نریندر مودی کے نام معروف شاعرہ لتا حیا کا کھلا خط

لتا حیا عزت ماب پردھان منتری جی!\r\nآداب !\r\nمیں وہ عام جنتا ہوں جو کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی جس کی آپ سے کوئی شخصی دشمنی نہیں اور نہ ہی مستقبل میں جس کا سیاست میں آنے کا کوئی اِرادہ ہے۔ مجھے تو کوئی نام اور انعام بھی نہیں چاہیے، بس سکون کی زندگی اور عزّت سے دو وقت کی روٹی چاہیے۔ کبھی کچھ خبریں آپ کے لیے دل میں ناراضگی کا سبب پیدا کر دیتی ہیں تو کبھی کبھی آپ کی شخصیت کے کچھ پہلو ہزار نا اتفاقی ہونے کے باوجود مجھے حیران اور متاثر کر جاتے ہیں۔ بِلا شک آپ بہت اچھے مقرر ہیں، لوگوں سے جُڑے رہنے کی آپ کی کوشش اور کام کے تئیں آپ کا جوش آپ کی کا میابی کا راز ہے۔ سلیقہ مند ادب میں مہارت اور ہر کام میں دلچسپی اور بچوں سا ہاس پری ہاس قابلِ تعریف ہے۔\r\n\r\nاوہ! بچوں کی بات سے یاد آیا کہ آج تو یومِ اطفال ہے لیکن گستاخی معاف یومِ اطفال کی مبارکباد نہیں دوں گی کیونکہ دھن یوجنا سے کہیں بچوں کی اموات ہوئیں تو کہیں اُن کے ماں باپ کی۔ دُعا کیجیے کہ آج کسی کی سانس نہ بند ہو جائے جیسے پُرانے نوٹ بند ہوئے ہیں۔ ملک کے عوام تو آپ کو 50 دن کا وقت دے دیں گے، پی ایم صاحب! پر کیا آپ کسی ماں کی گود میں اُس کا بچّہ واپس دیں گے؟ آپ نے دیش کی وجہ سے گھر چھوڑ دیا پر آپ کی وجہ سے کئی لوگوں نے دُنیا ہی چھوڑ دی۔ کبھی دوسروں کے لیے بھی رو لیجیے، صرف لمبی قطاریں آپ کو نظر آ رہی ہیں، دوسری خبریں نہیں یا آپ دیکھنا نہیں چاہتے؟ ہو سکتا ہے آپ کی نیّت ٹھیک ہو لیکن پلاننگ ٹھیک نہیں ہے۔ اگر یہ سب کرنا ہی تھا جس کا اختیار ہم نے آپ کو دیا ہے تو عوام کو ہونے والی تکلیفوں کا بھی شُمار کیا ہوتا۔ اسپتال اور بنکوں میں اپنی پوری مشینری لگادی ہوتی۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ سرکاری احکامات کا سختی سے عمل ہو رہا ہے یا نہیں؟ آپ کے پاس حکومت طاقت اختیار اور گُرگے سب تو ہیں لہٰذا کوئی بہانا نہیں چلے گا۔ جو پیسے والے ہیں وہ اپنے پیسے گنگا میں بہائیں یا جلائیں، اُنہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ اُن کے گھر سے کوئی نہیں مرے گا۔ جن کے گھروں میں سال بھر کا راشن بھرا ہوا ہے وہ بھی شکایت نہیں کریں گے؛ جنہوں نے سابق میں آپ پر ذاتی اعتراض کر لوگوں کا غصہ اور مقدمہ جھیلا ہو وہ تو آپ کی حمایت کر اپنے پرانے گناہ دھونے کی کوشش کر ہی رہے ہیں لیکن میں رعایا ہوں اور اپنے بادشاہ سے انصاف کی امید رکھتے ہوئے اپنے ”دل کی بات“ کہہ رہی ہوں اور پورے حق سے یہ مانگ کرتی ہوں کہ جو ہو گیا سو ہو گیا، کم سے کم آگے کے پچاس دنوں کے لیے کچھ ایسا منصوبہ بھی بنا لیں کہ کسی کی جان تو نہ جائے! آپ نے اچھے منصوبے بھی بنائے ہیں (صاف بھارت، ٹوائلٹ وغیرہ) لیکن ہر بار کی منصوبہ بندی کارگر ہو اور حکومت صحیح ہو، ضروری تو نہیں! کبھی بری پلاننگ بھی چمتکار کر دیتی ہے تو کہیں اچھی منصوبہ بندی بھی ہاہاکار مچا دیتی ہے. آپ نے بےشک یہ اچھی نیت سے کیا ہے لیکن یقین جانیے زیادہ تر عوام تراہمام تراہمام کر رہی ہے حکومت؛ گویا کوئی وبا پھیل گئی ہو یا قدرتی آفت آن پڑی ہو، افسوس کہ آپ نے تصویر کا ایک ہی رخ دیکھا امیرِ شہر کی نظر سے؛ کسی غریب کی نظر سے، سینئر سٹیزن کی یا دہاڑی مزدور یا کاروباری بچوں والی عورت کی نظر سے بھی دیکھتے۔\r\n\r\nورددھا آشرموں میں رہنے والی ماؤں نے آپ کو آشیرواد دیا؛ خوشی ہوئی لیکن جن کا کوئی ہے ہی نہیں وہ تنہا بزرگ، ماں باپ کے لیے لائن میں لگے بغیر ان کے گھر پیسے پہنچانے کا کوئی منصوبہ ہے؟ جب گھر بیٹھے اکاؤنٹ کھلوایا جا سکتا ہے تو نوٹ کیوں نہیں تبدیل کرایا جا سکتا؟ شہید تو جان کی پرواہ نہیں کرتے تو سیاست مشینری کی کیا پرواہ کرتی ہے؟ شہیدوں کے گھر والوں کو بھی اگر اے سی سہولت مل جاتی تو ان کی روح کو سکون مِل جاتا، ویسے آپ کے لیے یہ ناممکن بھی تو نہیں! حکومت آپ کی، حقوق اور طاقت آپ کے پاس، پوری مشینری آپ کے کنٹرول میں اور آپ کے ہزاروں کارکن، فینز اور ان سب سے بڑھ کر آپ کا حوصلہ اور فیصلہ لینے کی صلاحیت؛ آپ دنیا میں ہندوستان کو ایک طاقتور قوم کے طور پر اُبھار سکتے ہیں، جراحی ہڑتال کرنے کا دم خم رکھتے ہیں، دوردرشتا رکھتے ہیں تو مجھے یقین ہے عوام کے درمیان گھوم کر، ان کی تکلیفوں کو دور کر سکتے ہیں. نوٹ تبدیل کر سکتے ہیں تو نوٹ تبدیل کرنے کا قانون کیوں نہیں؟ اصول عوام کے لیے ہونے چاہیے، عوام اصول کے لیے نہیں. پرانے زمانے میں بادشاہ عوام کے درمیان بھیس بدل کر جاتا تھا، ان کے دکھ درد سمجھتا تھا اور پھر اپنے مشیروں سے مشورہ کر کے انہیں دور کرتا تھا، جس نے بھی آپ کو یہ نیک مشورہ دیا، ممکن ہے اس کے دور رس نتائج اچھے ہوں لیکن سمیپگامی نتائج کے لیے عوام کی رائے بھی کچھ معنی رکھتی ہے. پردیسیوں سے مل لیتے ہیں، ہم وطنوں سے بھی ملیے؛ دور دور سفر کر لیتے ہیں تو اس موقع پر سیاسی اجتماعات کے علاوہ کبھی چپکے سے کسی اسپتال، بینک بھی جائیے یا اپنے لوگوں کو بھیجیے تاکہ حقیقی بدعنوانوں کی وجہ سے آپ کی عوام کی جان نہ جائے اور کالابازاریوں میں بھی دہشت پھیلے. اُن اسپتالوں پر قتل کا کیس درج ہو جنہوں نے علاج کرنے سے منع کیا، طویل قطاروں میں گھنٹوں کھڑے جیب خالی لوگوں کو ہم پانی ناشتا تو دے سکتے ہیں پر غریبوں کا کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ نہیں بنوا سکتے۔ راتوں رات یہ سب اُن کے جن دھن یوجنا کھاتے کھلنے کے ساتھ ہی اِن کو سمجھا دیا گیا ہوتا تو آج اخباروں میں بہت روتی ہوئی تصویریں نظر نہ آتیں اور نہ ہی میں یہ خط لکھنے پر مجبور ہوتی کیونکہ یکبارگی تو مجھے بھی شروع میں یہ ٹھیک ہی لگا اور خاص پریشانی بھی نہیں ہوئی کیونکہ برُے وقت میں ہم کٹوتی سے ہی کام چلاتے ہیں، بلکہ ہمیں تو اب 500 ؍ میں ایک ہفتہ بھی کس طرح نکالا جا سکتا ہے، یہ نصیحت ملی. شاید کفایت کرنے کی بھی عادت ہی پڑ جائے لیکن سوال پھر بھی وہیں کا وہیں ہے کہ جو لوگ جان سے گئے کیا واپس لوٹ آئیں گے؟\r\n\r\nایک طرف ٹی وی پہ آپ کا خطاب کہ سب ٹھیک ہو جائے گا تو دوسری طرف عوام کا کردن کہ سب برباد ہو جائے گا تو عادت سے مجبور نکل پڑی لوگوں کی رائے جاننے؛ ہر کوئی پریشان نظر آیا؛ سبزی والے، ٹیکسی والے، روز کما کر کھانے والے؛ ”بہت برُا ہوا میم صاحب، دھندہ رک گیا، کسی کو گاؤں جانا تھا، کسی کے یہاں شادی رک گئی اور جانے سیاست کی نظر میں ان کے یہ چھوٹے فالتو کام، کچھ محاورے بھی اب سمجھ آئے جیسے- “ آٹے کے ساتھ گھن پسنا، جرم کس کا سزا کس کو، آٹے دال کا بھاو پتہ چلنا، ٹھالا بنیا کیا کرے، پاوں کے نیچے سے زمین کھسکنا، لیکن ان سب سے بڑھ کر” جان ہے تو جہان ہے “. یقیناً جو صدمے سے مر گئے انہیں ہم نادان او ر پست حوصلہ کہہ سکتے ہیں لیکن ان کی کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے، Honour killing کی طرح میں تو اسے Honour suicide کہوں گی. ویسے ابھی تک تو کسی امیر آدمی کے مرنے کی خبر نہیں آئی کیونکہ مرتا تو بے چارہ غریب ہی ہے، پستی توعوام ہی ہے تو عوام آپ سے یہ گزارش کر رہی ہے معزز وزیر اعظم کہ صرف کچھ دنوں کے لیے نوٹوں کی ادلا بدلی کے عوض میں اس کی جان کی حفاظت کی ضمانت تو دے دی جائے، ہم نے آخر آپ کو ووٹ دیا ہے. ہم سب آپ کے اس ساہسک ہی نہیں بلکہ تاریخی قدم میں 50 دن تو کیا 500 دن ساتھ دیں گے بشرطیکہ آپ اپنا نعرہ لگانے کے بجائے (چاہے مجھے زندہ جلا دو) عوام کے نعرے پر غور فرماے کہ ہمیں زندہ بچا لو۔\r\n\r\nمیں تو عام عوام ہوں؛ اپوزیشن جماعت نہیں تو اسے ذاتی تنقید یا شکایت نہ سمجھیں لیکن ہمارے رہنما کے ناطے آپ کو ہماری شکایت سننی پڑے گی. مجھے یقین ہے کہ یہ خط پوسٹ کرنے کے بعد تنقید تو مجھے بھی جھیلنی پڑے گی, ان لوگوں کی جو ہر مسئلے کو سیاست اور مذہب کی نظر سے دیکھتے ہیں۔\r\nتو چلیے ہم بھی دیکھتے ہیں اور آپ پر چھوڑتے ہیں۔\r\nاب کیا ملے گی مجھ کو سزا آپ سوچیے\r\nمیرا قصور یہ ہے کہ سچ بولتی ہوں میں\r\nویسے خط ختم کرنے سے پہلے ایک نیک مشورہ کہ عوام کو بھی اپنے ذاتی مشیروں میں شامل کر لیجیے تبھی سب کا ساتھ، سب کا وِکاس ہوگا۔\r\nشکریہ\r\nفقط\r\nلتا حیا\r\n(عام عوام میں سے ایک اور ایک ہندوستانی)