بدلتا ہوا بلوچستان-جاوید چوہدری

566527-JavedChaudhryNew-1469464911-239-640x480\n\nبلوچستان یونیورسٹی  کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر جاویداقبال بہت بڑی کیس اسٹڈی ہیں‘ وفاقی حکومت کو یہ کیس اسٹڈی پی آئی اے‘ پاکستان اسٹیل مل اور پاکستان ریلوے جیسے تمام مریض اداروں کو پڑھانی چاہیے‘ یہ اسٹڈی ثابت کر دے گی اگروِل ہو‘ آپ اگر میرٹ پر تقرری کریں‘ آپ اختیارات دیں اور آپ کام میں مداخلت نہ کریں تو ادارے بھی اپنے قدموں پر کھڑے ہو جاتے ہیں۔\n>\nبلوچستان یونیورسٹی 2013ء تک پاکستان کا خوفناک ترین ادارہ تھا‘ کیمپس میں مسلح جتھے کھلے عام پھرتے تھے‘ یہ اساتذہ کو سرعام گولی مار دیتے تھے اور کسی میں لاش اٹھانے کی جرأت نہیں ہوتی تھی‘ ہڑتال عام تھی‘ طالب علم امتحان کے بغیر پاس ہو جاتے تھے‘ ہاسٹلوں پر قبضے تھے‘ بجلی اور گیس کے میٹر کٹے ہوئے تھے‘ یونیورسٹی میں پاکستان کا نام لینا جرم تھا‘ جھنڈا لہرانے یا پاکستان زندہ باد کہنے والوں کو گولی مار دی جاتی تھی اور یونیورسٹی کے ملازمین کی تنخواہیں رک چکی تھیں۔\n\nآپ کو شاید یہ جان کر حیرت ہو گی بلوچستان یونیورسٹی دنیا کی واحد یونیورسٹی تھی جس کے اساتذہ نے 2013ء میں یونیورسٹی گاؤن پہنے‘ ہاتھوں میں کشکول اٹھائے اور بھیک مانگنے کے لیے سڑک پر کھڑے ہو گئے اور لوگوں نے انھیں باقاعدہ بھیک دی‘ یونیورسٹی کے زیادہ تر پروفیسر اس دور میں کراچی‘ لاہور اور اسلام آباد نقل مکانی کر گئے لیکن پھر یہ یونیورسٹی بدل گئی‘ یہ تعلیم کا گہوارہ بن گئی‘ طالب علم تین ہزار سے11 ہزار6 سو ہو چکے ہیں‘ پی ایچ ڈی اساتذہ کی تعداد 180 ہے اور ان میں 135 فارن کوالی فائیڈ ہیں‘ یہ لوگ امریکا اور یورپ کی نامور یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کر کے کوئٹہ آئے ہیں۔\n\nآپ یونیورسٹی میں جس سے ہاتھ ملاتے ہیں وہ ڈاکٹر نکلتا ہے اور اس کے پاس ہارورڈ‘ آکسفورڈ اور ہائیڈل برگ کی ڈگری ہوتی ہے‘ یونیورسٹی میں چار سو طالب علم ایم فل کر رہے ہیں‘ پی ایچ ڈی پروگرام بھی فل سوئنگ میں چل رہا ہے‘ آپ کو یونیورسٹی کے لباس‘ چال ڈھال اور اطوار کسی بھی طرح پنجاب اور سندھ کی بڑی یونیورسٹیوں سے کم دکھائی نہیں دیتے‘ لائبریری بڑی اور خوبصورت ہے‘ یہ رات تک آباد رہتی ہے‘ نوجوانوں کو نشست نہ ملے تو یہ فرش پر بیٹھ کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں۔\n\nکیمپس میں پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگتے ہیں اور پاکستان کا پرچم بھی لہراتا ہے‘ یونیورسٹی اپنے اخراجات کا 39 فیصد خود پیدا کر رہی ہے‘ وہ ادارہ جس کاسٹاف کشکول لے کر سڑک پر کھڑاتھا اس کے اکاؤنٹ میں اب نصف ارب روپے جمع ہیں اور یہ اچھے طالب علموں کو فیسیں واپس کر رہا ہے ‘ آپ کو شاید یہ جان کر بھی حیرت ہو گی یہ ملک کی واحد یونیورسٹی ہے جو اپلائی کرنے والے تمام طالب علموں کو داخلہ دے دیتی ہے‘ یہ معجزہ کیسے ہوا اور یہ کتنی مدت میں ہوا؟ یہ سوال اصل کیس اسٹڈی ہے۔\n\nیہ معجزہ وائس چانسلر ڈاکٹر پروفیسر جاوید اقبال نے صرف دو سال میں کیا‘ ڈاکٹر جاوید اقبال فارما سسٹ ہیں‘ یہ بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علم بھی تھے اور یہ یہاں پڑھاتے بھی رہے‘ یہ خاندان سمیت کراچی شفٹ ہو گئے تھے‘ حکومت نے 2013ء میں دہشت گردی سے نبٹنے کا فیصلہ کیا‘ لیفٹیننٹ جنرل ناصر جنجوعہ کو کوئٹہ کا کور کمانڈر بنایا گیا‘ انھیں مکمل اختیارات دیے گئے‘ یہ وژنری اور ان تھک انسان ہیں‘ یہ آگے بڑھے‘ کام شروع کیا۔\n\nبلوچوں کے مسائل سنے اور ان مسائل کا حل تلاش کرنے لگے‘ میں دو دن کوئٹہ رہا‘ میں نے ان دو دنوں میں جنرل ناصر جنجوعہ کا نام ہر زبان سے سنا‘ یہ محبت ثابت کرتی ہے جب فیصلے میرٹ پر ہوتے ہیں تو لوگ قومیت اور لسانیت دونوں سے بالاتر ہو کر خدمات کا اعتراف کرتے ہیں‘ میری جنرل جنجوعہ سے صرف ایک ملاقات ہے‘ یہ ملاقات سری لنکا میں ہوئی‘ میں نے جنرل صاحب سے عرض کیا‘ آپ کی آنکھیں آپ کے چہرے کے تاثرات سے میچ نہیں کرتیں‘ وہ بولے ’’کیسے؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’آپ کے چہرے پر سنجیدگی لیکن آنکھوں میں شرارت ہوتی ہے‘‘ انھوں نے قہقہہ لگایا‘ مجھے کوئٹہ میں آ کر معلوم ہوا یہ بلوچستان میں بہت مقبول ہیں‘ لوگ دل سے ان کا احترام کرتے ہیں۔\n\nمجھے یہاں آ کر محسوس ہوا حکومت بلوچستان کے معاملے میں بہت سنجیدہ ہے‘ یہ جان چکی ہے ہم نے اگر دوریاں ختم نہ کیں تو بلوچستان ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا‘ ہماری حکومت جان چکی ہے بھارت اور امریکا بلوچستان میں دہشت گردی کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہے ہیں‘ یہ بلوچستان کو پاکستان سے توڑنا چاہتے ہیں اور ہم اگر ملک کو سلامت دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں بلوچوں سے اپنا دل جوڑنا ہو گا اور جنرل ناصر جنجوعہ نے یہ کام کیا چنانچہ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انھیں یاد کر رہے ہیں‘ یہ کوئٹہ میں ہیرو کی طرح پہچانے جاتے ہیں‘ ڈاکٹر جاویداقبال بھی جنرل ناصر جنجوعہ کی دریافت تھے‘ یہ انھیں واپس کوئٹہ لائے اور بلوچستان یونیورسٹی ان کے حوالے کر دی۔\n\nہمارے ملک کی تاریخ ہے ہم نے جس ادارے کو تباہ کر دیا وہ ادارہ دوبارہ قدموں پر کھڑا نہیں ہو سکا لیکن بلوچستان یونیورسٹی استثنیٰ ہے‘ یہ مکمل طور پر تباہ ہوئی اور پھر دوبارہ کھڑی ہو گئی‘ یہ بالکل ایسے ہے جیسے کوئی شخص فوت ہو جائے‘ اسے کفن پہنا کر قبر میں دفن کر دیا جائے اور یہ دوبارہ زندہ ہو جائے‘ بلوچستان یونیورسٹی ایک ایسا معجزہ ہے۔\n\nمیں 28 اکتوبر کی صبح بلوچستان یونیورسٹی گیا‘ گیٹ پر پہرے تھے‘ دیواریں قلعہ نما تھیں اور ان پر درجنوں کیمرے لگے تھے‘ وائس چانسلر کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات ہیں‘ یہ گھر سے نکلتے ہیں یا یونیورسٹی سے گھر جاتے ہیں تو ان کے آگے پیچھے ‘دائیں بائیں ایف سی کی گاڑیاں چلتی ہیں‘ یہ یونیورسٹی کے اندر بھی گارڈز کے نرغے میں رہتے ہیں۔\n\nڈاکٹر صاحب اپنی پشت پر لوڈڈ پستول بھی لگائے رکھتے ہیں اور دفتر میں ان کی میز کے نیچے کلاشنکوف ہوتی ہے‘ میں نے ان انتظامات کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر صاحب نے بتایا ’’ مجھے چار گروپوں کی طرف سے دھمکیاں مل رہی ہیں‘ ملک کے دشمن یہ سمجھتے ہیں میں نے بند یونیورسٹی کھول کر ان کے ایجنڈے کو نقصان پہنچایا اور ہم لوگ بلوچستان کو زندہ کر رہے ہیں‘ یہ لوگ ہمارے صوبے کو برین لیس کرنا چاہتے ہیں‘ یہ ڈاکٹروں اور وکلاء کو ختم کرتے چلے جا رہے ہیں‘ یہ اس کے بعد پروفیسروں کو نشانہ بنائیں گے۔\n\nہمارے پاس ملک کی سب سے بڑی اور مضبوط فیکلٹی ہے‘ یہ لوگ اس فیکلٹی کو اڑانا چاہتے ہیں چنانچہ میں اپنے اساتذہ کی حفاظت بھی کر رہا ہوں اور اپنی بھی‘ میں انھیں بتا دینا چاہتا ہوں‘ میں بطخ کی طرح نہیں مروں گا‘ میں بلوچ کی طرح لڑ کر مروں گا‘‘ ڈاکٹر صاحب نے بتایا ’’ہم کسی شخص کو یونیورسٹی کا ماحول خراب نہیں کرنے دیتے‘ ہماری یونیورسٹی کا اپنا حفاظتی نظام ہے اور ہمارے پاس ٹرینڈ گارڈز ہیں۔\n\nیہ انتظامات دہشت گردوں کو یونیورسٹی کی طرف نہیں دیکھنے دیتے لہٰذا ہمارے اساتذہ اور طالب علم اطمینان سے پڑھ اور پڑھا رہے ہیں‘‘ مجھے ڈاکٹر جاوید اقبال کی اسپرٹ اچھی لگی‘ یہ میدان میں ڈٹ گئے ہیں‘ بلوچستان کے زیادہ تر لوگ ڈاکٹر جاوید اقبال کی طرح میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں‘ یہ بھی بطخ کی طرح نہیں بلکہ لڑ کر مرنا چاہتے ہیں‘ وفاق بھی ان لوگوں کی مدد کر رہا ہے‘ بلوچی نوجوان دھڑا دھڑ فوج‘ نیوی اور فضائیہ میں بھرتی کیے جا رہے ہیں۔\n\nپی ایم اے کے ہر بیچ سے 70 بلوچی نوجوان سکینڈ لیفٹیننٹ بن رہے ہیں‘ افواج پاکستان نے بلوچی نوجوانوں کے لیے سلیکشن کا معیار بھی نرم کر دیا ہے‘ صوبائی حکومت بھی بھرتیاں کر رہی ہے اور نوجوانوں کو ہنر بھی سکھائے جارہے ہیں‘ یہ سارے عناصر مل کر بلوچستان کو تبدیل کر رہے ہیں‘ یہ تبدیلی اگر اسی ترتیب اور رفتار سے چلتی رہی تو کل کا بلوچستان آج اور گزرے کل کے بلوچستان سے ہزار گنا بہتر ہو گا‘ یہ بلوچستان صرف بلوچستان نہیں ہو گایہ پاکستان ہو گا‘ مکمل پاکستان۔