اقبال کی شاعری کا فلسفیانہ پہلو - حمیرہ خاتون

اقبال جیسے شاعر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اقبال کی شاعری کے بہت سے پہلو ہیں اور ہر پہلو اتنا تابناک اور روشن ہے کہ لگتا ہے کہ یہی پہلو سب سے اہم ہے۔ مگر ان کی شاعری کا فلسفیانہ پہلو سب پر چھایا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال نے فلسفے میں ماسٹر کیا تھا اور اپنی شاعری میں فلسفے کے دقیق رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ اقبال کو لفظوں پر عبور حاصل تھا۔ وہ قادر الکلام شاعر تھے۔ فلسفے کی پیچیدہ گتھیوں کو اس طرح آسان اور عام فہم انداز میں بیان کرتے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ وہ نظریات، وہ فلسفیانہ موشگافیاں جس کی تشریح اور تفسیر میں ادیبوں نے کتابیں سیاہ کر ڈالیں۔ اقبال نے دو مصرعوں میں بیان کر دی ہیں، چند مثالیں درج ذیل ہیں:\n\nزندگی اور موت کی حقیقت اس طرح بیان کی ہے:\nزندگی کیا ہے، عناصر کا ظہور ترتیب
\nموت کیا ہے، ان ہی اجزاء کا پریشان ہونا\n\nوطنیت پر اقبال کی رائے دیکھیے:\nان تازہ خدائوں میں وطن سب سے بڑا ہے\nجو پیرہن اس کا ہے ۔ مذہب کا کفن ہے\n\nاقبال مرکزیت کے حامی تھے۔ فرماتے ہیں:\nقوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی\nہو صاحب مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی\n\nزندگی کا فلسفہ دیکھیے: \nبرتر از اندیشہ سود و زیاں ہے زندگی\nہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی\nتو اسے پیمانہ امروزوفردا سے نہ ناپ\nجاوداں، پیہم رواں ، ہر دم جواں ہے زندگی\n\nقوموں کے عروج و زوال پر اس سے بہتر شاید ہی کوئی کہہ سکے:\nآتجھ کو بتائوں تقدیر امم کیا ہے\nشمشیر و سناں اول ، طائوس رباب آخر\n\nاقبال کی نظر میں شاعر کا کام مایوسی پھیلانا نہیں بلکہ امید پیدا کرنا ہے ۔ فرماتے ہیں:\nشاعر کی نوا ہو کہ مغنی کا نفس ہو\nہو جس سے چمن افسردہ، وہ باد سحر کیا\n\nاقبال کی نظر میں آزادی سب سے بڑی نعمت ہے ، آزاد انسان کی صلاحیتیں کھل لر کام کرتی ہیں:\nبندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے ایک جوئے کم آب\nاور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی\n\nزندہ رہنے کا فلسفہ اس طرح بیان کرتے ہیں:\nجھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا\nلہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ\n\nمسلمان قوم کے اجزائے ترکیبی بیان کرتے ہوئے:\nاپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
\nخاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی\nان کی جمیعت کا ہے ملک و نسب پر انحصار\nقوت مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تیری\n\nاقبال خودی کے جوہر کو بہت اہم جانا کرتے تھے، مگر یہ خودی کہاں سے پیدا ہوتی ہے تو فرماتے ہیں:\nخودی کا سر نہاں م لا الہ الا اللہ\nخودی ہے اک دو جہاں، لا الہ الا اللہ\n\nاور اب آخر میں اقبال کا وہ شعر جو ہم سب کے دل کی آواز ہے:\nسالار کارواں ہے میر حجاز اپنا\nاس نام سے ہے باقی آرام جاں ہمارا

Comments

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون

حمیرہ خاتون کو پڑھنے لکھنے سے خاص شغف ہے۔ بچوں کی بہترین قلم کار کا چار مرتبہ ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔ طبع آزمائی کے لیے افسانہ اور کہانی کا میدان خاص طور پر پسند ہے۔ مقصد تعمیری ادب کے ذریعے اصلاح ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */