مجھے اب خوابوں سے ڈر لگتا ہے- اُسامہ ربانی آدم

وہ جو اُٹھتے بیٹھتے، وہ جو ہنستے سوتے\nکھبی بِن بنائے، کھبی بِن بُلائے\nاحساس تھا اُن کا، جو تھا پاس اُن کا\n کہ جو سوچ اُن کی، تھا خیال اُن کا\nمگر جو ٹوٹا تو اس قدر سے\nنہ ہی جڑ سکا پھر اسی جبر سے\nاب گر بیٹھے بیٹھے خیال سوچوں\nاور خیال کو پھر اک خواب سوچوں\nتو وہ سوچ بِکھرنے لگتا ہے\nکیونکہ\nمجھے اب خوابوں سے ڈر لگتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */