کیا ”عورت“ کا دکھ عورت جانتی ہے؟ فارینہ الماس

یہ بہت پرانا قصہ ہے، اس عمر کا آنکھوں دیکھا حال جب ابھی واقعات و حادثات کا ادراک تو تھا لیکن ان واقعات و حادثات کے پیچھے چھپے محرکات اور اسباب کا کچھ شعور نہ تھا۔اس یاد کی شبیہ کے ابھرتے ہی، پس منظر میں ٹرین کے ہلکوروں میں آواز کا نہ ٹوٹنے والے مدھم سا ردھم اور مسافروں کے آنے جانے، اٹھنے بیٹھنے، کا اک بے ترتیب سا شور بھی خیال کے پردے کو چاک کرنے لگتا ہے۔ ٹرین کا سفر ایک ایسا سفر ہوتا ہے جس سے وابستہ سبھی مسافر اور واقعات یاد کی تہہ در تہہ پرتوں میں لپٹ کر امر ہو جاتے ہیں۔ پھر کتنے ہی سال گزر جائیں، وقت کیسے کیسے اپنے اطوار بدل لے، لیکن ان یادوں کی پرتوں سے کچھ بھی مدھم یا بےترتیب نہیں ہوتا۔\n\nمجھے اس سفر کی وہ حسین اور خوبرو لڑکی آج بھی جب یاد آتی ہے تو خود بخود آنسو گلے کو نمکین بنانے لگتے ہیں، کیونکہ اس بھولی بھالی لڑکی کو اس پورے سفر میں میں نے آنسوؤں میں ڈوبا ہی پایا تھا۔گو کہ میں اتنی کم سن تھی کہ اس کے دکھ کو کریدنے یا بٹانے کا حق بھی نہیں رکھتی تھی لیکن مجھے اس کا دکھ اس کم سنی میں بھی اندر سے چیر کے رکھ گیا تھا۔ میری بڑی آپا اس سمے میرے ساتھ تھیں۔ ان سے جب رہا نہ گیا تو انہوں نے اس سے اس کا دکھ جاننے کا فیصلہ کر ہی لیا۔ وہ معصوم سی لڑکی پہلے تو جھجکی، پھر گویا ہوئی ”یہ میری زندگی کا پہلا سفر ہے جو میں اکیلے طے کر رہی ہوں۔“ اپنی کشادہ اور بھیگی ہوئی آنکھوں کو دوپٹے کے کونے سے رگڑتے ہوئے وہ بمشکل بولی۔ آپا یہ جاننا چاہتی تھیں کہ وہ یہ سفر تنہا کیوں کر رہی ہے۔ پھر ہولے ہولے اس نے اپنے دل کا درد آپا کے سامنے عیاں کرنا شروع کیا۔\n\nوہ دراصل لاہور کی ایک اعلیٰ درسگاہ کی تعلیم یافتہ تھی اور بیاہ کر کر اچی گئی تھی۔ اس کی شادی کو ابھی پندرہ یا بیس دن ہوئے تھے۔ وہ پنجاب کی ثقافت میں پلی بڑھی ایک تعلیم یافتہ اور باشعور لڑکی تھی اور اب اک نئی ثقافت کو اپنانے اور اوڑھنے گئی تھی۔ اس کی شادی ذرا برابر بھی بےجوڑ نہ تھی۔ دونوں ہی خاندان مسلمان اور ایک اکثریتی فرقے کے حامل تھے۔ لڑکی کی طرح لڑکا بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ انجینئر تھا۔ ہاں شاید مادری زبان کا ایک فرق تھا جو کوئی فرق نہیں تھا، شاید دو صوبوں اور دو مختلف ثقافتوں کا فرق بھی تھا اور لیکن یہ بھی کوئی خاص فرق نہ تھا۔ پھر ایسا کیا ہوا جو محض پندرہ یا بیس دن بعد ہی لڑکی کو طلاق دے کر یوں تنہا ریل گاڑی میں بٹھا کر شہر بدر کر دیا گیا تھا۔ وہ پھر سے آنسوؤں کے سمٹے ہوئے طوفان کے آگے بےبس ہو کر ہچکیوں کی زد میں آگئی\n”میرا قصور تو کچھ بھی نہیں تھا، بس اتنا کہ مجھے ان کے ماحول اور کلچر کو سمجھنے کے لیے کچھ وقت درکار تھا۔ مجھ سے اک ذرا سی غلطی ہوئی تھی، میں نے گرمی اور حبس کے باعث اپنے بیاہ کی کانچ کی چوڑیاں توڑ دیں، کیا کرتی وہ ایسی تنگ تھیں کہ اتر نہیں رہی تھیں۔لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ میرا یہ جرم ناقابل معافی ہو جائے گا۔“\nوہ اپنی سونی سونی بانہوں کو دیکھ کر تڑپ کر رہ گئی۔ میں نے بہت کہا کہ میری کوئی غلطی نہیں۔ یہ سب نادانی میں ہوا، ناسمجھی میں ہوا۔ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی لیکن میری ساس بس یہی کہتی جا رہی تھیں کہ\n”تم نے اپنے سہاگ کی چوڑیاں توڑ کے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ تم میرے بیٹے کی جان لینا چاہتی ہو۔ اس کی موت کی آرزو کرتی ہو۔ اب تم یہاں اک پل بھی نہیں رہوگی، تمہیں واپس جانا ہوگا۔ تم منحوس ہو، منحوسیت کا سبب ہو.“\n”میرے شوہر ایسا نہیں چاہتے تھے جبھی وہ گاہےگاہے اپنی اماں کو سمجھاتے رہے لیکن وہ ایک نہ مانیں اور اپنے ماں ہونے کا حق میری طلاق کی صورت میں مانگ لیا۔ اور اب پتہ نہیں میرے ماں باپ یہ صدمہ کیسے سہار پائیں گے؟ میں کیا کروں انہیں کیسے اس منحوس خبر سے بچاؤں؟“\nوہ شدت جذبات سے بے قابو تھی لیکن ہمارے پاس اس کی روکھی سوکھی ڈھارس کے سوا اور کچھ نہ تھا۔\n\nیہ میری زندگی کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں ایک عورت کی طرف سے دوسری عورت پر ڈھایا جانے والا ظلم عیاں ہوا۔ اسے یاد کرتی ہوں تو آج بھی سوچتی ہوں کہ ایک عورت اتنی سنگ دل کیسے ہو سکتی ہے؟ لیکن اب تو ایسے ان گنت واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہوں۔\n\nملیحہ ایک سلجھی ہوئی، باشعور اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی ہے۔ وہ ایک پرائیویٹ اسکول میں ملازمت کر کے اپنے شوہر کا ہاتھ بھی بٹاتی ہے اور گھر آنے کے بعد دن بھر گھریلو معاملات بھی دیکھتی ہے۔ یہ سب اسے پھر بھی اعصاب شکن محسوس نہیں ہوتا، لیکن اس کی زندگی کا مستقل روگ اس کی بڑی بیٹی ہے جو پیدائشی طور پر معذور ہے۔ اور یہ روگ اس کی ہر خوشی کو نگل چکا ہے۔ لیکن وہ تو مجرم یا قصور وار نہیں۔ کیا ابنارمل بچہ پیدا ہونا ایک ماں کا قصور ہے۔؟ لیکن اس کی ساس اسے ہر پل احساس دلاتی ہے کہ یہ اس کا اپنا قصور ہے۔ وہ اس کی معذور بچی کو اپنے پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتیں کیونکہ انہیں یہ ڈر رہتا ہے کہ کہیں وہ انہیں کوئی نقصان پہنچانے کا باعث نہ بن جائے. وہ تو اپنی دونوں چھوٹی بہوؤں کو بھی اس بچی سے دور رکھتی ہے کہ مبادا ان پر اس بچی کا سایہ پڑنے سے ان کے گھر بھی ایسی ہی اولاد کا جنم ہو جائے۔ ملیحہ کو جب دن بھر کی مشقت سے فرصت ملتی ہے تو وہ سکھ کا سانس لینے کے بجائے اس نفرت کی بوئی فسردہ دلی سے آنسو بہا کے اپنے من کا بوجھ ہلکا کر لیتی ہے۔\n\nایک عورت دوسری عورت کا اور ایک ماں ایک دوسری ماں کا درد سمجھنے سے قاصر ہے، کیسی عجیب اور دل شکن بات ہے۔ یہ اور ایسے بہت سے لاتعداد واقعات ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ عورت کو اس معاشرے کی جس بدسلوکی کا سامنا ہے، اس میں مرد کے نامناسب رویے کے علاوہ خود عورت کے حسد، بدلے اور نفرت کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اس سچائی کی گواہی کے لیے حالیہ ایسے بہت سے واقعات بھی کافی ہیں جو اب بہت تواتر سے ہونے لگے ہیں۔\n\nزینت ایک انتہائی معصوم لڑکی تھی لیکن اس کے ایک جرم نے خود اس کے گھر والوں کی نظر میں اس کے کردار اور چال چلن کو رذیل قرار دے دیا۔ اس نے حسن خان نامی ایک شخص سے پسند کی شادی کی تھی۔ وہ ماں باپ، بہن بھائی سب کو چھوڑ کر اپنے محبت کرنے والے مہربان شوہر کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بتانے لگی تھی۔ وہ محلے کی بچیوں کو قرآن بھی پڑھاتی تھی، یعنی لوگ اس کے کردار کی پاکیزگی کے قائل تھے جو اپنی بچیاں اس کے پاس بھیجتے۔ لیکن اس کے دھوکے کی وجہ سے سب سے زیادہ تو اس کی ماں کے سر پر ہی خون سوار تھا۔ اور آخرکار اس نے بدلہ لینے کی خاطر 8 جون2016ء کے دن اپنے بدن کی جنی اولاد کو آگ کے شعلوں میں بھسم کر کے اپنے دل میں جلنے والی آگ کو بجھا لیا۔ ماہم زینت کی شاگردہ تھی، اس نے اپنی جل کر کوئلہ ہوئی استانی جی کو دیکھا تو اتنا سہم گئی کہ ساری رات رو رو کر اپنی ماں سے سوال کرتی رہی\n”ماں! زینت باجی کی ماں نے انہیں کیوں جلا دیا۔ کیا ایک ماں ایسا کر سکتی ہے؟“\nاور اس کی ماں اسے تمام رات یہ یقین دلاتی رہی کہ وہ ایسی ماں نہیں اور وہ اپنی راج دلاری سے بہت پیار کرتی ہے۔ وہ اسے کبھی نہیں مارے گی۔\n\nزیادہ دور کی بات نہیں ٹھیک اسی سال اسی مہینے ایک اور ماں نے گوجرانوالہ میں پسند کی شادی کرنے پر اپنی بیٹی کا گلہ کاٹ کر اسے موت کے گھات اتار دیا، جبکہ اس کی بیٹی اپنے سسرال میں خوش تھی اور ایک عدد بیٹے کی بھی ماں بن چکی تھی۔ غیرت کے نام پر بیلجئیم میں قتل ہونے والی پاکستانی لڑکی”سعدیہ شیخ“ کی ماں اور بہن کو بھی اس کے باپ اور بھائی کے ساتھ قتل کا معاون ثابت ہونے پر عدالت نے بیس سال اور پانچ سال کی سزا سنائی۔\n\n”عورت “ جسے صنف نازک یا جنس لطیف کا نام دیا جاتا ہے۔ اسے زندگی کے معاملات کو احسن طور پر چلانے میں مرد پر فوقیت حاصل ہے لیکن نجانے کیوں عورت زمانہ ازل سے ہی معاشرے کے ظلم و جبر کا شکار رہی۔ یونان کی تہذیب انسانی تہذیب کا نقطہ آغاز سمجھی جاتی ہے لیکن اس میں بھی عورت کا مقام حوصلہ افزا نہ تھا۔ مشہور زمانہ فلسفی سقراط ہی کے قول سے آپ اس دور میں عورت کی قدر و منزلت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ ”عورت سے زیادہ فتنہ و فساد کی چیز دنیا میں اور کوئی نہیں“. اس دور میں عورت کی حیثیت محض ایک غلام کی سی تھی۔ اس دور میں بھی دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے عورت کی جان کی قربانی دی جاتی تھی۔ یونانیوں کے دل عورت کے لیے کسی قسم کے رحم یا مروت سے عاری تھے۔ اس کے چال چلن کی بابت معمولی سے شبے پر بھی اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ اب قدیم روم کی صورتحال دیکھیں. ابوالکلام آزاد ”رومن سلطنت کے زوال“ میں لکھتے ہیں: ”روم میں عورتوں پر گوشت کھانا، ہنسنا بولنا اور بات چیت کرنا حرام قرار دے دیا گیا تھا.“ یہودیت میں بھی عورت کی کوئی قدر و منزلت نہ تھی۔ یہودی تو بائبل میں درج”آدم و حوا“ کے واقعے کے مطابق عورت کو تمام تر واقعے کا قصور وار ٹھہراتے اور اسی لیے ان کا ماننا تھا کہ حوا کی بیٹیاں ہمیشہ محکوم ہی رہیں گی۔ عیسائیت میں عورت ایک برائی، آفت اور وسوسوں کا باعث سمجھی جاتی۔ زاہد و عابد لوگ اس کے سائے سے بھی دور بھاگتے۔ ہندومت کی کئی رسمیں عورت کی تذلیل اور اس پر ظلم کا باعث بنتیں۔ ستّی اس میں سے ایک ایسی رسم ہے جو آج بھی بھارت کے کسی نہ کسی حصے میں موجود ہے۔\n\nاسلام کی آمد سے قبل کا عرب معاشرہ دیکھ لیں جہاں لڑکی کو جنم کے بعد ہی زندہ دفن کر دیا جاتا۔ اسلام کی آمد کے بعد آپ کے حضور ایک شخص حاضر ہوا اور بتانے لگا کہ کس طرح دور جہالت میں اس نے اپنی بیٹی سے چھٹکارہ پانے کے لئے اسے ایک کنویئں میں دھکیل دیا ۔آپ نے جب یہ واقعہ سنا تو آپ کو اتنا گہرا صدمہ اور رنج لاحق ہوا کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی۔ اسلام نے حقیقی معنوں میں نہ صرف بیٹیوں سے الفت اور پیار و محبت کا درس دیا بلکہ اسے معاشی، معاشرتی اور قانونی حقوق بھی عطا کیے۔\n\nسترھویں صدی کے انقلاب فرانس سے قبل یورپ میں بھی عورتیں اپنے بنیادی حقوق سے محروم تھیں. انقلاب فرانس کے بعد آزادی نسواں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس دور میں فیمنزم کی تحریک شروع کی گئی۔ اس تحریک کا مقصد عورت کو اس کے حقوق اسے مرد کی برابری کی بنیاد پر عطا کرنا تھے۔ اس انقلاب نے عورت کو زندگی کے ہر میدان میں مرد کے برابر لا کھڑا کیا۔ اس کے وجود کی اہمیت کو تسلیم کرنے کے لیے عالمی کانفرنسیں منعقد ہوئیں لیکن کسی بھی معاشرے سے عورت پر ہونے والے ظلم کا خاتمہ تا حال نہیں ہو سکا، بلکہ دیکھا جائے تو اس ظلم کی شدت اور نوعیت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہی ہوا ہے۔ فیمنزم کی تحریک کے مضمرات یہ ہیں کہ عورت کی برابری کے اصولوں نے اسے مرد کے برابر گردانتے ہوئے ذریعہ معاش اپنا کر کاروبار زندگی چلانے کا حق تو دے دیا ہے لیکن اس حق نے اسے کوئی سہولت دینے کے بجائے محض اس کی ذمہ داریوں میں ہی اضافہ کیا ہے۔ فیمنسٹ تحریکوں کے عروج سے مرد اور عورت کا ٹکراؤ اور بھی شدت اختیار کر چکا ہے۔اس ٹکراؤ کی ایک بڑی گواہی دنیا میں طلاق کی بڑھتی شرح ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں آج بھی والدین لڑکیوں کو زمانہ جہالت کی طرح ہی اک بوجھ سمجھتے ہیں۔ ہم مرد کو اس سارے قصے میں حریف قرار دے کر عورت سے اس کی جنگ و جدل کے معاملے کو تو خوب اٹھاتے ہیں لیکن اس ظلم پر بات نہیں کرتے جو خود عورت کو عورت کے ہاتھوں اٹھانا اور سہنا پڑتا ہے۔\n\nہمارے مشرقی معاشرے میں عورت کے معاملے میں عورت بھی اتنی ہی قصور وار ہے جتنا کہ مرد۔ ایک مرد تو دن بھر کمانے کی مشقت میں جتا رہتا ہے اور ایک ماں جو اپنے بچوں کے قریب ہوتی ہے، آیا وہ اپنے بیٹے کو ایک عورت کا احترام اور عزت کرنا سکھاتی ہے؟ کیا وہ خود اپنے طور پر اپنی بیٹی کو اپنے بیٹے کے برابر حقوق ادا کرتی ہے؟ یہاں سچائی تو یہ ہے کہ مڈل کلاس میں عموماً یہ رواج پایا جاتا ہے کہ ایک ماں اپنے بیٹے کو تو اچھی غذا دیتی ہے اور اپنی بیٹی کو اس سے کم تر۔ اسی طرح وہ اپنے بیٹے کی خواہشات تو جیسے تیسے پوری کر دیتی ہے، لیکن بیٹی کو سمجھا بجھا کر خاموش کرا دیتی ہے۔ ایک ماں ہی خود اپنی بیٹی کو خود پر ہونے والی زیاتیوں پر خاموش رہنے کا درس دیتی ہے۔ وہ اسے اپنے باپ یا بھائی کے سامنے اپنے حق کی بات کرنے سے روکتی ہے۔ وہ اسے سکھاتی اور سمجھاتی ہے کہ اس کا بھائی اس کا رکھوالا ہے۔ وہ اسے باہر نکلتے ہوئے ہمیشہ بھائی کو ہمراہ لے جانے کی تلقین کرتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کو بہتر کردار اپنانے کی تلقین سے زیادہ اپنی بیٹی کو باکردار اور پاکیزہ رہنے کا درس دینا اہم سمجھتی ہے۔ ماضی میں ہونے والے عورت پر تشدد کے ڈھیروں واقعات ایسے ہیں جن میں ایک عورت نے مرد کے ساتھ مل کر اپنی بہو کو جہیز نہ لانے کی پاداش میں زندہ جلا دیا۔ ہزاروں واقعات ایسے ہیں جن میں ایک عورت کی وجہ سے دوسری عورت کو طلاق ہوئی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ خواتین پر ہونے والے ظلم میں کمی ہو تو کم ازکم مرد کا مقابلہ کرنے سے پہلے عورت کو خود عورت کے ظلم سے نجات دلانی ہوگی۔ شاید مرد تو ازل سے عورت کو حقیر سمجھ کر اس کو رگیدتا اور مسلتا آیا ہے اور ابد تک اس کی سوچ بدل نہ سکے لیکن عورت کو عورت کے ظلم سے بچا کر کم سے کم عورت کے پچاس فیصد مسائل توحل کیے جا سکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */