ہاری کی فصل اور بیٹی کے جھمکے - فاروق حیدر

فاروق حیدر ابو ابو ....اس بار تو آپ کا وعدہ ہے نا ! پچھلے سال بھی آپ نے ٹال دیا تھا..\nایک ڈھلتی شام تھکا ماندہ ہاری گھر پہنچا تو چھوٹی بیٹی نے ننھے منے بازو باپ کی گردن میں حمائل کر دیے.\nضرور بیٹا ... میں اس بار اپنی بیٹی کو ضرور سونے کے بندے دلواؤں گا\nاس نے پیار بھرے انداز میں جواب دیا اور اپنے کھردرے ھاتھوں سے بیٹی کو تھپکی دینے لگا ... گویا وہ ابھی سے سنہرے جھمکے پہنے بیٹھی ہو ..\nاگلی صبح وہ کھیتوں میں کام کرتے ہوئے کچھ سوچ رہا تھا،\nپچھلے سال کا قرض .... زمین کا ٹھیکہ ... آبیانہ .... گاؤں کے مولوی کی خدمت ...کریانہ مرچنٹ کے بقایا جات اور موچی، نائی اور کمہار کے حسابات ...\nہاں مگر امسال فصل اچھی ہے .\nوہ خود کلامی کے انداز میں بولتا چلا گیا..\nامید ہے کچھ نہ کچھ بچت ہو جائے گی .\nبے خیالی میں اسے اندازہ بھی نہ رہا کہ وہ آہنی کدال چلا رہا ہے.. اچانک کدال اس کے داہنے انگوٹھے پر آ لگی اور گرم گرم خون سرمئی رنگت زمین سرخ ہو گئی .. اس نے مٹھ بھر مٹی زخم پر ڈال دی اور میلی کچیلی چادر کا پلو پھاڑ کر اس سے زخمی انگوٹھا کس کر باندھ دیا اور پھر سے کام میں جت گیا..\nاب گندم پک کر تیار ہو چکی تھی ... کٹائی کے بعد کھیتوں کے بیچوں بیچ اناج کا ایک بڑا ڈھیر ہاری کی ڈھارس بندھا رہا تھا ... اسے سال بھر کی محنت مشقت کا صلہ آج ملنے کو تھا ...\nسب سے پہلے ڈھائی ڈھائی سیر گندم گاؤں کے بچوں میں بطور ٹوپہ تقسیم کی گئی.\nسب لوگ اپنا اپنا حصہ بٹورنے بوریاں اور کٹو لےکر پہنچے ہوئے تھے.\nقرض ... آبیانہ ... مولوی ... موچی نائی ... آج ہاری کا وہ دوست بھی بوری لیے آیا ہوا تھا، جس سے ایک دفعہ اس نے بیگار لیا تھا ...\nشام تک سب نمٹ چکے تو گندم کا ایک چھوٹا سا ڈھیر ہاری کا منہ چڑا رہا تھا ... اس نے بوجھل قدموں کے ساتھ اسے بوریوں میں ٹھونسا اور بیل گاڑی پہ لادنے لگا ...\nابھی وہ چلنے ہی والا تھا کہ ایک سفید رنگت کار آ کر رکی ...\nہاری نے نظر اٹھا کر دیکھا تو گاؤں کا چودھری اپنے منشی کے ساتھ چلا آ رہا تھا.\nمنشی کے ہاتھ میں حساب کتاب والے رجسٹر دیکھ کر ہاری کا رنگ فق ہوتا چلا گیا.\nاوئے محمد بخشا ... چودھری نے رعونت بھرے لہجے میں پکارا ...\nوہ قریب پہنچے تو چودھری کے منشی نے ایک تھیلے سے حساب کتاب کے رجسٹر نکالے اور محمد بخش کا کھاتہ پڑھنے لگا ...\n10‏ ‏من پچھلا قرض، 4 من بیاج اور 2 من سالانہ عرس و میلہ فنڈ\nمنشی نے موٹے موٹے شیشوں والی عینک ناک پر جماتے ہوئے کہا ...\nٹپ ٹپ ٹپ .... آنسوؤں کے چند قطرے ہاری کے جھریوں بھرے گالوں پر بے ترتیب لڑھک گئے ...\nسونے کے جھمکے ایک سال کے لیے مزید لٹک چکے تھے ....