بھوکے گدھ - رضوان اللہ خان

یہ غالباََ 2012ء کا وسط تھا، میں گلبرگ میں واقع جس آفس میں بیٹھا تھا، وہ ایک نجی چینل سے منسلک ایک صاحب (میں انہیں شاہ جی کہا کرتا تھا، اوریجنل نام مخفی) کا تھا۔ شاہ جی مجھے چھوٹا بھائی کہا کرتے تھے اور ان دِنوں وہ بے تاب تھے کہ میرا پورٹ فولیو جلد تیار ہوجائے۔ لیکن اس سب میں ایک رکاوٹ تھی اور وہ یہ کہ میرے گھر والوں کو معلوم نہ تھا کہ میں یونیورسٹی کے بعد کبھی کبھی دوستوں کے پاس جاتا ہوں یا اپنے کیرئیر کا کوئی خواب لیے شاہ جی کے آفس۔

اس دن ویٹنگ روم میں ہمیشہ کی طرح جینز، ٹی شرٹ میں ملبوس لڑکیاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں شاہ جی کے آفس کے اندر چلا گیا.
شاہ جی نے دیکھتے ساتھ کہا،
”بیٹا جی شوٹنگ روم میں پہنچو جلدی“،
پوچھا ”شاہ جی خیر ہے؟“۔
جواب ملا ”کبھی تو سوال چھوڑ بھی دیا کر“۔
میں مسکراتا ہوا شوٹنگ روم کی جانب بڑھ گیا، دروازہ کھول کر ابھی قدم رکھا ہی تھا کہ دو تین لڑکیاں دیکھ کر واپس نکل آیا. فوری اندر سے کیمرہ مین سلیمان نکلا اور مجھے لے کر اندر چلا گیا۔ میں سامنے پڑے زرد رنگ کے خوبصورت صوفے پر جا بیٹھا، سلیمان پاس آیا، میرے بال ٹھیک کرنے لگا، میں نے حیرت سے پوچھا
”کیا ہوا؟ خیر ہے نا؟“۔
جواب ملا ”یہ نورین ہے، شاہ جی نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ تمہارا کپل شوٹ ہوگا“۔
میں پریشانی سے اچانک کھڑا ہوا اور کہا کہ میں شاہ جی سے بات کرتا ہوں، میں کسی لڑکی ساتھ شوٹ نہیں کروا سکتا۔ یہ کہہ کر میں شاہ جی کے پاس پہنچا۔
شاہ جی دیکھتے ہی مسکرانے لگے اور طنزا کہا،
”پھر وہی نخرے ہوں گے کہ میں لڑکیوں کے ساتھ شوٹ نہیں دوں گاَ؟“
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
شاہ جی کہنے لگے،
”یار پورٹ فولیو مکمل کرنے کے لیے آخری 5 تصاویر کی ضرورت ہے، لوگ 50 50 ہزار میں پورٹ فولیو بنواتے ہیں، میں اپنے چھوٹے بھائی کا مفت میں بنا رہا تاکہ یہ جو تین چار پروڈیوسرز اپنے من پسند لڑکے لے آئے ہیں، انہیں بھی کچھ پتہ لگے، تم نے صرف اس لڑکی کو ایک ہزار دینا ہے، ان 5 تصاویر کا“۔
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا اور صاف جواب دیا،
”شاہ جی! مجھے تو ویسے بھی گھر سے اجازت بھی پتہ نہیں ملے یا نہیں لیکن میں لڑکی کے ساتھ شوٹ نہیں دے سکتا، برا نہ مانیے گا۔“
اب شاہ جی نے انتہائی غصے سے دیکھا اور جلد ہی اپنے تاثرات بدل لیے اور بولے،
”یہ حرام--- کو بھی ماڈلنگ کا شوق ہے لیکن ہاتھ لگاؤ تو چیختی ہے، اسی لیے اس کو بھی بس لٹکانا ہے، 1000 میں ایک شوٹ دے اور چلتی بنے، یہاں ایسی لڑکیوں کی کوئی جگہ نہیں۔“
میں جیسا بھی تھا لیکن اس بات پر شدید غصہ آیا لیکن خاموش رہا۔ لیکن جوں ہی مجھے موقع ملا اس لڑکی کے پاس گیا اور پوچھا،
”تمھیں ماڈل کیوں بننا ہے؟“
کہنے لگی، ”میں بھی کسی سے کم نہیں، لیکن ہاں بس ان لوگوں کی طرح ہمارے پاس گاڑیاں نہیں ہیں، ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر شوق چڑھا اور آگئی“۔
پوچھا، ”کیا تمہارے ماں باپ کو علم ہے؟“
ہنس کر کہنے لگی ”مرنا ہے کیا میں نے؟“۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسے کیا کہوں کہ اچانک میں نے سیدھی طرح بات کی اور کہنا شروع ہوا،
”یہ تمہاری عزت کے بھوکے ہیں، شاہ جی اندر تمہیں گالیاں دے رہے تھے، اگر تم ان کے ساتھ وہ سب نہیں کرلوگی جو وہ چاہتے ہیں تب تک تم ماڈل نہیں بن سکتی، کیا تمہارے ماں باپ نے اس لیے بڑا کیا کہ اس گند میں آجاؤ؟ دیکھو میں بھی کوئی اچھا انسان نہیں ہوں لیکن مجھ سے یہ سب نہیں دیکھا جاتا، کیا تمہاری بیٹی یہ سب کرے تو برداشت کرو گی؟“
وہ کچھ دیر خاموش رہی اور پھر بنا کچھ کہے آفس سے چلی گئی۔

وہ لڑکی جس کا حلیہ دیکھ کر میں اسے ایک گھٹیا اور فحش لڑکی سمجھ رہا تھا، وہ صرف دیکھا دیکھی اس لباس میں بے لباس ہونے آئی تھی، حالانکہ وہ تو خود کو چھونے بھی نہ دیتی تھی، جو کہ شاہ جی کی باتوں سے واضح تھا۔ کچھ دیر بعد سلیمان نے شاہ جی کو بتایا کہ وہ نورین تو جا چکی تو آج پھر سے شاہ جی کے وہ الفاط کانوں میں گونج رہے ہیں،”کرنی ماڈلنگ ہے اور شریف زادی بھی رہنا ہے، دماغ خراب اس کا۔“ شاہ جی کی عادت تھی وہ ہر لڑکی کو گالی دیا کرتے تھے، کتنی ہی ایسی لڑکیاں شاہ جی، سلیمان اور ان کے دوستوں کی ہوس کا نشانہ بن چکی تھیں، لیکن بس وہی 1000 کا شوٹ اور گھر۔

تقریباََ 6 ماہ بعد ہی رب نے ہدایت عطا فرمائی، میں نے خوشی خوشی اس گندے شوق کو ترک کیا اور چہرے پر ڈاڑھی سجا لی۔ ڈاڑھی رکھنے کے 3 ماہ بعد شاہ جی سے ملاقات ہوئی، شاہ جی مجھے دیکھ کر حیران تھے، پچھلے 4 ماہ میں ہمارا کوئی رابطہ نہ ہوا تھا، اب جب ہوا تو اس حالت میں۔ شاہ جی نے آفس اندر آنے کی دعوت بھی نہ دی اور بس اتنا کہا، ”طالبان صاحب کہاں غائب رہے ہو؟ اچھا تم جس کام سے آئے ہو، وہ کر لو اور کسی دن چکر لگانا، میں بھی آج بہت مصروف ہوں۔“
میں بات مذاق میں اڑا کر گھر چلا گیا، تین دن بعد شاہ جی کا فون آیا اور اسی پرانے انداز میں بات کرتے ہوئے اچانک کہا،
”کل رات ڈیفنس میں ڈانس پارٹی ہے، تمہارا پاس میں خرید چکا ہوں، ضرور آنا.“
میں نے حیرت سے جواب دیا ”شاہ جی میں کبھی پہلے نہیں گیا تو اب کیسے جا سکتا ہوں۔“
شاہ جی نے ہنستے ہوئے کہا کہ ”او کُج وی نئی ہوندا، سب چلتا ہے، لڑکی تجھے وہیں مل جائے گی.“
میرا وجود اس وقت نہ جانے کیوں کانپ رہا تھا، بس یہ کہہ پایا، ”شاہ جی! آپ بھی یہ کام چھوڑ دیں.“ اور فون بند کر دیا۔ شاہ جی ہفتے دو ہفتے بعد ایسی ہی دعوتیں دیتے رہے اور میں ”آپ بھی چھوڑ دیں ایسے کام“ کہہ کر فون بند کر دیا کرتا۔ میں جانتا تھا کہ یہ کیا شیطانی چکر ہے، بس رب نے بچائے رکھا۔

آج ان واقعات کو گزرے کم و بیش 3 سال ہوچکے۔ یہ وہ راز کی باتیں تھیں جو میرے دوستوں میں بھی چند کے علاوہ کوئی نہ جانتا تھا۔ نورین کو کبھی ٹی وی پر نہیں دیکھا اور اللہ کرے وہ اس دلدل سے بچ گئی ہو، شاہ جی کا اتنے عرصے سے کوئی اتہ پتہ نہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ بھی اس کام سے ہاتھ کھینچ چکے ہو۔ عرض یہ ہے کہ جن ذہنوں میں ننگا پن اس قدر رچ بس گیا ہے کہ انہیں اس کے خلاف بات کرنے والے زہر لگتے ہیں، وہ اپنی بیٹیوں کے متعلق صرف اتنا بتا دیں کہ کیا وہ اپنی بیٹی بہن کےلیے بھی یہ سب پسند کر سکتے ہیں؟ وہ اپنی بیٹی کی عزت ایسے اچھلتی دیکھ سکتے ہیں؟ وہ اپنی بیٹی کو گالیاں پڑتی سن سکتے ہیں؟\nمہربانی فرمائیں اور کیرئیر اور دوسروں کے بستروں کی زینت بننے میں فرق ضرور ذہن میں رکھیں۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */