محکمہ تعلیم، مانیٹرنگ ٹیمیں اور خدشات - توصیف احمد

مفتی توصیف احمد خیبرپختونخوا مین محکمہ تعلیم، محکمہ صحت، پولیس، اور پٹوار خانہ خصوصی ٹارگٹ تھے جن پر فوکس کیا گیا، تاہم نمایاں تبدیلی نہ آسکی۔ محکمہ صحت اور تعلیم میں اس حد تک تبدیلی آئی کہ ملازمین کی حاضری کو یقینی بنایا گیا، صوبہ بھر میں مرحلہ وار بائیو میٹرک کی تنصیب اس کی عملی مثال تھی، تاہم ہسپتالوں میں پہلے اور کالجوں میں دوسرے نمبر پر یہ سسٹم فلاپ ہوگیا. کہیں تو مسیحائوں نے توہین آمیز رویہ کہا تو کالجوں میں قوم کے معماروں نے مطالبات کی منظوری کے آگے ڈھال کے طور پر بائیو میٹرک سسٹم مسترد کر دیا. جہاں تک سکولوں کی بات ہے تو اس میں دوسری رائے نہیں کہ اساتذہ پہلے سے زیادہ شریف ہوچکے ہیں، مانیٹرنگ ٹیموں کی نقل و حرکت نے استاذ کو تعلیمی اوقات کا پابند کردیا ہے. اس پر بحث نہیں کہ مانیٹرنگ ہونی چاہیے یا نہیں۔ یہ بات بھی محل نظر نہیں کہ نصاب کی انگریزی میں تنفیذ کس حد تک ٹھیک ہے؟ بات یہ ہے کہ مانیٹرنگ کے عمل میں استاذ کی ہتک کہاں تک ہے؟ مانیٹرنگ ٹیموں کا دائرہ کار اور ان کی فنڈنگ معنی خیز ہے. ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، اے ڈی او، ایس ڈی او سرکل کی موجودگی میں مانیٹرنگ ٹیموں کا قیام چہ معنی دارد؟ بھاری بھر کم وظیفوں اور’’ کی‘‘ پوسٹوں پر موجود افسران بالا کی موجودگی اور سکول سطح پر 19 سکیل پرنسپل کی تعیناتی کے باوجود قومی خزانے سے مانیٹرنگ کے نام پر فنڈنگ ہر محب وطن کے لیے وضاحت طلب ہے۔\n\nکیا یہ ممکن نہیں کہ ضلعی سطح پر موجود آفیسرز اور سکول کے ہیڈ ماسٹر و پرنسپل کے دائرہ کار میں وسعت لاکر مانیٹرنگ کو ختم کیا جائے اور مانیٹرنگ ٹیموں پر اٹھنے والے بھاری بھر کم اخراجات (دفاتر، سواریاں ، پیٹرول اور تنخواہیں) میں کمی لائی جائے. مانیٹرنگ سے ہیڈ ماسٹر و پرنسپل کو پابند کیا گیا ہے تو صرف ہیڈ ماسٹر و پرنسل صاحبان ہی کے اختیارات میں توسیع کر کے ان کے چیک اینڈ بیلنس کو مظبوط اور فعال کرکے مانیٹرنگ کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے. خدشہ ہے کہ مانیٹرنگ کا نظام سیاسی نظام کی بساط لپٹنے سے تہہ و بالا ہو جائے گا اور حکومتوں کی ترجیحات اور پالیسیاں تبدیل ہونے میں کوئی وقت نہیں لگتا۔\n\nمانیٹرنگ کے حوالے سے اساتذہ کو شکایت ہے کہ یہ ہتک کا باعث ہے، شاید شکایت بجا ہو مگر یہ سب ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے. اگر اساتذہ پیشے سے مخلص ہوتے تو ان پر یہ عذاب مسلط نہ کیا جاتا. مانیٹرنگ ٹیموں کے علاوہ ویلج کونسلز کے ممبران، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈسٹرکٹ کمشنر بھی سکولوں میں جانے کو غنیمت سمجھتے ہوئے گاہے بگاہے تشریف لاتے ہیں،گویا تمام معاشرتی برائیوں کی آماجگاہ تعلیمی درسگاہیں ہیں. سیکیورٹی کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کے بعد قریبی تھانے کا ایس ایچ او اور اے ایس آئی سیکیورٹی سخت کرنے کا بھاشن دینے آجاتا ہے. قوم کے نونہالوں کو کیا پیغام دیا جارہا ہے کہ استاذ مجرم ہے، استاذ کرپٹ ہے، استاذ خائن ہے، استاذ معاشرتی برائیوں کا محور ہے۔\nسکول مانیٹرنگ کو اگلے دن شہ سرخیوں میں ’’سکول پر چھاپہ ‘‘ کے عنوان سے شائع کروایا جاتا ہے. حالانکہ چھاپے سکولوں اور تعلیمی اداروں پر نہیں ملک دشمن، معاشرتی ناسوروں، ظالموں اور کرپٹ لوگوں پر پڑتے ہیں، اس روش کو تبدیل کیجیے ورنہ آپ حق حکمرانی کھو بیٹھیں گے.\n\nمحترم جناب عمران خان صاحب! اگر آپ کو دھرنوں سے فرصت ملے تو کبھی اپنے صوبے میں تشریف لائیں جہاں آپ کی اکثریت ہے۔ محکمہ تعلیم کی اصلاحات کے بلند و بانگ دعوے تو کرتے ہیں مگر آپ کے دور اقتدار میں اساتذہ کی کتنی تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں؟ اس سے اچھا دور تو اے این پی حکومت نے گزارا ہے، اگر آپ تعلیم کے ساتھ مخلص ہیں تو اساتذہ کے مسائل کو حل کریں. صرف نعروں سے عوام ووٹ نہیں دیتی، عملی کام کی اشد ضرورت ہے. اگر آپ اپنی حکومت کے اختتام سے پہلے درج ذیل اقدامات اٹھائیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ اساتذہ برادری بالخصوص اور ملازمین بالعموم آپ کے ساتھ ہوں گے\n1. بین الاقوامی معیار کے مطابق تنخواہیں جن کا آپ بارہا ذکر کر چکے ہیں۔\n2. اساتذہ کے لیے رہائشی سکیمیں، سود سے پاک قرض کا حصول.\n3. میڈیکل الاؤنس ختم کرکے اساتذہ کے لیے فری علاج کا اعلان کیا جائے اور ملک بھر کے اچھے ہسپتالوں سے الحاق کیا جائے.\n4. اساتذہ کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کا حصول مفت کیا جائے۔