عوام کی سوچ کا تناظر سمجھیے - عابد حسین

عابد-حسین.jpg ہمارے کئی دانشور.. خاص طور پر سوشل میڈیا کے.. اپنی سوچ کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں. اگر کوئی پی ٹی آئی کو پسند کرتا ہے یا پی پی پی سے ذہنی مطابقت رکھتا ہے تو دونوں کے لیے.. ن لیگ کی تعریف کرنے والا.. پٹواری کے درجے سے کبھی اوپر نہیں آسکتا۔ پی پی کی کسی اچھی کاردگی کا معترف، باقی دونوں کے متعلقین کے نزدیک، بھٹوز کی ذہنی غلامی کے طعنے کا پورا پورا حقدار ہے. اسی طرح کوئی چاہے PTI کی سیاسی حکمتِ عملی کا ناقد ہو مگر عمران خان کے کسی مؤقف یا ہار نہ ماننے کے جذبے کی تعریف کر بیٹھے تو وہ جمہوریت کا دشمن اور کئی کے نزدیک بوٹ پالیشیا ہی ہوگا.\n\nیہی سوچ آگے بڑھ کر اُس نسلی و صوبائی عصبیت کی انتہا تک پہنچ جاتی ہے، جس میں ان دانشوروں کے مطابق پنجاب کے عوام بحیثیتِ مجموعی نواز شریف کی رعایا قرار پاتے ہیں جو بنا سوچے سمجھے صرف پنجابی ہونے کے ناتے اسے ووٹ دیتے ہیں اور سندھ کے باسی اندھے بہرے بن کر بوجہ زبان، PPP اور MQM کو ووٹ دیتے ہیں. ان کی دانش کی تان ہی اس پر آ کر ٹوٹتی ہے کہ عوام اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال بنا سوچے سمجھے کرتے ہیں.\n\nمجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ ہمارے دیہی و شہری علاقوں کے معاشرتی, سماجی اور معاشی تانے بانے اور لوگوں کے مختلف طبقات کے اندرونی و باہمی رویوں سے کتنے واقف ہو کر ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بدیہی طور پر ہم اپنی روزمرہ ذندگی میں دیکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص، نہ تو اپنی ذاتی حیثیت میں، جمع تفریق کیے یا فائدہ نقصان دیکھے بنا کوئی فیصلہ کرتا ہے نہ کسی چھوٹی یا بڑی اجتماعیت میں شامل ہو کر اپنے مفاد کو پسِ پشت ڈالتا ہے. پھر یہ الزام کیوں کہ وہ بنا سوچے سمجھے ووٹ ڈال دیتا ہوگا. اس کا جواب، عام لوگوں اور مختلف طبقات کے مسائل کی تفہیم چاہے وہ کتنے ہی سطحی ہوں، اور مقامی طور پر ان مسائل کو حل کرنے کے دعوے داروں کی سیاسی حیثیت و اہمیت میں مضمر ہے. اس معاملے میں پنجاب کا ووٹر اور اندرونِ سندھ کا ووٹر فیصلہ سازی کے ایک جیسے طریقے پر عمل کرتا ہے، یعنی وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ ان پرانے دعوے داروں کو چیلنج کرنے والے، کس حد تک قابلِ بھروسہ ہیں. پھر وہ نئے اور پرانے دعوے داروں کو ایک آنکھ سے دیکھ کر جمع تفریق نہیں کرتا بلکہ جب تک نیا دعوے دار, پرانے سے ڈیڑھ گنا طاقتور یعنی مسائل حل کرنے کی بظاہر زیادہ استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ کم ہی اپنا فیصلہ بدلتا ہے. اس ایک نقطہ پر مطابقت کے باوجود، اندرونِ سندھ اور پنجاب کے ووٹنگ رجحان میں بہت سی باتیں مختلف بھی ہیں جو ایک علیحدہ مضمون کا متقاضی ہے.\n\nاس لیے میں اس استدلال کو لغو خیال کرتا ہوں کہ عوام بحیثیتِ مجموعی بنا سوچے سمجھے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرتے ہیں اور یہ کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے وفادار، اندھے بہرے بن کر اپنی پارٹیوں کو ووٹ دیتے ہیں. عوام کی مجموعی ذہنیت و فیصلہ سازی کو قابلِ اعتراض نہ سمجھیے. عوام کے مختلف طبقات کی ترجیحات میں تفاوت یا تطابق ہونے کا منطقی نتیجہ، وقت کے کسی خاص لمحے یا دور میں اگر کسی ایک پارٹی کے حق میں جا رہا ہو تو، اس پارٹی کو چیلنج کرنے والی قوتوں کو اپنی اسٹریٹجی میں جوہری تبدیلی اور عوام کے چھوٹے سے چھوٹے گروہ تک، اپنی بات پہنچانے اور اس کی نظر میں اپنی وقعت بڑھانے میں ذیادہ بہتر کاوشیں کرنے کی طرف توجہ مرکوز رکھنی چاہیے. اس وقت بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے.