پانامہ لیکس کے لیے عوامی لیکس - زیڈ اے قریشی

زیڈ اے قریشی جس وقت عمران خان نے اسلام آباد لاک ڈا\0ؤن کی کال دی تھی تو میں نے تب بھی دوستوں سے کہا تھا کہ اس دفعہ لاک ڈ\0اؤن تو دور کی بات، دھرنا بھی نہیں ہوگا، لیکن خدشہ مجھے بھی کسی اَیمپائر کی انگلی اُٹھنے کا تھا، لیکن ہر کوئی اپنی سوچ کے مطابق والے ایمپائر کی طرف نظریں مرکوز کیے ہوئے تھا۔ گویا اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فاضل جسٹس صاحب نے ایک کیس کے دوران سماعت ریمارکس میں ایک اشارہ بھی دے دیا تھا کہ ایمپائر فقط عدلیہ ہی ہے۔\n\nخیر یہ باتیں ہوئیں اب پرانی، کوئی نئی بات کرتے ہیں کہ پھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانامہ لیکس کے حوالے سے فائل شدہ درخواستوں کی سماعت جو کہ پہلے سے مقرر شدہ تاریخ کو ہی شروع کیں، تو سب سے پہلے دونوں اطراف سے یقین دہانی مانگی کہ ہم جو بھی فیصلہ کریں گے، فریقین کو قبول ہوگا، سو وہ یقین دہانیاں بھی لے لی گئیں اور یوں دھرنے یا لاک ڈائون والا قصہ یوم تشکر پر جاکر اختتام پذیر ہوگیا۔\n\nمیں یہ ہرگز نہیں کہتا، کہ یہ سب کوئی لندن یا پھر میرے پلان کے مطابق ہوا۔ جو ہوا، سو ہوا۔ نہ ہی تحریک انصاف نے لاک ڈاؤن کی تاریخ سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کی سماعت کے تناظر میں رکھی تھی اور نہ ہی حکومت وقت نے تحریک انصاف کی پختون طوفانی کو اسی تناظر میں روکا تھا کہ ایک دن بعد تو عدالت عظمیٰ میں پیشی ہے تو یہ ہوگا یا وہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ میں بھی یہی تصور کرتا ہوں کہ یہ سب کچھ بے سبب ہی ہو گیا لیکن شاید اس میں کہیں حفظ ما تقدم کے طور پر ان تمام عناصر کو، شاید فریقین نے بھی مد نظر رکھا ہو، خیر چھوڑیں ہمیں کیا، مطلب کی طرف بڑھتے ہیں۔\n\nاب عدالت عظمیٰ میں پانامہ کیس کی روزانہ کی بنیادوں پر سماعت جاری ہے اور مناظر بھی بہت دلکش ہیں جیسا کہ ”کبھی خوشی، کبھی غم“ والی صورتحال ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس معاملے کا نتیجہ کیا ہوگا؟ اگر تو سپریم کورٹ کمیشن بناتی ہے تو پی پی پی کو اعتراض ہوگا اور اگر نہیں بناتی تو جماعت اسلامی کو اعتراض ہوگا۔ اگر وزیراعظم کو نااہل قرار دیتی ہے تو نون لیگ کو اعتراض ہوگا اور اگر اہل قرار دیتی ہے تو کپتان کو اعتراض ہوگا۔ لیکن کمیشن بنایا جاۓ گا تو پھر اُس کی مدت اور ٹی آر اوز کون بنائے گا؟ اگر سپریم کورٹ بنائے گی تو پی پی پی ورنہ سب فریقین کو ایک دوسرے کے ٹی آر اوز پر اعتراض ہوگا لیکن پھر یہ معاملہ کس ڈگر جائے گا۔\n\nیہ سارا معاملہ جس طرف نکل پڑا ہے، پتہ نہیں کہاں جا نکلے، کیونکہ کبھی پی ٹی آئی کی دستاویزی شہادتیں قابل اعتراض اور پکوڑے کھانے کے لیے قابل استعمال ہوتی ہیں تو کبھی اربوں روپوں کا حساب شریف لوگ عربوں سے دلوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ معاملہ بہت دور تلک نہیں بلکہ بڑی دیر تلک جائے گا، کیونکہ حکومت وقت نکالنا چاہتی ہے اور پی ٹی آئی وقت لینا چاہتی ہے لیکن عدالت انصاف کے ادارے پر آنچ نہیں آنے دینا چاہتی تو پھر اس معاملے کا بنے گا کیا۔\n\nاب شریف لوگ اپنے اقتدار کی جنگ کی خاطر سارے تعلقات لڑائیں گے اور انصاف کی خاطر نت نئے حربے آزمائیں گے اور پی پی پی والے اپنی باری کی خواہشات لیے ہر معاملے میں عدم اعتماد کی فضا قائم کریں گے اور کپتان ہمیشہ کی طرح اپنے نابالغ سیاسی مُشیروں اور نتھوتیروں کی باتوں پر بڑھکیں لگائیں گے مگر کوئی عملی اقدامات نہ اُٹھائیں گے۔ اور اسی طرح جیسے ریمنڈ ڈیوس، نندی پور، مشرف اور ایران پائپ لائن وغیرہ کو عوام بھول گئے یہ معاملہ بھی زیر زمین یا وقت مزیں کی نظر ہوجا\0\0ئے گا۔\n\nوہ کہتے ہیں نا کہ کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مَرا ہوا۔ اگر پہاڑ سے کوئی معدنیات یا ذخائر نکالنے کی کوشش کرتے تو یقینناً کچھ نہ کچھ ضرور ہی نکل آتا۔ اس مثال کا کسی اور معاملے سے ہرگز تعلق نہیں ہے، یہ مثال میں نے اپنے بزرگوں سے سنی تھی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */