یورپ کی سب سے بڑی مسجد کا یادگار سفر - شازیہ طاہر

سفرنامہ کا مفہوم یہ ہے کہ دورانِ سفر مسافر جس طے شدہ منزل پر پہنچتا ہے اور وہاں اس کے جو بھی مشاہدات، تاثرات اور کیفیات ہوتی ہیں یا جو حالات اس کو پیش آتے ہیں، انھیں صفحۂ قرطاس پر منتقل کرنے کے لیے حالاتِ سفر کو جمع کرتا ہے اور پھر دوسروں کو اپنے مشاہدات سے باخبر کرنے کے لیے ان کو صفحہ قرطاس پر منتقل کر دیتا ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا دریافت شدہ باقاعدہ سفرنامہ یونانی سیاح میگس تھینز کا تحریر کردہ ’’INDICA‘‘ (سفرنامہ ہند) ہے، جو ہندوستان کے سفر کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس یونانی سیاح نے 300 قبل مسیح میں ہندوستان کا سفر کیا تھا۔ آئیے آج ہم بھی آپ کو اپنے ایک یادگار سفر سے آگاہی دیتے ہیں۔

اطالوی آئین مذہبی آزادی کے حوالے سے بہت واضح ہے، اور یہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی اپنی عبادات کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے لیکن ابھی تک اٹلی میں بھی کچھ دوسرے یورپی ممالک کی طرح مساجد کی تعمیر، میناروں اور گنبد بنانے پر پابندی ہے۔ یہاں پر تقریبا ہر اس شہر یا علاقہ جہاں مسلمان آباد ہیں، اسلامک کلچرل سنٹرز موجود ہیں لیکن باقاعدہ تعمیر شدہ واحد مسجد صرف دارالحکومت روم میں ہی ہے۔ روم کو اطالوی زبان میں روما Roma کہا جاتا ہے۔ یہ بہت پرانا اور تاریخی شہر ہے۔ روم اپنی تاریخی حیثیت کے باعث یونیسکو کے عالمی ورثے کا امین ہے۔ شاندار تاریخی محلات، صدیوں پرانے کلیساؤں، رومی معاشرت کی یادگاروں، عبرت انگیز کھنڈرات، جگہ جگہ نصب مجسموں اور تازگی بخشتے ہوئے فواروں کی بہتات لیے ہوئے روم دنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔

mosque-of-rome-italy-3اگرچہ اٹلی میں رہتے ہوئے تقریبا دس سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور دو مرتبہ روم جانے کا اتفاق بھی ہوا لیکن ابھی تک اٹلی کی مشہور اور واحد تعمیر شدہ مسجد دیکھنے کی خواہش پوری نہیں ہو سکی تھی۔ بالآخر 27 ستمبر 2016 کو یہ خواہش بھی پوری ہو ہی گئی۔ ستمبر کے آخر میں اٹلی کا موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے۔ سو اب کے دورہ روم میں یہ طے پایا کہ روم مسجد کی سیر ضرور کر کے آئیں گے۔ روم کا تاریخی شہر ہمارے شہر بریشیا سے تقریباً 600 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، گاڑی پر 6 سے 7 گھنٹے کا طویل اور تھکا دینےوالا سفر ہے، چنانچہ طے یہ پایا کہ کیوں نہ اس مرتبہ یہ سفر ٹرین پر کیا جائے۔ اٹلی میں ٹرین کاسفر انتہائی پرسکون اور آرام دہ ہوتا ہے، اور ان دنوں ویسے بھی ایک نئی ٹرین سروس ITALO TRAIN کا بڑا چرچا سن رکھا تھا، سو اسی ٹرین کی آن لائن بکنگ کروائی گئی۔ مقررہ تاریخ کو اپنے مجازی خدا کے ہمراہ اللہ کا نام لے کر سفر کا آغاز کیا۔ گاڑی بریشیا ریلوے سٹیشن پر پارک کی اور سٹیشن پہنچ کر اپنی مخصوص ٹرین کا نمبر تلاش کیا۔ ٹرین اپنے مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے سٹیشن پر پہنچی۔ ٹرین میں بیٹھتے ہی ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ ٹرین کی سیٹس بالکل ہوائی جہاز کی طرز پر نہایت کھلی اور آرام دہ تھیں۔ ٹرین نے پورے وقت پر سفر کا باقاعدہ آغاز کیا۔ تقریباً 25 منٹ کے بعد جب ٹرین اپنے پہلے سٹیشن VERONA شہر جا کر رکی تو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا کہ دوسری ٹرینیں تو پورے ایک گھنٹے بعد اس سٹیشن پر آ کر رکتی تھیں۔اس کے بعد ٹرین صرف دو سٹیشنوں بلونیا اور فلورینس پر کچھ دیر رکی اور پھر اپنی منزل یعنی روم تیرمینی سٹیشن کی طرف رواں دواں ہو گئی۔ 1 تیرمینی سٹیشن سے روم مسجد کا فاصلہ تقریباً ایک گھنٹے کا ہے۔ وہاں سے میٹرو پر مسجد کے قریب ترین سٹیشن پر اترے۔ میٹرو سٹیشن پر ایک اوور برج پار کرتے ہی دور سے مسجد کا پرشکوہ، بلند اور خوبصورت گنبد اور مینار نمایاں نظر آرہا تھا۔ گنبد کا قطر 20میٹر ہے۔ مینار پر نظر پڑتے ہی سر بےاختیار فخر سے بلند ہوگیا کہ عیسائی دنیا کے اس مرکز، جو پوری دنیا میں عیسائیت کا قبلہ ہے، یہ مسجد پوری شان و شوکت، آن بان اور رعب و دبدبہ سے کھڑی تھی، یوں محسوس ہوا جیسے ہم آٹھ سو سال پہلے یورپ میں مسلمانوں کے سنہرے دور اور عظمتِ رفتہ میں آگئے ہیں۔

5 اپنے خیالات کی رو میں بہتے بہتے مسجد کے مرکزی گیٹ سے ٖاندر داخل ہوئے تو مسجد کی خوبصورتی اور سحر میں کھو سے گئے۔ یہ مسجد اطالوی فنِ تعمیر کا ایک بہترین نمونہ ہے۔ مسجدکے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی خوبصورت اور انتہائی نفاست سے تراشےلمبے لمبےسرو کے پودے اور بیرونی دیواروں کے ساتھ ساتھ دور تک صاف ستھرا باغ نما لان دیکھ کر بہت خوشگوار حیرت ہوئی۔ یوں گمان ہو رہا تھا جیسے ہم مغلیہ دور کے کسی پائیں باغ میں آنکلے ہوں۔

3 روم کی جامع مسجد کو انگلش میں Great Mosque Rome یا Islamic Cultural Centre Rome اور اٹالین زبان میں Grande Moschea Roma کہتے ہیں۔ غیر اسلامی ممالک میں یہ بھارت اور روس کو چھوڑ کر اٹلی اور یورپ کی سب سے بڑی مسجد ہے، جو کہ 30,000 مربع میٹر (320000 مربع فٹ) کے رقبے پر محیط ہے اور 12000 لوگ بیک وقت اس میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد روم کے علاقے Monti Parioli کے دامن میں شہر سے شمال کی طرف Acqua Acetosa کے علاقے میں واقع ہے۔ شہر کی واحد مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اسلامک کلچرل سنٹر بھی ہے۔ مذہبی سرگرمیوں کے لیے ایک مرکز ہونے کے علاوہ یہ دنیا کے مختلف ممالک کے دین کی وجہ سے منسلک مسلمانوں کو ثقافتی اور سماجی خدمات فراہم کرتی ہے۔ یہاں پر شادی کی تقریبات بھی منعقد ہوتی ہیں۔ تعلیم وتربیت کا بھی ایک شعبہ ہے، جس میں ایک کتاب خانہ، بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے تدریس کا ہال، کانفرنس ہال، نمائش گاہ کی جگہ اور امام مسجد اور مہمانوں کے لیے رہائشی فلیٹ بھی ہیں۔ مسجد کے چاروں طرف سرسبز علاقہ ہے۔ مسجد کی تعمیر میں جدید طرزِ تعمیر سے کام لیا گیا ہے۔ اس کا بیرونی حصہ بھی نہایت خوبصورت اور دلکش ہے۔

مسجد کی عمارت دو حصوں پر مشتمل ہے۔ اس کا پہلا حصہ، جو سطح زمین سے 8 میٹر بلند ہے اور 60 میٹر چوڑا مستطیل شکل کا ہے جو قبلہ کی طرف واقع ہے، اور اس کے مرکزی ہال کے اوپر ایک گنبد ہے جس کا قطر 20 میٹر ہے۔ جس کے اطراف میں 16 چھوٹے چھوٹے گنبد ہیں، جن سے اس مسجد کی رونق بڑھ گئی ہے۔ اس کا دوسرا حصہ H کی شکل میں ہے، جس نے مسجد کی تمام فضا کو اپنے اندر سمیٹا ہوا ہے۔2 مسجد کا مینار اس کے جنوب مغربی حصہ پر واقع ہے۔ مسجد کی تعمیر سعودی عرب کے شاہی خاندان کے سربراہ شاہ فیصل کی مرہونِ منت ہے جنہوں نے اس کارِ خیر کو سر انجام دینے کا بیڑا اٹھایا اور تمام اخراجات برداشت کیے۔ مسجد کا ڈیزائن اور ہدایات اطالوی ماہرتعمیرات Paolo Portoghesi Vittorio Gigliotti اور Sami موساوی نے دیں۔ مسجدکی منصوبہ بندی پر تقریبا دس سال لگے۔ روم سٹی کونسل نے 1974ء میں زمین کا عطیہ دیا لیکن سنگِ بنیاد دس سال بعد اطالوی جمہوریہ کے اس وقت کے صدر SANDRO Pertini کی موجودگی میں 1984ء میں رکھا گیا، اور 21 جون 1995ء کو مسجد کا با قاعدہ افتتاح افغانستان کے جلاوطن شہزادے محمد حسن اور ان کی بیوی شہزادی رضیہ بیگم اور اس وقت کے اطالوی صدر نے کیا۔ مسجد کے اندرونی ہال اور راہداریوں میں بنے بےشمار ہتھیلی نما ستون اللہ اور اس کے اطاعت گذار بندے کے درمیان مضبوط تعلق کی نمائندگی کرتے ہیں۔

the-mosque-of-rome چلیے اب مسجد کی سیر کی طرف دوبارہ آتے ہیں۔ اسی دوران نمازِ عصر کا وقت شروع ہو چکا تھا۔ وضو خانہ کی طرف ایک صاحب نے رہنمائی کی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ مسجد کے موذّن ہیں۔ وضو خانہ بیرونی گیٹ کی داہنی طرف سیڑھیاں چڑھ کر تقریبا بیس فٹ کی بلندی پر اور مسجد کے مرکزی گنبد والے ہال کے نیچے تھا اور کافی کشادہ تھا۔ وضو کر کے واپس نیچے اترے اور بائیں طرف نماز والے کمرے کی طرف جا ہی رہے تھے کہ زن سے ایک گاڑی ہمارے پاس آ کر پارک ہوئی اور اس میں سے مخصوص عربی لباس میں ایک صاحب نکلے اور بآوازِ بلند مسکراتے ہوئے السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کہا۔ ہمارے شوہرِنامدار نے بھی انھی کے انداز میں سلام کا جواب دیا۔ ماشاءاللہ وہ مسجد کے امام صاحب محمد حسن عبدالغفار تھے جن کا تعلق مصر سے ہے۔ مسجد کے انچارج عبداللہ رضوان ہیں۔ امام صاحب کی معیت میں اندر داخل ہی ہوئے تھے کہ مذکورہ بالا مؤذن صاحب سپیکر پر اذان دینے کی تیاری میں تھے اور پھر انتہائی خوبصورت انداز میں اذان کی آواز مسجد کے چاروں اطراف گونجنے لگی۔ سبحان اللہ! دل سکون اور خوشی سے باغ باغ ہو گیا کہ آج پورے دس سال بعد اٹلی کی سرزمین پر یوں اذان کی آواز سپیکر پر سنائی دے رہی تھی۔ شاعرِمشرق علامہ اقبال کا شعر یاد آگیا
؏ دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں

اگرچہ الحمدللہ یہ ایک کلیسا نہیں مسجد تھی، لیکن یہ مسجد کلیساؤں کے گڑھ اور پوری دنیا میں عیسائیت کے مرکز روم میں واقع تھی، جہاں اس وقت اذان کی آواز مسجد کے اردگرد کلیساؤں میں بھی جا رہی ہوگی۔
؏ مری نگاہ کمالِ ہنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرمِ مغربی ہے بیگانہ (علامہ اقبال)
6 مسجد کا مرکزی ہال چونکہ صرف نمازِجمعہ، عیدین اور خاص تقریبات کے لیے ہی کھولا جاتا ہے۔ اس لیے پنج وقتہ نمازوں کے لیے ایک اورچھوٹا ہال اور ساتھ ملحقہ کمرے مخصوص کیے گئے ہیں۔ مسجد کی اندرونی دیواریں نیلے اور سفید سنگِ مرمر کی انتہائی خوبصورت ٹائلز اور فرش نہایت دبیز ایرانی قالینوں سے سجا ہوا ہے۔ مسجد کی اندرونی سجاوٹ، برقی قمقموں اور فانوسوں کا مرکزی خیال قرآن کریم کی آیت (اللہ نُورالسمواتِ والارض ) God is light سے لیا گیا ہے۔ نماز کے لیے اندرونی چھوٹے ہال میں داخل ہوئے تو دل بہت دکھی ہوا کہ اتنی بڑی مسجد میں امام صاحب اور مؤذن صاحب کے علاوہ صرف چار اور نمازی تھے۔ ہم نے خواتین کی نماز کے متعلق دریافت فرمایا تو امام صاحب نے کہا کہ یہاں عام نمازوں میں خواتین کم ہی آتی ہیں اور اگر ہوں تو وہ بھی اسی ہال میں ہی نماز ادا کرتی ہیں۔ خیر تھوڑی جھجک کے ساتھ اندرر داخل ہوئے تو شکر ادا کیا کہ دائیں طرف ہال کے ایک کونے میں سر سے لے کر پاؤں تک سفید گاؤن میں ملبوس تین اور خواتین بھی بیٹھی نظر آئیں۔ ابھی جماعت میں تھوڑا وقت تھا۔ خوشی سے آگے بڑھے، سلام کے تبادلے کے بعد جھٹ سے اٹالین زبان کا رعب جھاڑنا شروع کیا. یہ سوچ کر کہ مقامی عرب کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہوں گی، لیکن یہ کیا؟ انھوں نے اشارے سے بتایا کہ ان کے پلّے کچھ نہیں پڑا۔ انگلش میں بات شروع کی تو وہ بھی خوشی سے کھل پڑیں کہ اس انجانے دیس میں کوئی تو بات کرنے والا ملا۔ اب پتہ چلا کہ وہ ٹورسٹ تھیں اور جکارتہ انڈونیشیا سے تین دن کے سیاحتی دورے پر اٹلی دیکھنے آئی ہوئی تھیں۔ تینوں ماں بیٹیاں تھیں، بیٹیوں کے نام زینب اور ریما جبکہ والدہ کا نام مریم تھا۔ بڑی بہن ریما جس کی عمر 22 سال تھی، جکارتہ یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کر رہی تھی اور انگلش کی سمجھ بوجھ رکھتی تھی جبکہ چھوٹی 17 سال کی تھی اور کالج میں پڑھ رہی تھی۔ والدہ صرف اشاروں کی زبان سمجھ رہی تھیں اور سر ہلا ہلا کر ایسے خوش ہو رہی تھیں جیسے سب کچھ سمجھ میں آرہا ہو۔4 خیر ماؤں سے بات کرنے کے لیے کسی خاص زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اٹلی میں صرف تاریخی شہر روم اور یہاں کی واحد جامع مسجد اور دنیا بھر میں مشہور پانی پر تعمیر شدہ رومانوی شہر وینس دیکھنے کے لیے آئی تھیں. جب انھیں بتایا کہ ہم پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں تو ریما بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی کہ وہاں جکارتہ یونیورسٹی میں میرے ساتھ ایک پاکستانی لڑکی بھی پڑھ رہی ہے۔ اسی اثنا میں اقامت شروع ہوگئی اور ہم سب بھی نماز کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ نماز کے بعد امام صاحب نے ان سیاح خواتین کی سہولت کے لیے انگریزی زبان میں مختصر درس دیا۔ امام صاحب کا تعلق مصر سے ہے اور انگلش اور عربی زبانوں پر بھی عبور رکھتے ہیں. امام صاحب نے اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف دنیاوی مال و متاع ، عہدے یا شہرت کی فراوانی نعمت نہیں بلکہ حقیقی نعمت دین اسلام اور ہدایت کے رستے پر چلنا ہے اور آپ لوگوں پر اللہ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے اربوں لوگوں میں سے آپ کو اپنے پسندیدہ دین کے لیے منتخب کیا اور آپ کو حجاب اور پردے کی توفیق دی۔ ابھی درس جاری تھا کہ گھڑی پر نظر پڑی اور بادل نخواستہ ہمیں امام صاحب سے اجازت لینی پڑی۔

چونکہ ہماری واپسی کی ٹرین کا وقت ہو چکا تھا لہذا افسردہ اور اداس دل کے ساتھ مسجد سے باہر نکلے اس دعا اور ارادے کے ساتھ کہ ان شاء اللہ دوبارہ اس مسجد میں ضرور آئیں گے اور خاص طور پر جمعہ یا عیدین کے موقع پر تاکہ مسجد کے مرکزی ہال کو بھی اندر سے دیکھنے کا موقع مل سکے۔

جب کبھی بھی آپ کو روم آنے کا اتفاق ہو تو اس مسجد کی سیر ضرو ر کیجیے گا۔ مسجد نہایت پر امن اور سکون کی جگہ ہوتی ہےاور تمام اہل ایمان کو مساجد میں جا کر ہمیشہ سکون ہی ملتا ہے کہ بےشک دلوں کا سکون اللہ کی یاد میں ہی ہے، اور جب اس کا ذکر اس کے اپنے گھر میں ہو تو اس سکینت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ آپ کو روم کی تاریخی اور شاندار مسجد کی سیر تو کروا دی۔ (ان شاء اللہ بہت جلد روم کی ایک اور تاریخی عمارت کلوزیم Colosseum، جو دنیا کے سات عجائب میں سے ہے، کی سیر بھی آپ کو کروائی جائے گی اور اس کلوزیم کے تاریخی پس منظر میں نام نہاد مہذب، لبرل اور روشن خیال گوروں کے انتہائی ظالمانہ اور تاریک پہلوؤں سے آگاہی بھی دی جائے گی۔ ان شاء اللہ