عصبیت، وجوہات اور علاج - نجف رضا

تعصب کے جن نے چاہے وہ مذہبی ہو یا علاقائی، لسانی ہو یا طبقاتی، پہلے دن سے ارض وطن پاکستان کو اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے، اور آج 69 سال بعد بھی ہم بحیثیت قوم اس کا شکار ہیں۔ جب کسی کرپٹ لیڈر، سردار، وڈیرے، خان اور یہاں تک کہ بیوروکریسی میں کسی پر برا وقت آتا ہے تو یہی وہ کارڈ ہے جو جان خلاصی کا ذریعہ بنتا ہے۔\n\nپاکستان کو پہلے تعصب کی ہوا بنگالیوں کو کمتر سمجھنے سے لگی، اس وائرس کا دوسرا جھٹکا پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین اور وجہ بنگلہ دیش محترم ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے ون یونٹ توڑ کر لگایا، اور یہ ایسا بیج تھا جس کا خمیازہ پوری پاکسستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے۔ آج پاکستان میں بسنے والی تمام لسانی اکائیاں اپنی وجہ ناکامی دوسری قوموں کو سمجھتی ہیں۔\n\nمعدنیات سے بھرپور بلوچستان کے پسے ہوئے عوام کبھی بگٹی، مینگل، رند، مگسی سرداروں کے ہاتھوں بلیک میل ہوئے تو کبھی زہری، رئیسانی اور اچکزئی حکمرانوں کے ہاتھوں، کراچی، حیدر آباد، کوٹری اور نوری آباد صنعتی ترقی اور بہت بڑا زرعی پس منظر رکھنے کے باوجود صوبہ سندھ کے مجبور اور بےکس عوام کو بھٹو، زرداری، سید، شیرازی، مہر، سومرو اور درانی وڈیروں نے روٹی کپڑا اور مکان کا جھانسہ دے کر سندھ کارڈ استعمال کرتے ہوئے ان سے وہ کچھ بھی چھین لیا جو ان کا ذاتی تھا، اور اسی طرح شہری پڑھے لکھے الطافی وڈیروں نے 30 ہزار سے زائد انسانوں کی جانوں کی قیمت پر مہاجر صوبے، اوپن میرٹ اور مہاجر حقوق کے نعرے لگاتے ہوئے مہاجروں سے ان کے اسلاف کی دکھائی ہوئی تہذیب، تمدن، تربیت اور نہ جانے کیا کیا کچھ چھین لیا۔ اسی طرح وسطی اور جنوبی پنجاب میں وہاں کے خود سر اور ضدی چوہدریوں، مزارعوں، بٹوں، چیمون اور ٹاموں نےگریٹر پنجاب کے نام ”سب کچھ“ دیا سوائے بنیادی سہولیات اور ضروریات کے۔ اس میدان میں پختونستان کا نعرہ لگانے، اور خیبرپختونخوا کے مالک کہلوانے والوں نے ہر دولت سے مالامال صوبے کے شہریوں کو تعلیم، صحت اور نوکریوں کے ذرائع پیدا کرنے کے بجائے صاف پانی تک چھین لیا اور اپنے آپ کو پختونوں کے سگے سیوتروں نے پاکستان میں دفن ہونا تک گنوارا نہ کیا۔ ظلم کی اس طویل اور تعصب سے بھری رات میں پنجابی، پشتو، سندھی، اور بلوچی ٹی وی چینلز نے سیاہ رنگ کو اور گہرا کردیا۔ یہی حال دین سے عاری مذہبی ٹھیکیداروں اور ای کدوسرے کو کافر کافر یا کم از کم دشمن کو اپنے سے کم تر مسلمان کے فتوے لگانے والی فیکٹریوں کا ہے کہ جنہوں نے دین کی قرآنی اکائی مسلمان کو اسی مذہبی تعصب کی بنا پر سنی، دیوبندی، بریلوی، وہابی، نجدی اور اہلحدیث میں تقسیم کر دیا۔\n\nان سنگین اور ملک دشمن مسائل کا آسان اور دیرپا حل مگر شرط اول مقتدر حلقوں کی سنجیدگی ہے۔\n\n1۔ پورے ملک کی دفتری اور ذریعہ تعلیم اردو زبان کو ہونا چاہیے، اور اس پر ملک کے طول و عرض میں اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ \n2۔ تعلیمی اداروں سے تمام علاقائی زبانوں کے سبجیکٹس کو ختم کر دیا جائے۔\n3۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں صرف اردو یا زیادہ سے زیادہ بین الاقوامی زبان انگریزی کو اجازت نامے دیے جائیں، باقی تمام علاقائی زبانوں کے اجازت نامے منسوخ کر دیے جائیں۔\n4۔ تمام علاقائی، سیاسی اور فلاحی تنظمیوں پر پابندی لگا دی جائے جو کسی خاص قوم کے لیے کام کرتی ہوں، جتنی تنظیموں کی رجسٹریشن کی جائے صرف پاکستان کے نام کے ساتھ ہی کی جائیں۔\n5۔ پورے ملک کو چھوٹے چھوٹے انتظامی یونٹوں میں تقسیم کر دیا جائے اور ان یونٹس کے نام علاقائی زبانوں پر نہ رکھے جائیں بلکہ شہروں کے نام پر رکھے جائیں۔\n6۔ پورے ملک میں یکساں نظام تعلیم، دینی اور عصری تقاضوں کو سامنے رکھ کر رائج کیا جائے، اور تعلیم کے شعبوں کو ملک دشمن این جی اوز سے دور رکھا جائے۔\n7۔ بیوروکریسی کی ہر سطح پر بین الزبان شادیوں کے لیے بیوروز بنائے جائیں۔\n8۔ قومیتوں کی بنیاد پر سیاست چمکانے والے وڈیروں، سرداروں، ملکوں، چودھریوں اور تنظیموں پر پابندی لگائی جائے۔\n9۔ مذہبی تعصب کو ختم کرنے کے لیے بغیر کسی بیرونی مداخلت کے تمام مساجد اور مدارس کو نیشنلائز کیا جائے۔ \n10۔ تمام ایسی جماعتیں جو خالصتا مسلکی بنیاد پر معاشرے میں فساد پھیلا رہی ہیں، ان پر پابندی لگائی جائے۔\n11۔ تمام مکاتب فکر کی ایسی نمائندہ سپریم کونسل بنائی جائے جس میں گروہوں کی برابر اور معتدل مزاج نمائندگی موجود ہو اور حکومت دینی معاملات میں اس کے زیر اثر ہو، ان کی رائے کو احترام دے۔\n\nدنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی ملک مختلف اکائیون کی بنیاد پر بہت دیر تک قائم نہیں رہ سکا۔ اس لیے پاکستان میں اس تیزی سے بڑھتے کینسر کا فوری علاج وقت کی اہم ضرورت ہے۔