دانشوری کے دھندے کی مجبوری - محمد نعمان بخاری

نعمان بخاری ہم ایک کنفیوژڈ، فکری یتیم اور عمل سے عاری قوم بنتے جا رہے ہیں،، یا پھر باقاعدہ بنائے جا رہے ہیں.. جس نتھو خیرے کو دیکھو سوال کی حرمت کے نام پہ فضول ترین سوالوں کی پوٹلیاں اٹھا کر گھومے اور گھمائے چلا جا رہا ہے.. اگر بندے کے پاس کرنے کو کچھ مفید کام نہ ہو تو نصیب میں ٹائم پاسنگ سوال ہی بچتے ہیں .. سوال بھی ایسے کہ جن کے اگر جواب مل جائیں تو اُن جوابوں میں مزید اوٹ پٹانگ سوالات کی گھمرگھیریاں شروع ہو جاتی ہیں اور بےعملی کا یہ لاحاصل سلسلہ اچھے بھلے مطمئن انسان کو صاحبِ تشویش بنا دیتا ہے.. یہودیانہ کلچر کا دور دورہ ہو اور بنی اسرائیل والی خصلتیں پیدا نہ ہوں،، یہ کیسے ممکن ہے صاب.. بیکار سوچنے اور سوال برائے سوال کریدنے سے بےیقینی اور بےاطمینانی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا.. کام کرنے والے آگے نکل جاتے ہیں اور جواب کے سوالی مقامِ یاسیت پہ کھڑے آنکھوں میں سوال لئے گزرنے والے قافلوں کو تکتے رہتے ہیں.. ان کی گاڑی سوالیہ اسٹیشن سے آگے بڑھنے پائے بھی تو سامنے ایک نیا سوال راستہ روکنے کو تیار کھڑا ہوتا ہے..!\n\nہمیں سوچنے سے مسئلہ نہیں ہے میری جان! البتہ ”صرف سوچنے“ کے ہم قائل نہیں ہیں.. ہم اُس تدبر و تفکر کے داعی ہیں جس کی منزل الجھن سے شروع ہو کر سلجھن تک پہنچتی ہے.. سوال وہ ہوتا ہے جو بے ساختہ ہمارے ذہن میں پیدا ہو یا واقعی جاننے کی طلب میں نکلے،، ورنہ وہ مرض ہوتا ہے اور سوالی مریض.. ہر سوال کا یہ حق نہیں کہ وہ لازماً جواب پائے.. کچھ سوال محض اعتراض پہ مبنی ہوتے ہیں اور کچھ استہزاء یا دل لگی کو کیے جاتے ہیں.. ان کا جواب دینا غیرضروری ہوتا ہے.. ایسے سوال جو کسی خاص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سوچے بلکہ گھڑے جاتے ہیں وہ عوامی اذہان کو خلفشاری میں مبتلا کرتے ہیں.. اسی طرح کے سوالات کی ہمارا دانشور طبقہ بڑے زور شور سے ترویج کرتا ہے.. بلاناغہ اٹھائے جانے والے ان انتشاری سوالوں کو اگر ہم دانشوروں کے دھندے کی مجبوری کہہ بیٹھیں تو جواب آتا ہے کہ نیت پہ سوال اٹھانا سخت منع ہے.. سوال کرنا بُرا نہیں ہے،، ہمیشہ بس سوال ہی کرتے چلے جانا اور کبھی تسلی نہ ہو پانا بُرا ہے .. سوالات کے ان جامد مقلدین کو جواب کی نہیں علاج کی ضرورت ہوتی ہے.. ذرا سوچیے.