ڈومور امریکہ - مہران ریاض للہ

الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر امریکن الیکشن چھایا رہا، یقینا یہ الیکشن پوری دنیا پر اثرانداز ہوگا لیکن مجموعی طور پر کل میڈیا کا کردار مجھے پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ سا لگا.\nیوم اقبال کی مناسبت سے پروگرامز نہ ہونے کے برابر تھے جو شاید بہت غیرمناسب بات تھی.\nامریکہ کا دہشت گردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں پاکستان سے "ڈو مور" کا مطالبہ بہت معروف ہے امریکا میں حالیہ الیکشن کے بعد اگر پاکستان کی طرف سے اگر عورتوں کے حقوق کے لئیے امریکہ سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ کیا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا.\nبزعم خود اعلی ترین اخلاقی اور جمہوری اقدار کا معاشرے نے آج بھی ایک عورت کو حکمران کے روپ میں دیکھنے سے انکار کر دیا اور پاکستان کی متعصب شدت پسند اور دہشت گردی کے نام سے پہچان کروانے والے نام نہاد لبرل معاشرے نے ایک ایسے شخص کو حکمران بنایا جس میں تعصب اور شدت پسندی کی تمام انواع و اقسام موجود تھیں، خواہ وہ مذہب کے نام پر ہوں، رنگ نسل یا علاقے کے نام پر ہوں، بلکہ اگر دہشت گردی شدت پسندی، نفرت اور حقارت کو مجسم شکل میں دیکھنا ہو تو امریکہ کے نو منتخب صدر کو دیکھ لیا جائے.\nجبکہ پاکستان میں دو دفعہ عورت کو سربراہ مملکت رہ چکی ہے اور اس گئے گزرے سسٹم میں بھی اگر کوئی شخص ٹرمپ جیسی شدت پسندی کے ساتھ الیکشن لڑ کر کونسلر بھی بننا چاہےتو شاید ممکن نہیں، سسٹم میں خامیاں ضرور موجود ہیں لیکن باوجود خامیوں اور دیگر پسماندگیوں کے پاکستانی قوم کی اقدار کسی بھی برائے نام روشن خیال معاشرے سے بہت بلند ہیں.\nاگر وہ مفکر جن کے نزدیک دانشوری کا معیار پاکستان قوم کا تمسخر اور ان نام نہاد لبرل معاشروں سے مرعوبیت کے بجائے اپنی قوم و معاشرے کی اصلاح ہو تو عین ممکن ہے کہ جو سقم یا خامی ہے اسے بھی ختم کیا جا سکے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */