سوال نمبر پانچ، اور مذہب کے نام نہاد ٹھیکے دار - ظفرعمران

ظفر عمران کہتے ہیں، جہاں دلیل ختم ہوجائے وہاں سے گالی شروع ہوتی ہے۔ ہم جیتنا چاہتے ہیں، اس کے لیے مقابل کو دیوار سے لگانا ضروری ہے۔ چاہے غلیظ زبان کا سہارا لیا جائے۔ اس مضمون کا آغاز ان خود ساختہ دین داروں کے طنزیہ جملوں سے کیا تھا، جنھیں گمان ہے کہ وہی دین کے رکھوالے ہیں۔ ایسی گند اگلتی زبانیں اُن لوگوں کی ہیں، جو اپنے تئیں دین اور غیرت کی سربلندی کے لیے میدان میں اُترے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو دین کے خود ساختہ ٹھیکے دار بنتے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر شے کو دین کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں۔ بالفرض انھیں کہا جائے، کہ کسی معاملے میں دین سے ہٹ کر بات کرتے ہیں، تو ترنت جواب دیں گے، کہ دین تو زندگی کے ہر معاملے میں ہے۔ انھیں ہر شے میں شک رہتا ہے، کہ ان کے دین کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش ہو رہی ہے۔ ایسے لوگوں کو براہ راست مخاطب کر کے کہتا ہوں، کہ یہی تمھارا دین ہے، تو اس دین کا ایک دشمن میں ہوں۔ یہ کون سا دین ہے، جو زندگی کے ہر معاملے میں ہے، تمھاری نس نس میں دوڑتا ہے، اور تمھاری زبان سے نہیں ٹپکتا؟ یہ کون سا دین ہے جو تمھارے اخلاق نہ سنوار سکا؟ تمھارا ایسا دین کسی کا کیا بگاڑ لے گا، جس نے تمھیں نہ سنوارا؟\n\nقضیہ یہ ہے، کہ علامہ اقبال یونیورسٹی نے دسویں کے امتحان میں یہ سوال کیا، کہ اپنی بڑی بہن کی شخصیت کا احاطہ کیجیے، اور ایسا کرتے اُن کی عمر، جسمانی ساخت، قد، رُوپ، رویہ وغیرہ کا خیال رہے۔ آپ کے لیے انگریزی میں کیا گیا وہ سوال انگریزی میں نقل کرتا ہوں۔\nDescribe the personality of your elder sister keeping the following aspects in view\nAge\nPhysique\nHeight\nLooks\nattitude etc.\nاس میں Physique لفظ کو پکڑ کر کہا گیا کہ یہ لفظ انتہائی نامناسب ہے؛ فحش ہے۔ ایسا نازیبا سوال دسویں کے طالب علم سے نہیں پوچھا جانا چاہیے تھا۔ گزارش اتنی سی ہے، کہ جہاں تک ہمارے رسم و رواج کی بات ہے، یا تو انھیں اصول بنا کر بات کریں، یا دین اسلام کے اصولوں کو بنیاد بنا کر مکالمہ کیا جائے۔ میں نے جن لغو جملوں کا حوالہ دیا۔ (مدیر نے وہ جملے حذف کر دیے ہیں) ایسے لہجے سے کسی کے خاندان اور خاندانی تربیت تو ظاہر کرتی ہے، لیکن اس طرز کا دین اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ کیا کوئی گناہ گار سے گناہ گار مسلمان بھی یہ سوچ سکتا ہے، کہ تبلیغ کرتے حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایسی زبان کا بھول چوک کر بھی استعمال کیا ہو؟ نعوذ باللہ میں ایسا گمان بھی نہیں کر سکتا۔ میرے اس دعوے میں یہودی سازش دکھائی دیتی ہے، تو کسی بھی عالم دین کے پاس چلے جائیے اور اس سے تصدیق کر لیں، کہ کیا یہی مسلمانی ہے! رہی ہماری روایات کی بات تو ہاں! یہاں کئیوں کی جیسی تربیت ہوتی ہے، یہ اشخاص اسی کا نمونہ ہیں۔ کیا پاکستان ہی میں ایسے علاقے نہیں جہاں عورت کا نام لینا بھی برا سمجھا جاتا ہے، وہ اپنے باپ، بھائی، شوہر، یا بیٹے کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ کیا اسلام یہی کہتا ہے، کہ عورت کی اپنی کوئی حیثیت نہیں؟ اس طرح سوچیں تو بلوچی اور پختون، پنجابی کو بےغیرت کہ سکتے ہیں، کہ ان کی عورتیں ننگے سر پھرتی ہیں۔ پنجابی، پختون اور بلوچ کو بےغیرت کہ کر خوش ہو سکتے ہیں، کہ یہ عورتوں کو بھیڑ بکری بنا کر گھومتے ہیں۔ علی ہذا القیاس سبھی اقوام ایک دوسرے کو بے غیرت قرار دے دیں گی۔ اس طرح یہاں کوئی غیرت مند باقی نہ رہے گا۔ ''غیرت'' یہ لفظ بھی خوب ہے۔ گویا ''غیرت'' عورت کو مِلک (Property) بنانے کا نام ہے۔ بے غیرت انھیں نہ کہا جائے، جو اپنی بہنوں کی شادی قرآن سے کر دیتے ہیں؟\n\nایک سوال ہے، کہ سارے کا سارا اسلام عورت اور اس کے بدن سے وابستہ ہے؟ اس کا جواب میرے پاس ہے، وہ جواب کسی اور دن تک کے لیے ادھار رہا۔ اگر یہ کہوں‌ تو برا مت مانیے گا، کہ ”Physique“ پر میرے وہی بھائی نالاں ہیں، جو Figure دیکھنے کے سوا عورت کا کوئی اور رُوپ سمجھتے ہی نہیں۔ اس لیے انھوں نے اس لفظ کو وہی معنی پہنائے۔ اُن کے خیال میں وہ جس عورت کو بستر میں دیکھتے ہیں، وہ کسی کی بہن ہو ہی نہیں سکتی۔ اس لیے میٹرک کے بچوں سے بڑی بہن کی Physique بیان کرنے کا ایک ہی مطلب ہے، کہ ممتحن، امتحان کنندہ کی بہن کو اپنے بستر کی زینت بنانا چاہتا ہے۔ یہاں تصور کی آنکھ سے کمرائے امتحان دیکھیے تو وہاں محض‌ لڑکے بیٹھے دکھائی دیں گے۔ یہ سوال لڑکوں ہی سے تھا۔ کیوں کہ ہم نے سوچا ہی نہیں کہ ہماری بیٹی بہن بھی میٹرک کا امتحان دینے گئی ہے، اور یہ سوال اُس سے ہے۔ اسی طرح جس نے یہ پرچا بنایا، وہ بھی ایک مرد ہی تھا۔ عورتیں کب امتحانی پرچا بنا سکتی ہیں! ایسے ہی اس مضمون کو پڑھ کر نمبر عطا کرنے والا بھی ایک مرد ہی ہوگا۔ میں آپ سے التجا کروں گا، یہاں ایک لمحے کے لیے اپنے ذہن پر زور ڈالیے تو آپ پر واضح ہو جائے گا، کہ آپ یہ تسلیم کیے بیٹھے ہیں، کہ معاشرے میں صرف مرد قابض ہیں، اور یہ مرد بھیڑیے ہیں، جو عورت کو بستر کی زینت بنانے کے لیے مچلے جا رہے ہیں۔ ایسوں کی نظر میں عورت کا کلی مقصد نسل انسانی بڑھانا ہے، اور کچھ نہیں۔ اگر آپ مانتے ہیں، کہ ایسا ہی ہے، تو یہ بھی مان لیجیے، ایسا معاشرہ جہاں مرد عورت کو عزت نہ دے وہ اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔ آئیے سب سے پہلے ہم اس معاشرے کو اسلامی بنانے کی جست جو کریں۔ بسم اللہ کرتے ہم اس نیک کام کا آغاز اپنی ذات سے کرتے ہیں۔ ارے ارے ارے رُکیے جناب! آپ تو عمل کرنے نکل پڑے۔ پہلے اس دین کی تعلیمات تو حاصل کیجیے۔ ورنہ عمل ویسا ہی ہوگا، جیسا ابھی ہے۔\n\nعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پرچے کے اِس سوال نمبر 5 میں Figure کہیں نہیں لکھا۔ آئیے مزید بات کرنے سے پہلے ان دو لفظوں کے لغوی معنوں سے آشنائی حاسل کریں۔ ”Physique“ کا صاف مطلب ”جسمانی ساخت، جثہ“ نکلتا ہے۔ ”Figure“ کے لغوی معنی ”شکل صورت، ہیئت، وضع، ڈھنگ، نقشہ“ بتائے جاتے ہیں۔ ایک معنی لغت (Dictionary) کے ہوتے ہیں، تو دوسرے معنی اصطلاحی (Functional)۔ پاکستانی زبانوں میں یا پاکستان میں ”Figure“ کے ایک اصطلاحی معنی یہ ہیں، کہ جب اس کے بارے میں پوچھا جائے تو جواب گنتی کی صورت میں سامنے آئے۔ اصطلاح میں Physique کے بارے میں پوچھا جائے تو ویسا جواب نہیں ملتا، جیسا کہ Figure کے پوچھے جانے پر سامنے آتا ہے۔ اب ان اصطلاحی معنوں میں بھی دیکھا جائے، تو Figure پر Focus کرنے والے غلیظ اذہان کی قے سامنے آتی ہے۔ میں بھی اسی معاشرے میں رہتا ہوں اور جانتا ہوں، کہ یہاں کتنے دین دار رہتے ہیں۔ جنھیں نہ نماز روزے سے غرض ہوتی ہے، نہ آتے جاتے کی بہن کا لحاظ ہوتا ہے۔ یہ اپنی بدکاریوں پر نظر نہیں کرتے، لیکن اپنے جیسے کسی بدکار سے بچاؤ کے لیے اپنی بہن کو لفافے میں بند رکھنا چاہتے ہیں۔ چاہے اس کا دم گھٹ جائے۔\n\nجناب من! یہ مت سوچیے کہ عورت سے شادی کرکے بچے پیدا کرنے والا مسلمان اور عورت سے تلذذ حاصل کرنے والا لبرل ہوتا ہے۔ یہاں میں نے اتنا ہی لکھ دیا کہ اسلام میں چار شادیوں کے علاوہ لونڈی سے مباشرت کی اجازت بھی ہے، تو بہت سے نام نہاد مسلمان اپنے دانتوں میں انگلیاں داب لیں گے، کہ یہ بات تو ہمارے باپ نے بتائی ہی نہیں؛ اگر ایسوں نے اللہ کا دین سمجھا ہوتا، تو یوں دانتوں میں انگلیاں نہ دابتے۔ ایسوں نے باپ کا دین اپنایا ہے، جس نے یہی سکھایا کہ بچو جہاں لگے تمھارا مقدمہ کمزور ہے، مخالف کی ماں بہن کا نام تھانے کے پرچے میں ڈال دو۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے پرچے اور تھانے کے پرچے میں فرق کرنا تو آتا ہی ہوگا؟ آپ جس پرچے کے سوال نمبر 5 پہ برہم ہیں، اسی پرچے کے سوال نمبر 4 پر دھیان دیجیے۔\nWrite a letter to your friend inviting him/her to spend summer holidays with you in Islamabad.\nکیڑے نکالنے ہوں تو اس سوال پر بھی اعتراض کیا جا سکتا ہے، کہ ہمارے بچوں کو کس طرف لگایا جا رہا ہے، وہ اپنے دوست (وہ لڑکی ہے، یا لڑکا) کو خط لکھے کہ وہ گرمیوں کی چھٹیاں اس کے ساتھ اسلام آباد میں گزارے۔ پاکستان کے دیگر مسائل اتنے پے چیدہ ہیں، کہ ہمیں ان پر توجہ کرنی چاہیے۔ پرچوں میں سے یہودی یا لبرل سازشیں ڈھونڈنے کے بجائے، ہمیں راست اقدام کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال یونیورسٹی کے اسی پرچے کا سوال نمبر 2 اہم ہے۔\nHow can one lead a healthy life? State at least 10 good habits to keep you healthy.\nصحت مند زندگی گزاریے اور جواب ڈھونڈیے کہ ایک صحت مند معاشرہ کیسے تخلیق ہو۔ ایسا معاشرہ جو اپنی ناکامیوں، کم زوریوں، نالائقیوں کا الزام دھرنے کے لیے کسی دوسرے کا سر نہ مانگے۔ ہم پاکستانیوں اور مسلمانوں کے مسائل نہ ہنود کے پیدا کرتے ہیں، نہ یہود کے۔ یہ بھیڑیے جن سے ہمیں اپنی بہنوں کو بچائے جانے کی فکر کھائے جاتی ہے، وہ یہیں بستے ہیں۔ پاکستانی ہیں، اور وہ اعشاریہ صفر صفر ایک دو فیصد سیکولراور لبرل ہی نہیں، ان میں اکثریت ان کی ہے جو مسلمان کہلاتے ہیں۔ جناب! پاکستانی تو وہ سبھی ہیں، کہ پاکستان کا شناختی کارڈ رکھتے ہیں، لیکن ان میں سے مسلمان کہلانے والے اسلام میں کتنا داخل ہوئے ہیں، یہ میرا رب ہی جانے۔ خدارا! خدا کا نام لے کر اپنے غلط اعمال کو اسلام کے کھاتے میں مت ڈالیے۔ اپنے گریبان میں جھانکیے تو دکھائی دے گا، کہ وہ بھیڑیے تم ہو، وہ بھیڑیا میں ہوں۔ وہ بھیڑیے ہم ہیں۔