گلگت کشیدگی، اصل صورتحال کیا ہے؟ طارق حبیب

طارق حبیب ۔\nآج ہزاروں افراد قراقرم یونیورسٹی میں گھس گئے اور زبردستی پروگرام کا انعقاد کیا، مگر صورتحال یہاں تک پہنچی کیسے؟ اس کے لیے ماضی جاننا بہت ضروری ہے۔\n۔\nماضی میں گلگت فرقہ وارانہ کشیدگی کی علامت بن چکا تھا۔ اقتصادی راہداری پر کام کے آغاز اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع ہونے کے بعد پنجاب رینجرز کے 24 ونگ کو گلگت میں تعینات کیا گیا، جس نے فرقہ واریت پر قابو پایا اور گزشتہ دو سال محرم الحرام سمیت دیگر مذہبی تقریبات پرامن حالات میں منعقد کی گئیں۔\n۔\nاسلام آباد ٹو نائٹ کی ٹیم نے گزشتہ ماہ محرم الحرام میں گلگت بلتستان کا دورہ کیا، انتہائی پر امن ماحول میں محرم الحرام کے جلوس نکلے، مجالس منعقد ہوئیں، اور دوسرے مکتبہ فکر نے بھی ان مجالس کے پر امن انعقاد میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ پنجاب رینجرز نے شہر بھر میں مضبوط سکیورٹی نیٹ ورک قائم رکھا۔\n۔\nمگر رواں ماہ اچانک حالات بدلنا شروع ہوگئے۔\n۔\nقراقرم یونیورسٹی میں تعلیمی سرگرمیاں پرامن ماحول میں جاری تھیں، کسی بھی مکتبہ فکر کو اپنی مذہبی پروگرامات کے لیے یونیورسٹی کی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔\n۔\nاقتصادی راہداری سے دوست نما دشمن پڑوسیوں کو تکالیف تو بہت ہیں۔ کسی کو چین سے بڑھتی دوستی ناپسند ہے تو کسی کو چاہ بہار کی بندرگاہ پر گوادر کی فوقیت قبول نہیں، اسی لیے جیسے ہی اقتصادی راہداری پر تجارتی قافلوں کی آمدورفت شروع ہوئی تو ان دوست نما دشمنوں نے بھی ہلچل شروع کردی۔\n۔\nچند ہفتے قبل ایک مکتبہ فکر نے قراقرم یونیورسٹی میں یوم حسین رضی اللہ عنہ منانے کا اعلان کیا، جس کے بعد دوسرے مکتبہ فکر کی جانب سے یوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا اعلان کردیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور صوبائی انتظامیہ نے دونوں فریقین کو مذہبی پروگرامات کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ گلگت کے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے یہ حکومت کا انتہائی احسن اقدام تھا۔\n۔\nاجازت نہ ملنے پر مولانا راحت الحسینی کی قیادت میں سینکڑوں لوگوں نے اقتصادی راہداری کے ایک مقام ”دینی پور“ پر دھرنا دے دیا، اور 9 روز تک 24 گھنٹے تک اقتصادی راہداری پر نقل و حرکت بند رہی۔ دھرنا دینے والوں نے یوم حسین رضی اللہ عنہ منانے کی اجازت دینے کا مطالبہ شروع کردیا۔ دوسرے فرقے کی جانب سے بھی کہا گیا کہ اگر اجازت دی گئی تو ہم بھی یوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ منائیں گے ۔\n۔\nاس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان نے ایک مذاکراتی کمیٹی قائم کی، اور مظاہرین اور دوسرے فریق سے مذاکرات شروع کیے۔ ایک فریق یوم حسین رضی اللہ عنہ کے انعقاد پر بضد تھا تو دوسرا فریق ردعمل میں یوم فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا انعقاد چاہتا تھا۔\n۔\nاس پر حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے چند تجاویز رکھیں جو کچھ اس طرح تھیں،\n1) یوم حسین و یوم فاروق اعظم کو مشترکہ طور پر یوم صحابہ کے طور پر سرکاری سطح پر جامعہ میں منعقد کرلیا جائے۔\n2) یوم حسین اور یوم فاروق اعظم کی تقریبات ایک ہی روز سرکاری طور پر جامعہ میں منعقد کی جائیں۔\n3) یوم حسین اور یوم فاروق اعظم کے پروگرامات یونیورسٹی کی حدود سے باہر منعقد کیے جائیں۔\n۔\nاطلاعات کے مطابق مظاہرین نے حکومتی تجاویز مسترد کردی تھیں جس کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ اس موقع پر حافظ حفیظ الرحمان کو مخالف مکتبہ فکر سے وابستگی کی وجہ سے مسلسل ہدف تنقید بنایا جاتا رہا، اور کشیدگی پیدا کرنے کی بنیادی وجہ قرار دیا جاتا رہا۔\n۔\nحکومتی کوششوں کے باوجود 9 روز اقتصادی راہداری پر تجارتی قافلوں کی نقل و حرکت بند رہی۔ اگرچہ حکومت نے مظاہرین میں سے 72 مسلح شرپسندوں کو گرفتار کیا، مگر سکیورٹی اداروں کی جانب سے مظاہرین کو راہداری سے ہٹانے کی کوئی منظم کوشش نہیں کی گئی۔\n۔\nاطلاعات کے مطابق آج دوپہر کو ہزاروں مظاہرین زبردستی قراقرم یونیورسٹی میں داخل ہوگئے، اور پابندی کے باوجود یونیورسٹی میں مذہبی پروگرام یوم حسین رضی اللہ عنہ منعقد کیا۔ اس موقع پر صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔\n۔\nگلگت کے حالات بیرونی اشاروں پر خراب کرنے کی کوشش پر حکومت اور سرکاری ادارے کیسے قابو پائیں گے؟ یہ آئندہ چند دنوں میں واضح ہوجائے گا۔ اگر گلگت کی صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو فرقہ واریت کا عفریت ماضی کی طرح ایک بار پھر قابو سے باہر ہوجائے گا۔\n\n(طارق حبیب آج نیوز میں سینئر پروڈیوسر ہیں)

Comments

طارق حبیب

طارق حبیب

طارق حبیب آج نیوز میں سینئر پروڈیوسر کرنٹ افیئرز ہیں۔ مختلف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ بطور تحقیقاتی رپورٹر کام کیا ہے۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.