جادو پر پرویز ہود بھائی کے سوالات کیوں درست ہیں؟ فیاض الدین

فیاض الدین پرویز ہود بھائی نے جادو اور جنات کے متعلق کچھ لکھا بھی ہے اور ایک کانفرنس اس حوالہ سے بھی منعقد کی گئی۔ جادو کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ جادو ایسی ہی قابل اثر چیز ہے تو جادوگر دنیا کا امیر ترین یا طاقتور ترین آدمی کیوں نہیں بن جاتا، امریکہ کے ایٹم بم کو غیر فعال کیوں نہیں بنا دیتا، صدر اوبامہ کو پاگل کیوں نہیں کردیتا۔ ہود بھائی کے اس مؤقف پر ”دلیل“ پر شائع ایک مضمون میں اعتراض کیا گیا ہے۔ ہود بھائی کے یہ سوالات ان لوگوں سے جو جادو میں مافوق الاسباب اثر مانتے ہیں، بالکل بجا اور درست ہیں اور کافی اہم سوالات ہیں۔ جب فخر دوجہاں خاتم النبیین محمد ﷺ پر جادو ہو سکتا ہے تو اوباما پر کیوں نہیں ہوسکتا؟\n\nنبی ﷺ پر جادو سے متعلق پوری بات کچھ اس طرح ہے کہ محمدﷺ جب جنگ خیبر سے واپس آئے تو یہودی جادوگر لبید ابن عاصم کو اشرفیاں دی گئیں اور اس سے مطالبہ کیا گیا کہ محمد ﷺ پر جادو کردو۔ پھر جب اس جادوگر نے جادو کیا تو محمد ﷺ کی ایسی حالت ہوگئی تھی گویا کسی نے رسیوں سے باندھ لیا ہو۔ (ابن ماجہ) بعض روایات کے مطابق یہ اثر کئی مہینے رہا اور آپ کی یہ حالت ہوگئی کہ آپ کو اپنے معاملات کا علم نہیں ہوتا تھا اور لگتا تھا کہ فلاں کام کیا ہے یا نہیں کیا ہے؟ بعض کتابوں میں یہاں تک لکھا ہے کہ آپ کے کھانے پر جادو کر دیا گیا تھا، آپ کے دیکھنے پر جادو کر دیا گیا تھا۔ ایک نبی ﷺ کے متعلق یہ سب باتیں لوگوں نے برداشت کی ہوئی ہیں، جس رسول ﷺ کے بارے میں قرآن وضاحت کر رہا ہے کہ جو رسول کو ”مسحور“ کہےایسے لوگ ظالم ہیں۔ نبی ﷺ کو جادو زدہ ماننے والوں سے اللہ مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ظالم لوگ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہتے ہیں کہ:\n[pullquote]وَقَالَ الظَّالِمُونَ إن تَتَّبِعُونَ إلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْامْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا [٢٥:٩][/pullquote]\n\nاور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک جادو زدہ شخص کی پیروی کرتے ہو، (اے پیغمبر) دیکھو تو یہ تمہارے بارے میں کس کس طرح کی باتیں کرتے ہیں سو گمراہ ہوگئے اور رستہ نہیں پاسکتے ۔\n\nایک اور جگہ اللہ فرماتے ہیں:\n[pullquote]الَّذِينَ يُفْسِدُونَ فِي الْارْضِ وَلَا يُصْلِحُونَ [٢٦:١٥٢] [/pullquote]\n\nجو ملک میں فساد کرتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے\n\n[pullquote]قَالُوا إنَّمَا أنتَ مِنَ الْمُسَحَّرِينَ [٢٦:١٥٣] [/pullquote]\n\nوہ کہنے لگے کہ تم تو جادو زدہ ہو ۔\n\nیہ الزامات لگانا ظالم اور بےدین لوگوں کا کام تھا، یہ کہہ کر کہ نبی مسحور ہیں، لوگوں کو نبی ﷺ کی پیروی سے روکتے تھے، یہ ایک پروپیگنڈہ تھا، صرف الزامات تھے، سچ نہیں تھا لیکن افسوس بعض مسلمان قسم کھا کر کہتے ہیں کہ نبی مسحور ہوئے تھے۔\n\nاب جو سوال پرویز ہود بھائی نے اٹھایا ہے، بالکل صحیح ہے، جب نبی ﷺ پر جادو ہو ا، تو اوباما پر کیوں نہیں کیا جاسکتا، افغانستان میں امریکی فوجیوں، فلسطین میں اسرائیلی فوجیوں، عراق میں امریکی فوجیوں اور کشمیر میں بھارتی فوج پر جادو کیوں نہیں کیا جاتا؟ کتنا ہی اچھا ہوتا اگر ان فوجیوں کے دماغوں پر اور ان کے حکمرانوں کو جادو کے ذریعے ان کے دل ودماغ مسلمانوں کی حمایت میں کر دیے جاتے، ان غیر مسلموں کے دل میں مسلمانوں کے لیے الفت پیدا کرتے، ان کی دماغی کیفیت تبدیل اگر ہوجاتی ہے تو لاکھوں کروڑوں مسلمان قتل ہونے سے بچ جائیں گے۔\n\nاوباما یا اب ڈونلڈ ترمپ کے دماغ پرجادو کیا جائے تو سارے مسلم ملکوں سے امریکی فوج واپس آجائے گی۔ یقین کیجیے دنیا میں امن آجائے گا۔ یہاں بعض لوگ یہ سوال ضرور کریں گے کہ جادو کرنا کفر ہے لہذا ہم کفر کیسے کریں، ہم تو مسلمان ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پھر شمالی کوریا جوغیر مسلم ملک ہے، امریکہ پر کیوں جادو نہیں کرتا؟ جاپان دوسری جنگ عظیم میں امریکہ پر جادو کیوں نہیں کر رہا تھا؟ ہندوستان پاکستان پر کیوں نہیں کرتا؟ اور اسرائیل، امریکہ وغیرہ ٹیکنالوجی پر اتنا خرچ کیوں کر رہے ہیں؟ بس مسلمانوں پر جادو کر کے مسلمانوں کے دلوں کو جیت لیتے اور ہم مسلمان خودبخود ان کی حمایت کرتے۔ وزیرستان پر ڈرون گرانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہاں کے لوگوں کے ذہنوں پر جادو کر دینے سے مسئلے ختم ہو سکتے ہیں۔ ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟ یا پھر جادو کی انڈسٹری لبید ابن عاصم کے زمانے میں بہت ترقی کر گئی تھی، اور اب یہ انڈسٹری زوال کا شکار ہے؟ چاند پر پہنچنے والے اس میدان میں کیسے پیچھے رہ گئے؟\n\nمیاں بیوی میں جادو کے زور سے جدائی\nلوگ سمجھتے ہیں کہ جادوگر میاں بیوی میں جدائی لا سکتے ہیں، یہ غلط بات ہے۔ سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں لوگ اس کوشش میں تھے کہ کچھ ایسا سیکھیں اور میاں بیوی کے مابین جدائی ڈالیں۔ یہ نہیں بتایا گیا قرآن میں کہ وہ جادو کے ذریعے جدائی پیدا کرتے تھے بلکہ کہاگیا ہے کہ وہ کچھ ایسا کرنا چاہتے تھے کہ جدائی ڈال سکیں، آگے اللہ نے اس باطل خیال کو کاری ضرب لگائی ہے کہ وہ اس سے کسی کو بھی نقصان نہیں دے سکتے ہیں۔ لہذا جادو باطل ہے، یہ افک ہے، صنعت کاری ہے، جھوٹی نمائش ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ یہ اسباب کی دنیا ہے، پانی پینے سے پیاس ختم ہو سکتی ہے، بھوک لگی ہے تو کچھ کھانا ہوگا، یہی بھوک کا علاج ہے، جادو سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ رب ذوالجلال ان سارے باطل نظریات و خیالات کے متعلق فرماتے ہیں۔\nجادوگر جہاں سے بھی آجائیں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ سورہ طہ\nجادوگر کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ سورہ یونس