علامہ اقبال کے ساتھ ظلم - جاویدالرحمن قریشی

جاوید قریشی پاکستان ایک عجیب ترین ملک ہے۔ یہاں جس چیز کو قومی حیثیت دی جاتی ہے، اس کے ساتھ اتنی ہی بے دردی کا سلوک بھی کیا جاتا ہے۔ مثلاً پاکستان کا قومی لباس شلوار قمیض ہے لیکن آج جس طرف بھی دیکھیں، پتلون نظر آتی ہے۔ قومی لباس کو احساسِ کمتری سمجھا جاتا ہے۔ قومی کھیل ہاکی کا حشر تو دنیا جانتی ہے۔ قومی زبان اردو ہے، جب کہ آج کی نسل میں سے اکثریت ایسی ہے جو اردو ٹھیک سے لکھ، پڑھ اور بول نہیں سکتی۔ بلکہ انہیں انگریزی پڑھنے، سمجھنے اور بولنے میں زیادہ سہولت اور عزت محسوس ہوتی ہے۔ قومی زبان اردو ہونے کے باوجود ہمارا قومی ترانہ فارسی زبان میں ہے۔ چناں چہ کسی کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ ترانے میں کیا لکھا اور کہا جا رہا ہے۔ قومی شاعر حضرت علامہ اقبالؒ ہیں، اور آپ یقین کریں کہ قومی نشانات میں سے جتنا بڑا ظلم علامہ اقبالؒ کے ساتھ اس ملک میں ہوا ہے، وہ ایک المیہ ہے۔ کیا علامہ اقبال صرف ایک شاعر تھے؟ خود علامہ نے فرمایا تھا:\nمن اے میرِ امم داد از تو خواہم\nمرا یاراں غزل خوانے شمردند\n(یا رسول اللہ! میں آپ سے انصاف چاہتا ہوں کہ میرے احباب مجھے صرف ایک غزل گو شاعر ہی سمجھتے ہیں)۔\nایک اور جگہ فرماتے ہیں:\nجز نالہ نمی دانم، گویند غزل خوانم\nایں چیست کہ چوں شبنم بر سینہء من ریزی\n(میں تو صرف آہ و فغاں جانتا ہوں، جس کی وجہ سے مجھے شاعر کہا جاتا ہے۔ اگر میں صرف شاعر ہی ہوں تو پھر یہ کیا ہے جو میرے دل پر شبنم کی طرح گرتا ہے؟)۔\nحقیقت تو یہی ہے کہ علامہ اقبالؒ صرف ایک شاعر نہیں تھے بلکہ وہ تو دانائے راز، مصلحِ قوم، فلسفی، اسلامی اور مغربی علوم کے ماہر، اور سب سے بڑھ کر ایک سچے عاشقِ رسول تھے۔ اپنے زمانے میں علامہ کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کو احساسِ کمتری سے نجات دلانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ اور اس کا عروج ان کا وہ خواب تھا جو پاکستان کی تشکیل کا باعث بن گیا۔ اس خواب کی تعبیر کے لیے انہوں نے قائدِ اعظم جیسے رہنما کو مسلمانوں کی رہبری کے لیے آمادہ، قائل اور تیار کیا۔ یوں دنیا کی تاریخ میں مدینہ منورہ کے صدیوں بعد ایک اور اسلامی ریاست کا قیام عمل میں آیا۔\n\nاقبالؒ نے مغرب کی نام نہاد شرافت ، جمہوریت اور ترقی کا پردہ بھی چاک کیا۔ خود مغرب سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اس تعلیم کو اور اس تعلیمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔\nیورپ میں بہت روشنیء علم و ہنر ہے\nحق یہ ہے کہ بے چشمہء حیواں ہے یہ ظلمات\nمغرب اور یورپ کی نام نہاد جمہوریت کے بارے میں فرمایا\nتو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام\nچہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر\nبرصغیر کے مسلمانوں میں پائی جانے والی بے عملی، غفلت، بے کاری پر بھی ضرب لگائی۔\nتھے وہ آباء تو تمہارے ہی مگر تم کیا ہو؟\nہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!\nعلمائِ سوء، دنیادار پیروں، گدی نشینوں، بے ذوق اماموں، فتنہ پرور خطیبوں، جاہل واعظوں پر آسمانی بجلی بن کر برسے۔\nصوفی کی طریقت میں فقط مستیء احوال\nملا کی شریعت میں فقط مستیء گفتار\nبد عمل، کج عمل اور بے عمل مسلمانوں کے بارے میں کہا\nکافرِ بیدار دل پیشِ صنم\nبہ ز دیں دارے کہ خفت اندر حرم\n(کہ وہ کافر جو اپنے بت کے سامنے بیدار دل کے ساتھ کھڑا ہے، وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو حرم کے اندر بھی مردہ دل ہو)۔\n\nایسے درجنوں بلکہ سینکڑوں اشعار پیش کیے جا سکتے ہیں جس سے معلوم ہو گا کہ علامہ اقبالؒ صرف ایک شاعر نہیں تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کے دلوں پر لگے زنگ کو اتارنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات پر پڑی گرد کو جھاڑنے کی جرات کی تھی۔ انہوں نے مذہب میں مقدس گائے سمجھے جانے والوں کو بے نقاب کیا تھا۔ انہوں نے نام نہاد جمہوری سیاست دانوں کی سازشوں کا پردہ چاک کیا تھا۔ انہوں نے نوجوانوں کو ذلت کی پستی سے اٹھ کر، شاہین بنا کر، آسمانوں میں اڑانے کی تلقین کی تھی۔ انہوں نے بچوں کی تربیت کے لیے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو استعمال کیا تھا۔ انہوں نے غلامی پر تبرا کیا تھا۔ انہوں نے شیر کی ایک دن کی زندگی کی تشریح و تبلیغ میں ساری زندگی گذاری تھی۔ وہ مسلمانوں اور اسلام کے عروج کے خواب دیکھتے اور دکھاتے تھے۔ اور جب ان کے دکھائے ہوئے ایک خواب نے پاکستان کی صورت میں تعبیر حاصل کر لی تو ہم پاکستانیوں نے ان کے ساتھ بڑا ظلم کیا۔\n\nہم نے علامہ اقبالؒ کے ساتھ یہ ظلم کیا کہ انہیں اپنا قومی ’شاعر‘ قرار دے دیا۔ چناں چہ اب ان کے نام پر چھٹی منا کر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اقبالؒ کا حق ادا کر دیا۔ قومی لباس، قومی زبان ، قومی ترانے اور قومی کھیل کی طرح پاکستان میں قومی شاعر ’اقبالؒ‘ کو بھی کوئی نہیں پوچھتا۔ اور اب مجھے اقبالؒ کے شعر کا ایک بالکل ہی مختلف مفہوم سمجھ میں آیا ہے:\nاقبالؒ تیرے عشق نے سب بل دیے نکال\nمدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی\n\nآپ بھی اسے سمجھنے کی کوشش کیجیے گا۔ اور ہاں! علامہ اقبالؒ کو صرف شاعر سمجھنا چھوڑ دیجیے، وہ تو ہمارے محسن ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com