جمہوریت خطرہ میں ہے- مفتی سیف اللہ

مفتی سیف اللہ جمہوریت کے ساتھ خطرہ کا لفظ سن کر سب کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور پوچھنے لگتے ہیں کہ کیا جمہوریت کو کوئی خطرہ ہے؟ کیا آپ کو ٹرپل ون بریگیڈ کے قدموں کی آواز سنائی دے رہی ہے؟\n\nنہیں جناب ایسی کوئی بات نہیں، یہ ہماری لولی، لنگڑی، بیمار و لاچار اور قابل رحم و قابل افسوس جمہوریت کی بات نہیں ہو رہی ہے بلکہ مغربی جمہوریت کی بات ہو رہی ہے جس کی بنیاد عوامی رائے اور اس کے بنیادی حقوق ہیں، جہاں ہر شہری کو مکمل آزادی، تمام ضروریات زندگی کی فراہمی اور جان ومال کا تحفظ حاصل ہے، وہاں کی جمہوریت خطرے میں ہے۔ یہ کوئی دعوی یا التجا، تمنا یا آرزو نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سر کی آنکھوں سے دیکھا جا رہا ہے. جمہوریت کا دل فریب چراغ بجھنے اور چڑھتا سورج ڈوبنے جا رہا ہے کیونکہ جمہوریت ایک غیر فطری نظام ہے، جو زیادہ دیر چلا نہیں کرتا، اس میں قوت رائے نہیں بلکہ کثرت رائے ہے، عقلمندوں کی قدر نہیں فقط ہجوم منظور نظر ہے بقول اقبال\nجمہوریت اک طرزحکومت ہے کہ جس میں\nبندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے\n\nجمہوریت کے خوشنما نعروں میں سے یہ ہے کہ سب کو حق رائے دہی حاصل ہے، اس سے کون انکار کرتا ہے کہ سب کو حقوق دیے جائیں، اسلام اور اس کے نظام حکومت نے انسانیت کو سب سے زیادہ حقوق دیے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ونظام مملکت کے اہم امور میں بھی سب کو حق رائے دہی حاصل ہوگا؟\nجمہوری نظام میں ہر کھوٹے کھرے، اچھے برے کو بلاتفریق علم و عقل اور فہم وفراست کے رائے دہی بلکہ رائے زنی کاحق حاصل ہے جبکہ اس کے برعکس اسلام نے کوئی خاص نظام حکومت لازم و متعین تو نہیں کیا البتہ قرآنی آیات، ارشادات نبویہ اور صحابہ کے طرز عمل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نظام مملکت اہل علم و عقل کی شورائیت سے ہونا چاہیےجس کی بنیاد کثرت رائے نہیں بلکہ قوت رائے ہے، رائے دینا بنیادی حقوق میں شامل نہیں بلکہ اہم ذمہ داری ہے جو صرف ایسے افراد سے لی جائے جو صاحب الرائے اور صائب الرائے ہوں. اور یہ قانون فطرت کے عین مطابق ہے کیونکہ دنیا میں عقلمند کم اور ناسمجھ لوگ زیادہ ہیں، اگر نادانوں کی چاہت کے مطابق دنیا کا نظام چلایا جائے تو اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہ ہوگا.\n\nقرآن کریم میں اللہ تعالی نے پہلی امتوں کے کئی واقعات بیان فرمائے ہیں جن میں اہل ایمان قلت کے باوجود کامیاب و کامران ہوئے جبکہ کفار باوجودیکہ تعداد میں زیادہ تھے ناکام ونامراد ہوۓ، اللہ سبحانہ و تعالی نے متعدد مقامات پر فرمایا کہ لوگوں میں سے اکثر علم وعقل نہیں رکھتے اور میرے شکرگذار بندے بہت کم ہیں۔ امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے تن تنہا اپنی دعوت ومشن کو شروع فرمایا اور اکثریت بلکہ سارے عرب کی مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اسلام کے پیغام کو انسانیت تک پہنچایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جب لشکر اسامہ کی روانگی اور منکرین زکوہ کے خلاف جہاد کا مشورہ ہوا تو تمام صحابہ کرام کی رائے یہ تھی کہ ان دونوں مہمات کے بجائے مدینہ میں رہ کر دفاع کیا جائے مگر حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے پورے وثوق و تیقن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق لشکر اسامہ کی روانگی اور منکرین زکوہ کے خلاف جہاد کا فیصلہ فرمایا چنانچہ بعد کے حالات سے واضح ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انفرادی فیصلہ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں بہتر ثابت ہوا اور علمائے امت نے فرمایا کہ اگر حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اس وقت عزم واستقلال کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ فیصلہ نہ فرماتے تو آج دنیا میں اسلام کا نام ونشان نہ ہوتا.\n\nاہل مغرب جمہوریت کا تصور پیش کر کے ایک عرصہ تک اس کی خوبیاں جتلاتے اور گن گاتے رہے مگر جب اس کی برائیاں اور پیچیدگیاں ظاہر ہوئیں تو اس میں پھنس کے رہ گئے، اب نہ تو جمہوریت سے پیچھا چھڑانا ممکن ہے اور نہ اس کی برائیوں سے بچنا، اگلا جائے نہ نگلاجائے والی کیفیت بن چکی ہے۔ اس کی مثال بریگزٹ ریفرنڈم ہے. حال ہی میں برطانیہ نے یورپی یونین میں رہنے یا اس سے علیحدہ ہونے کے بارے میں ریفرنڈم کروایا توعوام کی اکثریت نے علیحدگی کا فیصلہ دیا جس کی بنا پر برطانیہ یورپی اتحاد سےتو الگ ہوگیا لیکن اس کی وجہ سے ایک سیاسی و معاشی بحران پیدا ہوگیا. منتخب وزیراعظم نے استعفی دے دیا، تمام سیاسی قائدین سر جوڑ کر بیٹھ گئے، معیشت بری طرح متاثر ہوئی، یورپی یونین کے کئی ممالک حتی کہ برطانیہ کی بعض سٹیٹس نے مزید ریفرنڈم کے ذریعہ علیحدگی کا عندیہ دے دیا. اس غیریقینی صورتحال کے پیش نظر چند دن پہلے برطانوی ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے لیے پارلیمنٹ سے ووٹنگ کروائی جائے اور یہ معاملہ عوامی اکثریت کے بجائے قوم کے ذمہ دار طے کریں جو کہ ملک و قوم کے بارے میں شعور و آگاہی رکھتے ہوں۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ برطانیہ کی اعلی عدالت کا فیصلہ درست ہے یا کہ عوامی اکثریت کا فیصلہ جو انہوں نے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے بارے میں دیا ہے۔\n\nاب آتے ہیں دنیائے جمہوریت کے سب سے بڑے چیمپئن امریکہ کی طرف جہاں صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ فاتح قرار پائے ہیں. امریکیوں کی اکثریت نے انہیں صدر منتخب کیا ہے لیکن اس کے باوجود پوری دنیا اس اکثریتی فیصلہ کو غلط قرار دے رہی ہے. اس خبر کے آتے ہی ڈالر اور عالمی مارکیٹیں نقصان کا سامنا کر رہی ہیں. امریکہ جیسے جمہوری معاشرے میں پرتشدد مظاہروں کاسلسلہ شروع ہو چکا ہے جن میں امریکی پرچم بھی جلائے جا رہے ہیں. مظاہرین برملا یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ ٹرمپ کو صدر نہیں مانتے۔ عالمی برادری کے خدشات اور امریکیوں کا غم وغصہ، کیا یہ جمہوری نظام اور کثرت رائے پر عدم اعتماد نہیں ہے؟ جمہوری نظام میں ووٹنگ سسٹم جوں جوں شفاف ہوتا جائے گا اس نظام کا ناپائیدار ہونا واضح ہوتا جائےگا۔\n\nبرطانیہ کا بریگزٹ اور امریکہ کا ٹرمپ صرف ان ملکوں کے زوال کی نشانی نہیں بلکہ اس نظام کی ناکامی کی بھی خبر دے رہے ہیں۔ مغرب نے مرد و عورت کے درمیان ذمہ داریوں اور اختیارات کی غیرفطری تقسیم کی، جس کی وجہ سے خاندانی نظام تباہ ہوگیا، اب غیرفطری نظام حکومت کی وجہ سے ملکوں کے ٹکڑے ہونے اور معاشی و معاشرتی زوال کی طرف بڑھ رہا ہے بقول اقبال\nتمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی\nجو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا\n\nممکن ہے کوئی جمہوریت کا دلدادہ یہ کہے کہ مظاہرہ و احتجاج جمہوری حق ہے اور یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ اس میں سب کچھ برداشت کیاجاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے بقول جمہوریت کی خوبی یہ ہے کہ اس میں وسعت و فراخدلی ہوتی ہے، کچھ بھی مزاحمت نہیں ہوتی، وہ سب کچھ قبول کرلیتی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جمہوریت اپنی ناکامی وناپائیداری کو بھی بخوشی قبول کرلےگی اور لگتا ہے وہ وقت قریب آن پہنچا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com