پانامہ سکینڈل، سپریم کورٹ دوراہے پر - محمد عمیر

زندگی جبر مسلسل کی طرح کٹی ہے
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا ،یاد نہیں

میں آج کل جب وزیراعظم صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں تو پتہ نہیں کیوںساغرصدیقی کا یہ شعر گنگانے لگتا ہوں۔ میاں صاحب کے اقتدار کی کشتی رواں دواں تھی دور دورتک کسی مشکل کا امکان نہ تھا ،نہ تو تلاطم خیز موجیں تھیں نہ کسی سمندری طوفان کی پیش گوئی کہ اچانک انکی کشتی پانامہ کے مجدھار میں پھنس گئی۔ دھاندلی کا معاملہ دب چکا تھا، فوج سے معاملات بھی ٹھیک چل رہے تھے، سی پیک پر بھی مشکلات نہ ہونے کے برابر تھیں، راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا کہ پانامہ کی آفت نے میاں صاحب کو آ لیا۔ صبر، تعویز، دھاگے، دیسی اور ولایتی سب علاج آزمائے جا چکے مگر یہ آفت میاں صاحب کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی اور میاں صاحب سوچنے پر مجبور ہیں کہ کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

نیب، ایف آئی اے، اینٹی کرپشن سمیت تمام ادارے چپ تھے۔ میاں صاحب کا خیال تھا کہ اپنے عزیز کے مرنے کے تیسرے دن صبر آ جاتا، شاید اسی طرح اپوزیشن بھی اس کیس پر صبر کر کے بیٹھ جائے مگر ستیاناس تحریک انصاف کا کہ میاں صاحب کو سکون کا سانس نہیں لینے دے رہی۔ عمران خان نے 2 نومبر کو دھرنے کا اعلان کیا، مگر دھرنے سے پہلے ہی پنجاب اور اسلام آباد میں بند کر دیا گیا، اسلام آباد میں جو ہوا سب نے دیکھا، اس کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیتے اس کیس کی سماعت شروع کردی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو،کرپشن سکینڈلز پر حکومتوں کی معطلی،عدلیہ بحالی تحریک ،وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کیس کے بعد پاکستان کی عدلیہ ایک دفعہ پھر تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑی ہے۔پیپلز پارٹی کا موقف رہا ہے کہ ان کو عدالتوں سے انصاف نہیں ملتا۔پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں بابر اعوان نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے بعدمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ”لاہور ہائی کورٹ“ نہیں یہ” لوہارہائی کورٹ “ ہے۔ یہاں سے ہمارے وزیراعظم کو دفعہ 109 میں پھانسی کی سزا دی گئی اور شریف فیملی کو سٹے آرڈر دئیے جاتے ہیں۔ 90 کی دہائی میں کرپشن کے الزامات پر پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کی حکومتیں ختم کی گئیں،عدالت کی طرف سے پیپلز پارٹی کی حکومت بحال نہیں کی گئی مگر مسلم لیگ کی حکومت بحال کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔مہران بینک سکینڈل،وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے درمیان کیس کے حوالے سے بات چیت کی ٹیپ،یوسف رضا گیلانی کی نااہلی سمیت ایسے متعدد کیسز ہیں جن پر عدلیہ کو تنقید کا سامنا رہا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے لیے بڑی مشکل یہ کہ انہوں نے مالی معاملات کی تفصیل کے ساتھ ہر اس بات کو سچ ثابت کرنا ہے جو وہ پانامہ سکینڈل پر پارلیمنٹ کے اجلاس میں کہہ چکے، اگر ان دونوں بیانات پر تضاد آیا تو میاں صاحب پر آئین کی دفعہ 62 اور 63 کا اطلاق بھی ہوسکتا ہے۔ پاکستانی تاریخ کا مطالعہ یہ بھی بتاتا ہے کہ لیاقت علی خان کے قتل، اوجڑی کیمپ دھماکے، حمود الرحمن کمیشن رپورٹ، مہران بینک سکینڈل، اگرتلہ سازش کیس سمیت ہائی پروفائل کیسز میں آج تک ملزمان کا تعین نہیں ہوسکا اور نہ کسی کو سزا ملی۔یہ کیسز آج بھی فائلوں کا حصہ ہیں اور ان کو داخل دفتر کردیا گیا ہے۔کیا اب یہ تاریخ بدلے گی؟کیا اب ملزم سے مجرم تک کا سفر طے ہوگا؟ کیا فیصلہ ہوگا یا ایک بار پھر کیس فائلوں کا حصہ بن کر رہ جائے گا؟ سپریم کورٹ ایک بار پھر دوراہے پر کھڑی ہے،ایک طرف صبح روشن ہے تو دوسری طرف وہی راہ جہاں سے ہوکر ہم اس دوراہے تک پہنچے ہیں۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.