ہندوستان کے عجائبات اور 17 سوال - ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

رضی الاسلام ندوی آج کل بھوپال کی سینٹرل جیل (جسے انتہائی سخت سیکورٹی والی جیل سمجھا جاتا ہے اور اس معاملے میں اسے ISO کی سند حاصل ہے) سے فرار ہونے والے ملزمان کے انکاؤنٹر کا معاملہ میڈیا میں گرم ہے اور طرح طرح کی حیرت انگیز معلومات سامنے آرہی ہیں، مثلاً:\r\n1. وہاں کے بھاری بھرکم اور مضبوط ترین تالے لکڑی اور چمچوں سے بنی ہوئی چابیوں سے کھل گئے_\r\n2. اسٹیل کی پلیٹ کی دھار سے ایک جاں باز پولیس افسر کا بہیمانہ قتل کردیا گیا_\r\n3. ملزموں نے جیل کی چادروں اور کمبلوں میں لکڑی کے ٹکڑے فٹ کرکے لمبی سیڑھی بنائی، جس کی مدد سے 30 فٹ اونچی دیوار کود گئے _\r\nہندوستانی حکم رانوں کو ان چیزوں کو اکیسویں صدی کے عجائبات میں شامل کرکے انھیں کسی میوزیم میں محفوظ کردینا چاہیے اور اس پر بھاری ٹکٹ لگا دینا چاہیےدنیا بھر کے سیاح انھیں دیکھنے آئیں گے تو ملک کو خطیر زرمبادلہ حاصل ہوگا.\r\nمذکورہ بالا بیانات سے کچھ اور گتھیاں ہیں، جو سلجھنے کے بجائے مزید الجھ رہی ہیں :\r\n4. تین الگ الگ بیرکوں سے 8 ملزم اکٹھا ہوئے اور جیل انتظامیہ کو کیسے خبر نہیں ہوپایی؟\r\n5. قیدی خالی ہاتھ ہوتے ہیں، پھر ملزموں نے لکڑی اور چمچوں کی چابیاں کیسے تیار کرلیں؟\r\n6. انھیں اتنی چادریں اور کمبل کہاں سے مل گئے؟ ظاہر ہے کہ 8 چادروں اور کمبلوں سے اتنی لمبی سیڑھی نہیں بنائی جا سکتی ہے\r\n7. کیا کپڑوں کی سیڑھی جیل کی بیرونی بلند دیوار پر اٹکائی جا سکتی ہے ؟\r\n8. ملزموں کے جمع ہونے، چادروں کو اکٹھا کرنے اور سیڑھی تیار کرنے میں کچھ نہ کچھ وقت لگا ہوگا_اس عرصے میں جیل کی انتظامیہ غافل کیسے رہی؟\r\n9. کیا انتہائی سیکورٹی والی جیل کی چوکیداری صرف ایک پولیس افسر کر رہا تھا؟\r\n10. پولیس افسر کا گلا ریت کر اسے قتل کردیا گیا، لیکن وہ نہ چیخا نہ چلّایا، جس سے دوسرے پولیس والوں کو خبر ہوجاتی؟\r\n11. ملزموں نے جیل کی بیرونی دیوار پر سیڑھی فٹ کی، ایک ایک کرکے دیوار پر چڑھے، پھر ایک ایک کرکے باہر اترے، لیکن ٹاور کے چوکیداروں کو ان کی بھنک نہ لگ سکی؟\r\n12. جیل انتظامیہ کو کب اور کیسے ملزموں کے فرار ہونے کی اطلاع ملی؟\r\n13. ملزموں کو جیل سے باہر آتے ہی عمدہ لباس، امپورٹڈ جینس شرٹ اور گھڑیاں وغیرہ کہاں سے مل گئیں؟\r\n14. انھیں اسلحہ، پستول، گڈاسا وغیرہ کس نے فراہم کیا؟\r\n15. ملزم جیل سے نکنے کے 8 گھنٹے بعد بھی زیادہ دور کیوں نہیں جا سکے؟ تھوڑے فاصلے ہی پر رہے؟\r\n16. اتنے عرصے تک سب ایک ساتھ کیوں رہے؟ وہ الگ الگ کیوں نہیں فرار ہویے؟\r\n17. ماہر، تربیت یافتہ اور اسلحہ سے لیس پولیس نے کیوں انھیں زندہ پکڑنے میں دل چسپی نہیں دکھائی؟\r\n\r\nیہ اہم سوالات ہیں، جو جواب چاہتے ہیں، اس لیے کہ ان سے ہمارے ملک کی سیکورٹی وابستہ ہے، اور سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ ملزموں کے SIMI کا ممبر ہونے کا جو دعوی کیا جا رہا ہے، اس کا ثبوت کیا ہے؟ جس طرح ملک کا ہر ہندو RSS کا ممبر نہیں ہے، اسی طرح ملک کے ہر مسلمان کو SIMI کا ممبر نہیں قرار دیا جا سکتا، جب تک کہ اس کا ثبوت نہ پیش کیا جائے.

Comments

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

محمد رضی الاسلام ندوی نے ندوۃ العلماء لکھنؤ سے فراغت کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے BUMS اورMD کیا. ادارہ تحقیق و تصنیف اسلامی ہند کے رفیق رہے. سہ ماہی تحقیقات اسلامی کے معاون مدیر اور جماعت اسلامی ہند کی تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری ہیں. قرآنیات اور سماجیات ان کی دل چسپی کے خاص موضوعات ہیں. عرب مصنفین کی متعدد اہم کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.