ٹرمپ کی فتح اور این جی اوز مارکہ لبرل ازم کی موت - ڈاکٹر غیث المعرفہ

امریکی انتخابات کے غیر سرکاری نتائج تقریباً مکمل ہو چکے ہیں اور رات بھر ٹرمپ کے ڈمپ ہونے کے خواب دیکھنے والے صبح اٹھے ہیں تو ٹرمپ کی فتح ان کا استقبال کر رہی ہے- یہ الگ بات ہے کہ جس وقت امریکہ میں ووٹ گنے جا رہے تھے اس وقت امریکہ میں مقیم مسلمان اپنے نوٹ گننے میں مصروف تھے اور کینیڈا امیگریشن کی ویب سائٹ، عالمی اقتصادی مارکیٹ کے ساتھ کریش کر رہی تھی\n\nجدید امریکی تاریخ میں یہ انتخابات بہت منفرد تھے، ڈونلڈ ٹرمپ جیسی شخصیت کا امریکی صدارتی ریس میں آ جانا ایک غیر معمولی پیش رفت تھی، اور اب اس سے بڑھ کر ان کا جیت جانا، جدید معاشروں میں ابھرنے والے نئے احساسات کا پتا دیتا ہے ان نئے احساسات کا نظارہ کچھ ہی ماہ پہلے برطانوی سماج بھی ہمیں دکھا چکا ہے جس نے یورپی یونین سے نکلنے کا اعلان کر دیا جمہور کے یہ نئے رنگ جہاں جمہوری نظام پر اپنے اثرات چھوڑیں گے وہیں کچھ نئے مشاہدات کا اظہار بھی کر رہے ہیں مثلاً ہم نے دیکھا کہ عوامی رائے کے باوجود 'بریکسٹ' پر برطانوی عدالت نے پارلیمان سے ووٹ کا حکم جاری کر دیا ہے امریکی عوام کی رائے کو جھٹلانا تو ناممکن ہے لیکن ہم مستقبل میں شاید اسی قسم کے فیصلے امریکی کانگریس میں دیکھ سکیں جب وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی کچھ تجاویز ماننے سے انکار کر دے\n\nپہلا مشاہدہ جس میں جان آئی ہے وہ یہ ہےکہ سیاسی شدت پسندانہ نظریات رکھنے والوں میں نئے انسانی احساسات دلچسپی رکھتے ہیں، میں اسے شدت پسندانہ نظریات کی کشش کے بجائے اس دلچسپی کو نئے احساسات کے ایڈونچرازم سے منسوب کرتا ہوں یا پھر ہم اس کی جڑیں روایتی لبرل اور سیکولر ایلیٹ کی عوامی امنگوں سے دوری میں ڈھونڈھ سکتے ہیں بھارت میں مودی جیسی شخصیت کے حق میں بھرپور عوامی حمایت، پھر بریکسٹ جیسے عجیب و غریب فیصلے اور اب ٹرمپ کو امریکہ کا صدر بنا دینا\n\n14695363_10154659353909060_8382932397127863830_n\n\nدوسرا مشاہدہ یہ ہے کہ سماج تیزی سے روایتی میڈیا اور اداروں (اسٹیبلشمنٹ ) کی دسترس سے نکلتا جا رہا ہے، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کی خبریں، تجزیے اور تبصرے، نئے انسانی احساسات پر اپنے مثبت اور فیصلہ کن اثرات چھوڑنے میں ناکامی محسوس کر رہے ہیں، شاید اس کی وجہ اس کا بناوٹی پن اور منفیت تھی جس نے عوامی اعتماد کو مجروع کرنا شروع کر دیا ہے، اور پھر اس سے بڑی وجہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا وجود ہے جس نے خبر اور تجزیے پر ایک کلاس کی اجارہ داری ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے روایتی میڈیا اور اداروں کی منہ توڑ مخالفت کے باجود ٹرمپ کی جیت میں بھی یہی پیغام پوشیدہ ہے\n\nان بدلتے ہوئے احساسات اور مشاہدات میں جہاں ٹرمپ کی فتح امریکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی اثرات چھوڑے گی وہیں دنیا بھر میں پھیلی این جی اوز کے نام سے موسوم امریکی اسٹیبلشمنٹ پروڈکس کی ورکنگ متاثر ہوگی ٹرمپ کی فتح میں ان این جی اوز کی موت مضمر ہے اسی وجہ سے عالمی سطح پر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مہم سازی میں این جی اوز اور اس سے منسلک افراد ایک عرصے سے مصروف تھے اس کے باجود امریکی مفادات کی 'ملبوس جنگ' کو ٹرمپ کی صورت 'ننگی جنگ' میں بدلنے کا فیصلہ امریکی عوام نے کر دیا ہے دیکھنا اب یہی ہوگا کہ امریکی کانگریس، ٹرمپ کی تجاویز کو کیا اہمیت دیتی ہے اور امریکی اسٹیبلشمنٹ، ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کیسے آگے بڑھاتی ہے- اگر وہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے میں ناکام ہوتی ہیں تو وہ امریکہ کا ایک خطرناک بحران ہو گا اور اگر اس میں کامیاب ہو تے ہیں تو عالمی این جی اوز مارکہ لبرل وین گارڈ بحرانی کیفیت میں جا سکتی ہے