زندہ درگور انسانوں کی کہانی - احسان کوہاٹی

’’ماموں! کہاں جارہے ہو؟‘‘ معاویہ صدیقی نے قاری الیاس کو تیز تیز قدموں سے کہیں جاتا دیکھ کر پوچھا۔\n\n’’یار! ذرا تھانے تک جارہا ہوں۔‘‘\n’’کیوں کیا ایس ایچ او نے بلایا ہے؟‘‘\n\n’’نہیں نہیں یار! وہ ایک جاننے والے کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا۔ بے چارا اسپتال پہنچا تو پیچھے سے موٹر سائیکل غائب ہوگئی۔ اس کا معلوم کرنے جارہا ہوں۔ شاید تھانے میں کھڑی ہو۔‘‘ قاری الیاس نے جواب دیا۔\n\n’’ماموں! آپ سے کتنی بار کہا ہے پولیس والوں اور پولیس اسٹیشنوں سے دور ہی رہا کریں لیکن آپ سمجھتے ہی نہیں۔‘‘ معاویہ صدیقی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ دونوں ماموں بھانجوں کی عمر میں زیادہ فرق نہیں ہے، اسی لیے دوستوں کی سی بے تکلفی بھی ہے۔\n\nقاری محمد الیاس نے لاپروائی سے ہاتھ ملایا اور تھانے پہنچ گیا۔ علاقہ تھانے کا سارا عملہ اسے اچھی طرح جانتا تھا۔ ایک ’’حادثے‘‘ نے اسے علاقہ پولیس میں مشہور کر رکھا ہے۔ پھر اس کا اخلاق بھی ایسا ہے کہ جو بھی قاری صاحب سے ملتا، قاری صاحب کا دوست ہوجاتا ہے۔ قاری محمد الیاس علم دوست آدمی اور سند یافتہ عالم دین ہے۔ کراچی کی جامعہ فاروقیہ سے سند لینے کے بعد قاری صاحب نے دارالعلوم کورنگی، کراچی کے قریب ہی پاکستان بک اسٹال کے نام سے دکان کھول لی۔ اپنے اخلاق، مسکراہٹ اور اللہ کے فضل سے کام چل نکلا اور بک اسٹال ٹھیک ٹھاک چلنے لگا۔\n\nقاری صاحب، بھانجے کو تسلی دے کر تھانے میں زخمی محلے دار کی موٹر سائیکل کا پوچھنے پہنچ گئے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ جہاں ایکسیڈنٹ ہوا ہے، وہ ہمارا علاقہ نہیں ہے اور ایسی کوئی موٹرسائیکل ہم لائے بھی نہیں۔ قاری صاحب شکریہ ادا کر کے اٹھنے لگے تو ایس ایچ او کہنے لگا ’’قاری صاحب! رات ادھر ہی رک جاؤ، کافی سختی ہورہی ہے۔‘‘\n’’کیوں پھر کوئی لیٹر آگیا ہے کیا؟‘‘ قاری صاحب نے پوچھا۔\n\nتھانیدار نے اثبات میں جواب دے کر قاری صاحب کو متفکر کردیا لیکن اسی وقت تھانے کے ہیڈ محرر نے مداخلت کی اور ایس ایچ او سے کہنے لگا ’’سر! ہم قاری صاحب کو برسوں سے جانتے ہیں، جانے دیں گھر کوئی آئے گا تو بلالیں گے۔‘‘\n\nہیڈ محرر کی سفارش پر ایس ایچ او نے کوئی تعرض نہیں کیا اور قاری صاحب گھر آگئے، لیکن اسی رات قاری صاحب کے گھرکچھ اور لوگ بھی آئے۔ چار نومبر کی رات گھر کا دروازہ بجا۔ بجا کیا اس زور سے دھڑدھڑایا گیا کہ ٹوٹتے ٹوٹتے بچا۔ دروازہ کھولا گیا تو پولیس اہلکار اندر گھس آئے۔ گھر کی خواتین بچیاں سہم گئیں۔ قاری صاحب کی اہلیہ آگے بڑھیں۔ ایک پولیس اہلکار نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا اور کہا قاری صاحب سے ان کا نام پوچھا۔ شناخت ہونے پر انہیں پولیس موبائل میں ڈال کر نامعلوم مقام پر لے گئے۔\n\nمعاویہ صدیقی ماموں کے پیچھے تھانے پہنچا، لیکن وہاں قاری صاحب ہوتے تو ملتے۔ تھانے کے عملے نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا۔ ایس ایچ او سے رابطہ ہوا تو کہنے لگا: ’’ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ قاری صاحب کے گھر میںایسے گھسیں اور ہمیں ایسا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے‘‘۔\n\nمعاویہ اپنے طور پرقاری صاحب کو ڈھونڈنے لگا۔ ایس ایس پی کورنگی سے لے کر پولیس ہیڈکوارٹر گارڈن تک، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے سینٹرل پولیس آفس تک، معاویہ چکر اتا پھرا، لیکن ماموں کا کہیں سے پتا ہی نہیں چلا۔ ماموں کی تلاش میں جس جس سے مدد مل سکتی تھی، معاویہ فون کرتا رہا۔ اس نے سیلانی کو بھی فون کیا۔\n’’سیلانی بھائی! قاری صاحب کو پولیس والے پھرکہیں لے گئے ہیں، لیکن کچھ پتا نہیں چل رہا۔ کوئی بتا بھی نہیں رہا، کہیں سے خبر مل سکتی ہے؟‘‘\n\n’’ایسے بہت مشکل ہے۔ اتنے سارے ادارے ہیں؟ کیا پتا کون لے کرگیا ہوگا پھر بھی میں پولیس میں دوستوں سے معلوم کرتا ہوں۔‘‘ سیلانی نے معاویہ کو تسلی دی اور سوچنے لگا کہ کس سے بات کی جائے، کس سے خبر لی جائے۔\n\nقاری صاحب ایک نہایت شریف النفس اور مرنجان مرنج انسان، قانون پسند شہری اور فورتھ شیڈول کے ’’خطرناک مشکوک‘‘ بندے ہیں۔ جی ہاں ان کا نام فورتھ شیڈول میں ہے اور آج سے نہیں ہے نائن الیون کے بعد سے ہے۔ وہ کئی بار اندیشہ نقص امن کے تحت جیل میں نظر بند بھی رہ چکے ہیں۔ فورتھ شیڈول میں نام کے اندراج کی یہ مہربانی اسلم جوئیہ نام کے ایک بدقماش پولیس انسپکٹر نے کی۔ اس ’’مہربانی‘‘ کا احوال قاری صاحب نے چند ماہ پیشتر سیلانی سے ملاقات میں سنایا تھا۔\n\nجب پہلی بار معاویہ صدیقی نے بتایا کہ یہ ان کے ماموں اور فورتھ شیڈول کے قاری الیاس ہیں تو سیلانی چونکے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے سرسے پیر تک قاری صاحب کا جائزہ بلکہ جائزہ کیا اچھا خاصا معاینہ کیا۔ نرم سی مسکان والے قاری صاحب کہیں سے مشکوک نہیں لگ رہے تھے۔ وہ بتانے لگے ان کے علاقے میں اسلم جوئیہ نام کاسب انسپکٹر تعینات ہوا۔ اس سے قاری صاحب کی علیک سلیک ہوئی۔ وہ بڑے احترام سے ملتا تھا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنا نکاح بھی قاری صاحب سے پڑھوایا۔\n\nیہ ان دنوں کی بات ہے جب امریکا میں نائن الیون کا واقعہ عالمی سیاست اور حالات کا رخ تبدیل کرچکے تھے۔ پاکستان میں بھی پرویز مشرف نے واشنگٹن کی ایما پر مذہبی طبقے کی مشکیں کسنا شروع کردیں۔ اوپر سے فورتھ شیڈول میں مشکوک مولویوں کے ناموں کے اندراج کا حکم آیا۔ اسلم جوئیہ نے اس کی تعمیل یوں کی کہ قاری صاحب کا نام دے ڈالا۔ خیر سے قاری صاحب ”فورتھ شیڈولیے“ ہوگئے، جس کی خبر انہیں اکتوبر 2001ء میں اس وقت ہوئی جب پہلی بار انہیں لانڈھی جیل میں دو ماہ کے لیے نظربندکیا گیا۔ قاری صاحب بیچارے اپنا جرم ہی پوچھتے رہ گئے۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ ایم پی او کے تحت سرکاری مہمان ہیں تووہ ”ایم پی اے“ کا پوچھنے لگے کہ کس ایم پی اے نے انہیں بند کروایا ہے۔\n\nدوسری بار انہیں 2002ء میں ایک ماہ کے لیے سینٹرل جیل میں مہمان بنایا گیا۔ یہ خاصا کڑا وقت تھا۔ ان کے ہاںجڑواں بچوں کی ولادت ہوئی اور دونوں ہی چند گھنٹوں کی زندگی کے بعد چل بسے۔ قاری صاحب بہت رنجیدہ ہوئے۔ اولاد نرینہ کی خواہش کسے نہیں ہوتی، انہیں بھی اسی شدت سے تھی، لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی مراد پوری ہونے کا وقت نہیں آیا تھا۔ وہ اہلیہ کو اسپتال میں ناشتہ دے کر آئے تو پولیس اہلکار انہیں لینے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ یہ بیچارے ان سے درخواستیں کرتے رہ گئے کہ ان کی اہلیہ اسپتال میں ہیں لیکن ان کی ایک نہ سنی گئی کہ وہ ”فورتھ شیڈولئے“ جوتھے۔ پھر 2011ء کویکم محرم کے روز بھی انہیں سات روز کے لیے سرکارنے طلب کرلیا اور اس کے بعد چار نومبر 2016ء کی رات پھر قاری صاحب غائب۔۔۔\n\nقاری صاحب سیلانی کے پاس پہنچے کہ اس مصیبت سے کیسے جان چھڑائی جائے؟ سیلانی نے انہیں ایک تجربہ کار پولیس انسپکٹردوست کے پاس بھیجا کہ ان سے مل لیں۔ وہ ان سے مل آئے اور پھر حج بھی کر آئے۔ بڑے گھر کی زیارت کے بعد پھر پولیس کو ان کی یاد ستانے لگی اور وہ اٹھالیے ۔گئے اس بار وہ تیرہ روز کے لیے لاپتا ہوئے۔ انہیںایک پولیس ایجنسی نے اٹھایا اور تفتیش کی۔ ان کا سیل فون کا فرانزک کرایا۔ سب کچھ کلیئر ملا تو انہیں کلیئر کردیا گیا لیکن کب تک کے لیے!\n\nاسی طرح کی کہانی سیلانی کے ایک دوست عالم دین کی بھی ہے۔ شہر کے نامی گرامی عالم دین اور خطیب ہیں۔ جب افغانستان میں ہونے والے جہادکو سرکاری اور جائز ہونے کی سند حاصل تھی تب وہ ایک جہادی تنظیم کے سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ پاکستان میں کمانڈوکی حکومت بنی تویہ بھی رگڑے میں آگئے۔ کئی مہینے ایسے لاپتا رہے کہ دھوپ بھی ان کا پتا پوچھتی رہی۔ خدا خدا کر کے تاریک کوٹھڑی سے رہائی ملی اور اس حال میں گھر پہنچے کہ دس قدم چلنابھی مشکل تھا۔ ان کے لیے مشرف کا دور مصائب و آلام کادور تھا۔ خدا خدا کر کے کمانڈو رخصت ہوا۔ انہوں نے بھی سکھ کی سانس لی۔ پھر سیاسی میدان میں متحرک ہوگئے۔ جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے آزاد کشمیر کے انتخابات میں حصہ لیا جیت تو نہیں سکے، لیکن کئی ہزار ووٹ ضرور لیے۔ وہ بھی کئی بار بیرون ملک جاچکے ہیں، عمرے کر چکے ہیں ،ملک بھر میں اڑتے پھرے ہیں۔ کبھی کسی نے کہیں روکا نہ ٹوکا اب انہیں پتا چلا ہے کہ ان کا نام بھی فورتھ شیڈول میں ہے اور اب سے نہیں 2003ء سے ہے۔\n\nایک اور کہانی جماعت اہلسنت ولجماعت حب بلوچستان کے نوجوان رہنما کی ہے۔ جماعت اہلسنت والجماعت سے تعلق کو چھوڑ کر مولانا عتیق احمد کا کوئی جرم نہیں۔ ان پر کہیںپرکوئی مقدمہ نہیں، کوئی پرچہ ایف آئی آر نہیں، لیکن ان کا نام بھی فورتھ شیڈول میں ہے۔ یہ ملک سے باہر تو کیاشہر سے باہر نہیں جاسکتے۔ ان کے لیے تھانوں میں حاضریاںضروری ہیں۔ یہ جائیداد کا لین دین نہیں کر سکتے اور ظاہر ہے یہ نوکری بھی نہیں کرسکتے، بھلا کون فورتھ شیڈولیوں کو ملازمت دے گا؟ یہ بنک اکاؤنٹ نہیں استعمال کرسکتے، اس لیے یہ کسی فٹ پاتھ پرآلو چنے کی ریڑھی لگاسکتے ہیں یاکہیں پارکنگ میں گاڑیاں دھو سکتے ہیں۔ یہ اگر جوان لڑکیوںکے باپ ہیں تو ان کی بیٹیوں کے لیے سز اہے کہ گھروں سے ان کی ڈولیاں نہیں، جنازے اٹھیں گے۔ ہمارے معاشرے میں کون ایسے مشکوک لوگوں کی بیٹیوں کے لیے رشتے لائے گا۔۔۔\n\nسیلانی کو سمجھ نہیں آرہاہے کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ سے کیا کہے! انہیں کون سا سلیوٹ کرے اور محکمہ داخلہ کے کرتا دھرتائوں کی عقل و دانش کی کیسے نظر اتارے۔ پولیس پر تو بات کرنا ہی بیکار ہے یہ تو اسی کا بھینسا ہے جس کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی ہے۔ اسے جو حکم دیا جائے گا یہ وہی کرے گی کہ اس کر گزرنے میں اسے ’’بونس‘‘ بھی توملتا ہے۔۔۔ لیکن چوہدری صاحب! آپ خواص میں ہی سہی لیکن خدا پریقین تو رکھتے ہیں۔ نبی آخر زماں ﷺ پر ایمان تو ہے پھر یہ بھی جانتے ہوں گے کہ سرکار دو عالم ﷺ نے مظلوم کی آہ سے بچنے کا کہا ہے۔ اس آہ سے عرش لرز اٹھتا ہے۔ خدا کے لیے اس فورتھ شیڈول لسٹ پر نظر ثانی کا حکم دیں۔ جو لوگ واقعی معاشرے کے لیے خطرہ ہیں یا جن کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ پریشانیاں پیدا کرسکتے ہیں انہیں ضرور اپنے چیک پر رکھیے۔ کال کوٹھڑیوں میں ڈالیے یا مریخ پر بھیج دیجیے، لیکن قاری الیاس جیسے بیچاروں پر عرصہ حیات تنگ کرکے اس کی اور اس کی بیٹیوں کی آہ نہ لیں۔ آپ بھی بہن بیٹیوں والے ہوں گے۔۔۔ سیلانی یہ استدعا کرنے کے بعد چشم تصور میں قاری الیاس کو گھرسے گھسیٹتے ہوئے لے جاتے اور ان کی بیٹیوں کو ننگے سر اپنے باپ کے پیچھے دوڑتا دیکھنے لگا اوردل پر بوجھ لیے یہ سب افسردگی سے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا۔

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں