سکا. اب وقت یہ فیصلہ کرے گا کہ عالمی طاقتیں پھر سے چند ٹکوں کے عوض مصر پر سیاہ رات مسلط کرتی ہیں یا اخوانیوں کے لیے صبح کی کرن نمودار ہوتی ہے.