اکرم شیخ ایڈووکیٹ کا شکریہ - سردار جمیل خان

سردار جمیل خان یہ تو اچھا ہی ہوا کہ اکرم شیخ ایڈووکیٹ نے صدرریگن، گوربا چوف، کنگ فیصل، صدام حسین، سلمان ڈیمرل، جان میجر اور کوفی عنان کا کوئی خط پیش کرنے کے بجائے سپریم کورٹ میں ایک قطری باحیات اور صحتمند شہزادے کا خط پیش کر دیا۔\nاب اگر انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے حکم پر نواز شریف کو کلین چٹ دلوانے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو پھر انا للہ و انا الیہ راجعون، بصورت دیگر نواز شریف اور پسران و دختر اپنے 99 رنگے متضاد بیانات کی وجہ سے ہر دوصورتوں میں پھنس گئے ہیں۔ اب عمران خان یا سراج الحق سمیت کسی کو ثبوت پیش کرنے کی ضروت نہیں رہی کیونکہ ثبوت تو آچکا ہے۔\n\nاب سوال صرف یہ ہے کہ:\nکیا آف شور کمپنیوں کے کاروبار اور منی لانڈرنگ میں ملوث شیخ القطر فلیٹ نمبر 16/16 اے اور فلیٹ نمبر 17/17 اے کے ملکیتی پیپرز (یو کے) اور ٹیکس پیڈ ڈاکومنٹس (قطر) کے ساتھ سپریم کورٹ میں تشریف لائیں گے؟\nشیخ القطر آتے ہیں اور سب کچھ درست ثابت بھی کرتے ہیں تو کیا 1980ء میں پیسہ منتقل کرنے اور متضاد بیانات کو لے کر نئے گھمبیر سوالات کھڑے نہیں ہوں گے؟\nاور اگر نواز شریف کے فرنٹ مین سیف الرحمن کی ریڈکو انٹرنیشنل کے آنر شیخ القطر نہیں آتے تو سپریم کورٹ اس جعل سازی کا نوٹس لیتے ہوئے اس خط کو سموسوں پکوڑوں سمیت ردی کی ٹوکری میں نہیں پھینک دے گی؟\n\nعمران خان اور سراج الحق کے وکلاء عدالت سے نواز شریف، مریم نواز اور ان کے بیٹوں کے مختلف اوقات میں دیے گیے بیانات، انٹرویوز اور تقاریر کو عدالتی کاروائی کا حصہ بنانے کی استدعا کرنے کے ساتھ ساتھ یہ استدعا بھی کریں کہ سپریم کورٹ خط کو درست مان کر شیخ حامد بن جاسم بن جبر الثانی کو عدالت میں طلب کرے ۔ پھر دودھ کا دودھ اور پانی پانی کا پانی بھی ہو جائے گا نیز یہ بھی ثابت بھی ہو جائے گا کہ اگر کوئی ڈڈو کسی خواجے کا گواہ بن جائے تو ضروری نہیں کہ خواجہ بچ ہی جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */