مسجد، ملا اور وظیفہ دیو جی - عبداللہ سبیل

عبداللہ سبیل ہمارے محلے کی مسجد ماشاء اللہ بہت اعلیٰ درجے کی فنِ تعمیر کا شاہکار ہے۔ مخیر اہل محلہ و علاقہ نے دل کھول کر عطیات دیے جس کی بدولت اللہ کے فضل و کرم سے ایسی حسین مسجد تعمیر ہوئی۔ اس مسجد کا شمار مانسہرہ کی سب سے قدیم مساجد میں ہوتا ہے اور مسجد کی اپنی جائیداد بھی ہے جس سے مسجد کی مستقل آمدن ہوتی ہے اور اس کے اخراجات با احسن طریقے سے پورے ہوتے ہیں۔ مسجد کو کچھ عرصہ پہلے وسیع کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی اس کی تزئین و آرائش پہ کافی لاگت آئی۔ لال رنگ کی حسین ٹائلیں، جا بجا رنگ بوٹے اور حسین خطاطی نے مسجد کی خوبصورتی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مسجد میں دور دراز کے علاقوں سے غریب خاندانوں کے طلبہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں، جن کی رہائش بھی مسجد میں ہی ہے۔ ان طلبہ کو علاقے میں ملا کہا جاتا ہے۔\n\nجس مسئلے کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے، وہ ان طلبہ کی خوراک کے متعلق ہے۔ یہ طلبہ گھر گھر جاتے ہیں اور اپنے کھانے کے لیے خوراک اکٹھی کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک بالٹی ہوتی ہے اور گھر گھر جا کر آواز لگاتے ہیں، ”وظیفہ دیو جی“، اور یوں ہر ایک طرح کا سالن اسی ایک بالٹی میں ڈالا جاتا ہے، اور ست رنگی قسم کے مختلف سالن کا ایک ملغوبہ سا تیار ہوجاتا ہے، جسے یہ صبر و شکر سے کھا لیتے ہیں۔ کئی گھروں سے ان کو جھڑکیاں بھی سننے کو ملتی ہیں اور باسی کھانے بھی ان کی قسمت میں ہوتے ہیں۔ جس مسجد کی تزئین و آرائش پر پانی کی طرح پیسہ بہایا گیا، جس کی اپنی مستقل آمدن بھی ہے، وہاں کیا اس طرح دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کی عزت نفس کو مجروح کرنا اچھا عمل ہے؟ اس طرح سے عزت نفس کی قیمت پر جو عالم تیار ہوں گے، کیا خیال ہے کہ وہ بدلے میں معاشرے کو کیا لوٹائیں گے۔ علماء میں متشدد رویہ، عدم برداشت، انتہاپسندی اور معاشرے سے بیگانگی کا سبب ہی یہ ہے کہ جو انہوں نے اس معاشرے سے لیا ہوتا ہے وہی اس معاشرے کو لوٹائیں گے۔ آپ جو بو کر گندم کی امید نہ رکھیں۔ گھر گھر مانگنے کے سبب عام لوگ ان کو عزت بھی نہیں دیتے اور تحقیر کے لہجے میں ان کو ملا کہا جاتا ہے۔\n\nقرآن کی تعلیم جو کہ آفاقی علم ہے، یہ اس کی تحقیر ہے۔ مسجد اگر سادی سی ہو، زیادہ تزئین و آرائش نہ بھی ہو تو کوئی بات نہیں، لیکن ان طلبہ کے کھانے کا بندوبست اگر مسجد کی انتظامیہ اپنے ہاتھ میں لے اور ان کی عزت نفس مجروح ہونے سے بچائے تو یہ زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہوگا، وگرنہ انسان کی عزت نفس کی قیمت پر مسجد سونے و چاندی کی بھی بنا لیں تو کوئی فائدہ نہیں۔ سیاسی خطیب صاحب نے بیٹے کو جانشین مقرر کر دیا، مسجد کا نام تبدیل کرکے لال مسجد کردیا، لیکن نہیں تبدیل ہوا تو ان غریب طلبہ کا حال جو ویسے کا ویسا ہے اور یہ ایک مسجد کی بات نہیں پورے معاشرے کا المیہ ہے.