بہن کے سراپے کی بحث اور ناہید اختر کے پکوڑے! محمد فیصل شہزاد

واہ واہ… وہ بھی کیا جادو بھری شام تھی…سرمئی سرمئی، بھیگی بھیگی اور ملائم سی!\nگرچہ بمشکل پانچ بجے ہوں گے مگر پراسرار سا دھندلکا یوں ہر سو چھا رہا تھا جیسے کسی جادوگرنی نے سحر پھونک دیا ہو یا کسی شوخ نے اپنی سرمگیں آنکھوں کا کاجل فضا میں بکھرا دیا ہو… \nہم پانچ دوست اس حسیں شام سمندر کے کنارے ایک جھونپڑ ہوٹل میں بیٹھے تھے…اُدھر ننھی منی بوندوں کی رم جھم، یخ بستہ شور مچاتی ہوائیں اور سالخوردہ ٹیپ ریکارڈر سے پھوٹتی ناہید کی سریلی آواز ’’برسات کا موسم ہے صنم چھوڑ کے نہ جاؤ…‘‘\nاور\nاِدھرخستہ باقر خانی کے ساتھ بھاپ اڑاتی دودھ پتی چائے… ڈن ہل کے نازک سگریٹ، اس کا بل کھاتا خوشبو دار دھواں اور… ہم!\nکیا سحر آگیں خوابناک سماں تھا…اور ہلکی پھلکی نوک جھونک کرتے، ہنستے ہنساتے کتنا خوش تھے ہم کہ اچانک… ایک دوست کو دانش وری کی سوجھی…\n’’یارو! دنیا کی ہر بات کےدو پہلو ہوتے ہیں… ایک مثبت پہلو دوسرا منفی… سمجھ داری کا یہی ثبوت ہے کہ ہر بات کے مثبت معنی لیے جائیں…نہ کہ منفی…‘‘\nاس کی نگاہیں موبائل کی اسکرین پر تھیں اور شاید فیس بک اوپن تھی۔\nباقی تین دوستوں میں سے دو دوست سر ہلانے لگے مگر میں اس کی بات کا پس منظر سمجھ گیا تھا، سو اختلاف کیا:\n’’نہیں یار!بظاہر تمہاری بات بڑی خوبصورت ہے مگر حقائق کی دنیا میں اس کی کوئی حیثیت نہیں… ہر ایرے غیرے کی ہر چول کو زبردستی موڑتروڑ کے مثبت لباس پہنانا ایسا ہی ہے جیسے گدھے پر زیبرے کی طرح دھاریاں بنا کر اسے زیبرا باور کرانا… کہ گدھی کو دیکھ کر بہرحال اسے رینکنا ہی ہے…اس سے تو دنیا میں اچھے برے کی تخصیص ہی ختم ہو جائے گی اور ہر برائی اچھائی قرار پائے گی جس کے فتنہ ہونےمیں کوئی دو رائے نہیں ہے… پھر تو ابلیس لعین کے خدائے تعالیٰ کے سامنے اکڑنے اور دلیل دینے کی بھی اچھی سی تاویل کر لو…‘‘\n’’لو بات کو الجھانا تو کوئی تم سے سیکھے…‘‘ وہ بل کھا کر بولا۔ ’’یہ بتاؤ خوش گمانی کا حکم ہے کہ نہیں جو خود آپ بھی اکثر اپنی پوسٹس میں کہتے رہتے ہو…‘‘ طنزیہ انداز سے اس نے جملہ مکمل کیا۔\n’’جانو خوش گمانی الگ شے ہے، جوکسی بھی مسلمان کے ساتھ مبہم معاملات میں کی جاتی ہے اور کی جانی چاہیے… مگر کسی بدیہی اور کھلی بات، جسے عرف عام میں ایک مخصوص معنوں میں ہی سمجھا جاتا ہے… کے لیے عقل کا تقاضا ہے کہ جو کہا جا رہا ہے، وہی سمجھا جائے…اپنی طرف سے دانشوری نہ بگھاری جائے … جب تک کہ قائل اپنی بات کے مثبت معنی کے لیے کوئی ایسی عقلی دلیل نہ دے جسے عقل عام تسلیم کرے… ورنہ عرف تو ایسی چیز ہے کہ اس کا اعتبار شریعت نے بھی کیا ہے اور عرف سے مراد وہ قول یا فعل ہے جو کسی ایک معاشرے یا تمام معاشروں کے تمام لوگوں میں ایسا روا ج پا جائے کہ وہاں کا پڑھا لکھا، ان پڑھ، بڑا بچہ سب بے ساختہ اس سے ایک ہی بات مراد لیں!‘‘\nہم نے ذرا سانس لی تھی کہ وہ بول پڑا:\n’’بات بات میں شریعت کی بات کرنے والو! میرا دکھ ہی یہی ہے کہ اس معاشرے نے کچھ الفاظ و افعال کو اپنے غیر اخلاقی عرف کا جامہ پہنا رکھا ہے، اور اس کے نتیجے میں اخلاقی بحران ہی جنم لے رہا ہے… مشکل بس یہ ہے کہ ہم نے اس پر تقدیس کا غلاف ڈال رکھا ہے…‘‘\n’’اب یہاں تمہاری تقدیس باجی کہاں سے آ گئیں، اچھا برسبیل تذکرہ یہ بتاؤ تمہاری باجی تقدیس کا کرنٹ افیئر کیسا رہا؟‘‘\nیکدم سناٹاسا چھا گیا…وہ ناقابل یقین انداز میں مجھے گھورنے لگا…جیسے اسے یقین نہیں آ رہا کہ میں کیا کہہ گیا ہوں۔\n’’کک کیا ہو گیا… میرا مطلب ہے کہ ہماری بہن کا کرنٹ افیئر کا پیپر کیسا رہا؟…تت تم کچھ غلط تو نہیں سمجھ رہے ناں… میں بس ایک ہی لفظ تو بولنا بھول گیا تھا… بڑے افسوس کی بات ہے یار… تم مجھے جانتے بھی ہو کہ تمہارا کتنا گہرا دوست ہوں… تمہیں بہرحال میرے الفاظ کو تو ضرور ہی مثبت معنی دینے چاہیے تھے!‘‘\nوہ چونکا تھا… اس کی نگاہوں میں کچھ لہرایا سا تھا… جب کہ باقی دوستوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی تھی۔\n’’اچھا چھوڑو، یہ بتاؤ اگرکوئی تمہارے ابو جان کو شاہین سے یا شیر سے مشابہت دے تو کیا تمہیں غصہ آئے گا؟… نہیں ناں… کیوں کہ ہمارے ہاں کے عرف میں شاہین اور شیر بہادری، شجاعت اور خودداری کی علامت ہیں، مگر کوئی کمینہ انکل کو الو اور تمہیں الو کا پٹھا کہے تو تم کیا کرو گے؟ … اصولا تو تمہیں ناراض نہیں بلکہ خوش ہو کر اسے گلے لگا لینا چاہیے کیوں کہ گرچہ ہمارے ہاں عرف عام میں الو حماقت کا دوسرا نام ہے… مگر مغربی ممالک میں تو دانش کا دوسرا نام ہے… ہے کہ نہیں؟… تو تم تب فورا اس کے مثبت معنی کیوں متعین نہیں کرتے…اچھا چھوڑو یہ بتاؤ کہ یہ تمہاری باجی ناہید اختر جو لہک لہک کر گا رہی ہے … برسات کا موسم ہے صنم چھوڑ کے نہ جاؤ\nاس کا اول وہلے میں وہ واضح اور ایک مطلب کیا ہے جو یہاں موجود ہر ایک کے ذہن میں فورا آ رہا ہے؟‘‘\nوہ ناہید اختر کو باجی کہنے پر مجھے کینہ توز نظروں سے ایک بار پھر گھورتا رہ گیا… دوسرا دوست بولا:\n’’یار بحث اپنی جگہ مگر ایسے اوچھے وار کرنا ٹھیک بات نہیں…‘‘\n’’کیا مطلب اوچھے وار… ناہید اور اس کے گائے جانے والے 'کلام' پر 'اعضاء کی شاعری' پیش کرنے والی خاتون دونوں مسلمان اور پاکستانی فنکارہ ہیں… اپنے فن میں ماہر قابل احترام خواتین تم انہیں مانتے بھی ہو تو اگر باجی کہہ دیا تو کیا برا کہا … تم لوگ تو ہی بات بے بات یہ طعنہ دیتے ہو کہ یہ روایتی لوگ عورت کو محض ایک غیر مرد کی نگاہ سے ہی د یکھتے ہیں، تو کیوں نہ تم اسے باجی کی نگاہ سے دیکھ لو … اور وہ جو کہہ رہی ہے، خوب خوب 'غورو فکر' کروتو اس گیت میں بھی کوئی ذو معنویت نہیں…\n’برسات کا موسم ہے صنم چھوڑ کے نہ جاؤ‘\nاس کا ایک مطلب یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ تمہاری باجی صنم کسی غیر محرم محبوب کو نہیں، تمہارے بہنوئی یعنی اپنے شوہر سے التجا کر رہی ہے… اور محض اس لیے کہہ رہی ہے کہ برسات میں اسے اکیلے میں بہت ڈر لگتا ہے… اور وہ تمہارے بہنوئی کو برسات کے موسم میں پکوڑے بنا کر کھلانا چاہتی ہے…سالے صاحب!‘‘\n’’بس بس بہت ہو گیا… تم بولے ہی جا رہے ہو… جو منہ میں آ رہا ہے اول فول… پہلے بولنے کا سلیقہ سیکھو، ذراکوئی اختلافی بات کر دے تو تم لوگ فورا ذاتیات پر اتر آتے ہو…‘‘\nغصے سے سرخ ہوئے چہرے کے ساتھ اس نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا تھا، چائے چھلک گئی تھی۔\n’’اوہو آخر کس بات پر آ گیا غصہ؟…اب اس میں ذاتیات کہاں سے آ گئی…تم ہی تو کہہ رہے تھے کہ ہر بات کا مثبت پہلو لینا چاہیے… میں نے بھلا کوئی گالی تو نہیں دی گرچہ دیتا تو تم پر واجب تھا کہ اس کے بھی مثبت معنی ’دریافت‘ کرتے… مگر میں نے بہرحال گالی نہیں دی بلکہ محض وہ باتیں کہی ہیں جو اپنی حقیقت میں گرچہ درست ہیں مگر انہیں ہمارے معاشرے میں یوں بیان نہیں کیا جاتا… کوئی بھی اپنی ماں کو اپنے باپ کی بیوی کہہ کر نہیں پکارتا… اور لفظ سالا تو باقاعدہ ہمارے معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے… کیوں گالی ہے؟… جب کہ سالے تو ہم سب کے ہیں اور تقریباً ہم سب ہی کسی کے سالے ہیں… تم میری اور اپنی ہی مثال لو…کیا میری بیوی تمہاری دینی و اخلاقی حیثیت سے بہن نہیں ہے… تو میں اگر تمہیں سالا کہوں تو کیوں برا لگتا ہے تمہیں؟\nسو جان من یہ خوش نما باتیں کتابوں میں رہنے دو اور معاشرے کے اجتماعی شعور کو سمجھو… ہمارے ہاں بہنوں اور بیٹیوں کو جب ذرا بڑی ہو جائیں تو… دل میں سمندروں کی سی محبت رکھنے اور ان پر جان، مان، عزت آبرو قربان کرنے کے باوجود ہم انہیں نگاہ بھر کے نہیں دیکھتے کہ ہمارے ہاں تو حیا کا یہی دستور ہے… چہ جائیکہ ان کے سراپے کے بارے میں ہم سے پوچھا جاوے…‘‘\nمیں چپ ہوا تو اک طویل خاموشی چھا گئی تھی۔\nیکایک بادل زور سے گرجے… سب چونک اٹھے…میں نے لپک کر اسے گلے لگا لیا… بات آئی گئی ہو گئی مگر\nبہرحال ایک یونیورسٹی کے نامعلوم گھامڑ ممتحن نے ہماری اس حسین شام کو برباد کر دیا تھا… اللہ کرے اس کی بھی شامیں برباد ہوں… ٹھرکی کہیں کا!

Comments

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد

محمد فیصل شہزاد کو شوق 10 سال قبل کوچہ صحافت میں لے گیا۔ روزنامہ اسلام اور روزنامہ ایکسپریس میں کالم لکھتے رہے، طبی میگزین جہان صحت، ہفت روزہ خواتین کا اسلام، ہفت روزہ بچوں کا اسلام اور پیام حق کے مدیر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.