”کپتان ڈکشنری“سے تین الفاظ - انعام مسعودی

جسٹس، نالج، ٹالیرنس ۔۔۔ یہ تین الفاظ اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم تقریب میں سٹیج پر رکھے ڈائس کی پیشانی پرنظر آئے۔ کہنے کو تو یہ محض تین الفاظ ہیں مگرعمل کے رنگ میں ڈھل جائیں تو کو ئی بھی بڑا مقصد منزل بنا کر سامنے لا سکتے ہیں۔ مگر کیا کیجیے پاکستان کی سیاست اور حکومت کے پردہِ اسکرین پر نہ صرف ان کا مفہوم الگ ہے بلکہ کوئی ذی شعور عُجلت، جذباتیت اور سطحیت سے نکل کر ان کو غور سے پڑھنے کی کو شش بھی نہیں کر رہا۔

کنونشن سنٹر اسلام آباد میں ہونے والی پاکستان تحریک انصاف کی طلبہ تنظیم انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیراہتمام تقریب کے شرکاء نے حسبِ سابق لگ بھگ دو درجن سے زائد بار میر کارواں جناب عمران خان کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ حسب معمول اپنی تقریر شروع کرنے سے قبل مجمع کنٹرول کرنے کے لیے اپنے گلے کی پوری قوت کے لگانے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھوں کو بھی استعمال کریں، اپنے لہجے کا زور بھی لگائیں اور چہرے کے تاثرات سے سب بھی کام لیں۔گویا ابلاغ کے تمام تر ذرائع کو بروئے کار لائے بنا یہ مرحلہ کبھی سر نہیں ہو سکتا۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کی ”تبدیلی“ کو جس سب سے بڑی ”تبدیلی“ کا سامنا ہے وہ یہی ہے کہ سب کی اپنی اپنی ”تبدیلی“ ہے۔ کوئی بھی کسی دوسرے کو سننے اور ماننے کا روادار نہیں۔ دوسری بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب لفظ تبدیلی بھی ان چند گھسے پٹے الفاظ میں شامل ہو چکا کہ جو اپنے مثبت معنی کھوچکے ہیں یا پھر رفتہ رفتہ کھو رہے ہیں۔ تحریرمیں موجود تفریح برطرف کرکے اگر ذرا سنجیدہ بات کی جائے تو یہ کسی المیے سے کم نہیں ہے کہ پاکستان میں وہی عمران خان جو چند برس قبل ایک امید، ایک روشنی اور خوشی کی علامت بنا تھا، وہ رفتہ رفتہ محض ایک روایتی سیاست دان بنتا جا رہا ہے۔ نیا پاکستان سوچنے والوں، منفرد ملک دیکھنے کی خواہش رکھنے والوں اوراپنے پیارے وطن کے بارے میں اچھا اور مثبت سُننے کے لیے منتظر رہنے والے حساس پاکستانیوں کو اب کیسے یہ سمجھایا جائے کہ ”وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحرتو نہیں.“

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف حکومت کا پہلا سال۔چند سوال ، جواب - محمد عامر خاکوانی

جس دن سے عمران خان نے پُرانے، مفاداتی اور درباری سیاستدانوں کو اپنی صفوں میں جگہ دی اوران کو اپنی بیساکھیاں اور ہاتھ پائوں بنایا، اُسی دن سے اس خرابی کا آغاز ہوگیا تھا۔ لگ بھگ ایک برس پہلے بھی یہ مثال دی تھی کہ ”کڑوے دودھ کا دھی کبھی میٹھا نہیں بن سکتا“ تو چلے ہوئے کارتوس کیا حاصل کر کے دے سکتے ہیں۔ بہت سے سنجیدہ لکھاریوں اور دانشوروں نے کِس تواتر کے ساتھ یہ سمجھانے کی کو شش کی کہ جو وقت تنظیم سازی کا تھا، وہ کسی اور کام میں ضائع گیا اور جو وقت اپنی کارکردگی بڑھا کر اسے دکھانے اورشو کیس کرنے کا تھا، اُسے صرف ایک مہم جوئی میں ضائع کر دیا گیا۔ اگر اپنی خوبیوں اور اچھائیوں کو پہچان کر اور اپنی کمزوریوں کو جان کر آگے بڑھنے کا کام کوئی اہمیت نہیں رکھتا تو محض احتجاجی سیاست کیا تبدیلی لا سکے گی۔ نجانےوہ ہزاروں، لاکھوں خاموش سپورٹرز جنہوں نے عمران خان کو ووٹ کیا تھا اب اگلی بار اپنے گھروں سے باہر بھی نکلیں گے یا نہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ میری یہ تحریر عمران خان پر تنقید سمجھ کر مطعون کی جائی گی اور سوشل میڈیا پر شاید ایسے ایسے القابات سننے کو ملیں جو پہلے ڈکشنری میں نہ تھے مگر سچ تو یہی ہے کہ اب کوئی تبدیلی چاہنے والا کیسے اس کی پھر سے تمنا کرے گا۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام اور معاشرہ مجموعی طور پر تبدیلی کی خواہش رکھنے کے باوجود ہمیشہ کو ئی واضح سائیڈ نہیں لیتا اور جنرل ووٹر آخری وقت تک بین بین ہی رہتا ہے وہاں ایک بار پھر زیادہ امکانات اسی بات کے ہیں کہ پہلے والے حالات ہی برقرار رہیں گے اور نتیجتاً ”سٹیٹس کو“ کے پرانے کھلاڑی بازی پھر لے اُڑیں گے۔ یہ بازی اب بھی کپتان لے سکتا ہے اگر وہ اور اس کی پارٹی ان تین الفاظ کو ان کی روح کے مطابق عمل میں ڈھال لینے میں کامیاب ہو جائیں۔ جسٹس یعنی انصاف ۔۔۔ سب سے پہلے اپنی ذات سے شروع کر کے اپنی پارٹی تک، اپنے کاز کے ساتھ جسٹس اور پھر سب سے بڑھ کر لوگوں کی توقعات کے ساتھ انصاف ۔۔۔ کیونکہ اگر ایسا نہیں ہوگا تو لوگوں کی خواہشات ایکسپلائیٹ ہونگی جونا امیدی کا سبب بنتی ہے، اور نا امیدی ۔۔۔ تبدیلی کی راہ کی سب سےبڑی رکاوٹ۔

یہ بھی پڑھیں:   اقوام متحدہ میں، ’’پہلی مرتبہ‘‘؟ آصف محمود

نالج یعنی علم و ادراک ۔۔۔ یہاں پر متعلقہ علم سیاست کا بنتا ہے، باالخصوص وہ روایتی سیاست جو کہ ہمارے ہاں رائج ہے اس کی سوجھ بوجھ رکھنا اور اس کے مطابق حکمت عملی ترتیب دینا، موزوں ترین مثال اس حوالے سے عمران خان کا ترک صدر کے دورہ کے دوران پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ ہے، پاکستان کے عوام ترکی سے بے پناہ محبت رکھتے ہیں اور اس موقع پر عوام کی توقعات کے برخلاف حکمت عملی اختیار کرنا کس حد تک دانشمندی کا فیصلہ ہے اس پر شاید زیادہ لکھنے کی گنجائش نہیں۔ پاکستان میں تبدیلی اور انقلاب کی راہی دو نمایاں پارٹیاں یعنی پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی جس چیز میں سب سے پیچھے رہ جاتی ہیں وہ سیاست کا فہم ہی ہے ۔۔۔ اس کا درست علم ہونا اور پھر اس کے مطابق اپنی سیاسی حرکیات کو ترتیب دینا کامیابی کی کُنجی بن سکتا ہے۔

تحریک انصاف کے باب میں سب سے زیادہ کمی جس لفظ اور رویے کی ہے وہ ہے ٹالیرنس یعنی برداشت ۔۔۔ ہر پروگرام اور ہر ایونٹ میں ہڑبونگ مچنا بھلا اور کس چیز کا نتیجہ ہے۔ بےصبری، اور حب العاجلۃ۔ کپتان کی ڈکشنری کے یہ تینوں الفاظ کامیابی کی کنجی بن سکتے ہیں اگر ان کی روح پر عمل ہو جائے تو، مگر کیا عمران خان یہ کر پائے گا؟

Comments

انعام مسعودی

انعام مسعودی

انعام الحق مسعودی ماس کمیونیکیشن میں گریجوایشن کے ساتھ برطانیہ سے مینجمنٹ اسٹڈیز میں پوسٹ گریجوایٹ ہیں۔ سوشل سیکٹر، میڈیا اور ایڈورٹائزنگ انڈسٹری سے منسلک ہیں۔ برطانیہ میں 5سالہ قیام کے دوران علاقائی اور کمیونٹی ٹی وی چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز سے منسلک رہے ہیں۔ چیرٹی ورکر، ٹرینر اور موٹی ویشنل اسپیکر ہونے کے ساتھ قلمکار بھی ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.