نرینہ اولاد کی خواہش اور مظلوم عورت - بشارت حمید

بشارت حمید اس کرہ ارضی پر نسل انسانی کی ابتدا سے لے کر آج تک ارب ہا ارب انسان گزر چکے ہیں اور تاقیامت یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ کوئی اللہ تعالٰی کے وجود کو ماننے والا ہو یا اس کا انکار کرنے والا، آخرت کی جواب دہی اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کو مانے یا نہ مانے لیکن اس بات کو ضرور مانتا ہے کہ ہماری یہ زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے اور ایک دن یہ دنیا چھوڑ جانی پڑے گی۔\n\nجب ہر انسان اس بات کو جانتا اور مانتا ہے کہ وہ یہاں ہمیشہ کے لیے نہیں ہے تو اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ میرے بعد میری ہستی کا تسلسل جاری رہے۔ اللہ تعالٰی نے ہر جاندار جسم کے اندر ری پروڈکشن کا پورا پراسیس ابتداء ہی سے رکھ دیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی نسل کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ اس ری پروڈکشن کے عمل سے ہر نوع میں نر اور مادہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ لیکن نر یا مادہ کا انتخاب کسی بھی نوع کے اختیار میں نہیں ہے۔\n\nبیٹے کے حصول کی خواہش ہر انسان کے دل میں ہے لیکن انسان بائی چوائس بیٹا حاصل نہیں کر سکتا۔ یہ اس روئے زمین پر اللہ تعالٰی کا نظام ہے کہ مرد اور عورت کی تعداد کے لحاظ سے ایک تناسب قائم رہے۔ کسی کو صرف بیٹے ہی دیتا ہے تو کسی کو صرف بیٹیاں۔ اور کسی کو دونوں نعمتوں سے نوازتا ہے اور کسی کو کچھ بھی نہیں دیتا۔\n\nزمانہ جاہلیت میں لوگ بیٹا پیدا ہونے پر خوشیاں مناتے اور بیٹی کی پیدائش پر سوگ۔ کئی تو ایسے بدبخت تھے کہ گڑھا کھود کر اس میں بیٹی کو دبا کر اوپر سے مٹی ڈال کر زندہ ہی دفن کر دیتے تھے کہ گھر میں بیٹی پیدا ہونا انکے نزدیک بے عزتی اور بے غیرتی کا مقام تھا۔\n\nسرزمین حجاز میں حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم کی بعثت کے بعد قرآن مجید کا نزول شروع ہوا اور اسلام نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور اسلام قبول کرنے والوں پر یہ واضح کیا گیا کہ اولاد اللہ تعالٰی کی عنایت ہے، وہ جسے چاہے اور جو چاہے عطا کر دے۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے والوں پر اللہ کا غصہ اتنا شدید ہے کہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: قیامت کے دن اس قتل ہونے والی بچی سے پوچھا جائے گا کہ تم بتاؤ تمہارا کیا جرم تھا جس کی پاداش میں تمہیں جان سے مار دیا گیا؟ یعنی اللہ تعالٰی فرمائے گا کہ تمہاری پیدائش تو میرے حکم سے ہوئی پھر کس نے تمہیں قصور وار ٹھہرایا؟\n\nموجودہ سو کالڈ مہذب دور میں بھی انسانی رویے دور جاہلیت سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتے۔ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں ہندوانہ پس منظر کے حامل مسلمان اب بھی بیٹی کی پیدائش کو عورت کا جرم عظیم سمجھتے ہیں اور طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے حالانکہ میڈیکل سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ بیٹے یا بیٹی کے چوائس میں عورت کا سرے سے کوئی کردار ہے ہی نہیں ہے۔ کئی بدبخت تو بیچاری عورت کو جان سے مارنے کا اقدام بھی کر گزرتے ہیں کہ اس کے ہاں بیٹی کیوں پیدا ہوئی۔\n\nبیٹی کی پیدائش پر طعنے دینے والی بھی اکثر ساس یا نند کے روپ میں عورت ہی ہوتی ہے جو اتنا نہیں سوچتی کہ وہ خود بھی تو اپنے والدین کی ایک بیٹی ہی ہے۔ یہ سب کچھ دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات سے ناواقفیت رکھنے کا نتیجہ ہے کہ ہم نام کے مسلمان تو ہیں مگر اعمال اور عقائد ہندوؤں والے ہی ہیں۔\n\nقرآن مجید زندگی کے ہر شعبے میں ہماری راہنمائی کرتا ہے۔ سورہ الشوریٰ میں ارشاد فرمایا گیا \n”زمین و آسمان کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے۔ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے اولاد رکھتا ہے۔ بے شک وہ جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے“\nیعنی اولاد دینا یا نہ دینا اللہ تعالٰی کی عنایت سے ہے۔ اور اس کی عطا سراسر حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس کو کیا دینا ہے اور کیا نہیں۔\n\nہم اپنی روزمرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کو اللہ تعالٰی بیٹا عطا کرتا ہے لیکن وہی بیٹا جس کی پیدائش پر والدین نے خوشیاں منائیں اور بچپن میں لاڈ اٹھائے، بڑا ہو کر اپنے والدین کے لئے سوہان روح بن گیا یہاں تک کہ بڑھاپے میں والدین کو گھر سے نکال باہر کیا یا زیادہ رحم دلی دکھائی تو اولڈ ہاؤس چھوڑ آیا اور پھر ہم کئی والدین کو یہ کہتے ہوئے بھی سنتے ہیں کہ اس سے بہتر تھا کہ ہمارے ہاں اولاد پیدا ہی نہ ہوتی۔ اور اسی طرح یہ بھی مشاہدے میں آتا ہے کہ جس بیٹی کی پیدائش پر والدین مغموم ہوئے اسی نے انکی خدمت کا حق ادا کر دیا اور بڑھاپے کا سہارا بنی۔\n\nاسی طرح سورہ کہف میں حضرت موسٰی اور خضر علیہما السلام کے واقعے میں اللہ تعالٰی کے تکوینی امور کو ہماری راہنمائی کے لئے بیان کیا گیا ہے۔ اس میں ذکر ہے کہ جب دونوں سفر پر چلے تو راستے میں ایک جگہ ایک لڑکا ملا۔ حضرت خضر نے اسے قتل کر دیا تو حضرت موسٰی نے حضرت خضر سے کہا کہ یہ آپ نے کیا حرکت کر دی، ایک جان کو ناحق قتل کر دیا۔ حضرت خضر نے جواب دیا کہ اس لڑکے کے والدین بہت نیک ہیں اور یہ لڑکا بڑا ہو کر ان کے ساتھ بغاوت اور سرکشی کا ارتکاب کرنے والا تھا اس لیے آپ کے رب نے چاہا کہ اس کے بدلے ان کو نیک اور صالح اولاد عطا فرمائے اور مستقبل میں پیش آنے والی پریشانی سے بچائے لہذا اس لڑکے کو اللہ کی مشیت کے تحت والدین سے چھین لیا گیا۔\nاب بظاہر تو والدین کے لیے بچے کی جدائی ایک بہت بڑا صدمہ ہے لیکن اس میں بھی ان کے لیے خیر ہی تھی جس کو ہم انسان نہیں سمجھ سکتے مگر اللہ کے علم میں ہوتا ہے کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے اور کیا نہیں۔ اللہ تعالٰی کے ہر کام میں حکمت ہے وہ جو بھی کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے۔ اگر کسی کو بیٹا یا بیٹی عطا کرتا ہے تو اس میں بھی اس کی حکمت کارفرما ہے اگر کسی کو بے اولاد رکھتا ہے تو یہ بھی حکمت سے خالی نہیں ہے۔ ہمیں اللہ کی ذات پر یقین رکھتے ہوئے اس کی عطا پر راضی رہنا چاہیے اور یہ دعا کرتے رہنا چاہیے کہ وہ ہمیں جو کچھ بھی دے اس میں ہمارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی ہی ہو نہ کہ ہمارے لیے وبال جان بن جائے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.