بلوچستان سانحات کی زد میں، محرکات کیا ہیں؟ غلام نبی مدنی

سچ کڑوا مگر دیرپا ہوتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ سچائی کا ساتھ دے کر زندہ رہنا چاہیے۔ مصلحت اور خوشامد انسانوں کو وقتی راحت دیتی ہیں مگر ابدی زندگی نہیں دی سکتیں۔حقائق کوجان کر ان کا سامنا کرنا بہادری ہی نہیں، قوموں کی بقا کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ غلطیاں کرنا برا نہیں، ان سے نہ سیکھنا اور آئندہ ان سے بچنے کی تدابیر اختیار نہ کرنا برا ہوتا ہے۔ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں انھی غلطیوں سے سیکھ سیکھ کر آسمان تک پہنچی ہیں۔ انسانی زندگی میں انقلاب انہیں تجربات سے آیا جن کے پیچھے ایک نہیں، ہزاروں غلطیاں تھیں۔ افسوس ہمارے ہاں نہ صرف غلطیاں دہرائی جاتی ہیں، بلکہ ان پر پردہ ڈال کر سچ کا چہرہ بھی چھپا دیا جاتا ہے۔\r\n\r\nدرگاہ شاہ نورانی سانحہ کوئی نیا سانحہ نہیں، ہر ماہ بلوچستان میں کوئی نہ کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے۔ رواں سال بلوچستان میں ہونے والے ان المناک سانحات پر نظر دوڑائی جائے تو سال کے 10 مہینوں میں اب تک لگ بھگ 18 سے زائد ایسے سانحات ہوچکے ہیں جن میں سینکڑوں معصوم لوگ مارے گئے۔ صرف کوئٹہ ہی کو لے لیں، جہاں رواں سال دس مہینوں میں پانچ بار 160 سے زائد معصوم لوگوں کا خون بہایا گیا، اور سینکڑوں لوگوں کوزخمی کیا گیا۔ ان میں اگست اور اکتوبر کے دو بڑے سانحات بھی شامل ہیں، جن میں وکلا اور پولیس کیڈٹس کو نشانہ بنایاگیا۔ مجموعی طور پر بلوچستان میں مارے جانے والےسینکڑوں لوگ ان کے علاوہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ سانحات روز روز کیوں ہوتے ہیں؟ کیوں ہم ایک سانحے سے سبق لے کر آئندہ ایسے سانحات سے بچنے کی تدابیر اختیار نہیں کرتے؟ بظاہر ان سانحات کو دہشت گردی کی گنجلک اصطلاح سے جوڑ کر عوام کو یقین دہانی کروا دی جاتی ہے کہ جلد دہشت گردوں کو خاتمہ کر دیا جائے گا، لیکن ان دہشت گردوں کا خاتمہ پچھلے 13 سال سے ہوا ہے، نہ آئندہ کوئی امید نظر آ رہی ہے۔\r\n\r\nحیرت ہے جس دہشت گردی کی آڑ میں عالمی غارت گروں نے افغانستان اور عراق کو تہہ تیغ کیا، شام کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور ترکی اور خلیجی ممالک کو خانہ جنگی کی آگ میں دھکیلا، آج ہم انھی اصطلاحات کو استعمال کرکے ان غارت گروں کو پاکستان کی طرف بڑھنے کا موقع دے رہے ہیں۔ تعجب اس پر بھی ہے کہ بسا اوقات ان سانحات کو فرقہ واریت سے جوڑ کر عوام کو ایک دوسرے کا دشمن بھی بنایا جاتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے بھی غیرشعوری طور پر ان سانحات کے اصل محرکات تلاش کرنے کی بجائے ان گنجلک اصطلاحات میں قوم کو الجھا کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں ان سانحات کے ذمے دار کلبھوشن یادیو اور اس کے بھارتی و ہمسائے میں بیٹھے سرپرست ہیں، جن کی ایما پر ملک میں فساد پھیلانے والے ہرکاروں کو استعمال کیا جاتا ہے، اور یہی بلوچستان سمیت ملک بھر میں تخریب کاری کے اصل ذمہ دار ہیں۔ لیکن افسوس میڈیا ایران کے راستے آنے والی تخریب کاری کو سامنے لاتا ہے، نہ ہماری قومی سلامتی کے ادارے اس پر کوئی بات کرتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جو تخریب کاروں کے اصل روٹس پر بات کرے، اسے فرقہ پرست ڈیکلئر کردیا جاتا ہے۔ ایران کی پاکستان میں مداخلت اتنی واضح ہے کہ اب اس کے ہرکارے آئے روز پکڑے جا رہے ہیں۔ پہلے بھارتی اور ایرانی ایجنٹ کلبھوشن یادیو پکڑا گیا، پھر 198 لوگوں کا قاتل عذیر بلوچ ایرانی پاسپورٹ پر پکڑا گیا، اور اس نے ایران کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے کام کرنے کا بھی اقرار کیا، چند دن پہلے کراچی سے مہدی موسوی نامی ایرانی ٹارگٹ کلر پکڑا گیا، جو پولیس وردی اور پولیس موبائل تک استعمال کرکے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کرتا رہا۔ اس کے علاوہ فرقہ پرستی میں ملوث اور ایران کے خصوصی رابطہ کار سابق سینیٹر کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ وہ بڑے نام ہیں جو رواں سال 10 مہینوں میں گرفتاری کی وجہ سے سامنے آئے۔ جبکہ بلوچستان میں ایرانی فوجیوں کی دراندازیاں اس کے علاوہ ہیں۔ اس سال ستمبر کے آخر میں ایران نے بلوچستان کے علاقے پنجگور میں مارٹرگولےگرائے جو ایف سی کی پوسٹوں کے قریب گرے۔گزشتہ سال اکتوبر میں ایرانی فوجی وردی میں ملبوس دہشت گردوں نے بلوچستان میں چار لیویز اہلکاروں کوگولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ 26 مارچ 2015ء کو بھی ضلع واشک میں ایرانی فورسسز نے لیویز اہلکاروں پر فائرنگ کی۔2014ء میں بھی ایرانی سرحدی فوجیوں کی طرف سے بلااشتعال بلوچستان میں فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد ایرانی فوج کے ڈپٹی جنرل نے بلوچستان میں کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔ ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد 730 کلومیٹر سے زیادہ ہے، ایران نے اس طویل سرحد کو مضبوط قسم کی جالیوں سے بند کیا ہوا ہے جبکہ ایران پاکستان کے ساتھ جڑی اس سرحد پر تین فٹ چوڑی اور دس فٹ بلند دیوار بھی تعمیر کر رہا ہے لیکن اس سب کے باوجود پاکستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ اتنی زیادہ ہے کہ گزشتہ سال حکومت نے 24 ارب کا تیل اسمگل ہوتے ہوئے پکڑا۔ قومی سلامتی کے اداروں کو اصل دشمنوں کے خلاف متحرک ہونا ہوگا اور دنیا کے سامنے ان کو بے نقاب کرکے مظلوموں کے خون کا حساب لینا ہوگا، تب جاکر ملک میں امن آئے گا۔

Comments

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی

غلام نبی مدنی مدینہ منورہ میں مقیم ہیں، ایم اے اسلامیات اور ماس کمیونیکیشن میں گریجوایٹ ہیں۔ 2011 سے قومی اخبارات میں معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی ایشوز پر کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کے لیے خصوصی بلاگ اور رپورٹ بھی لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.