جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں - حنا تحسین طالب

بچپن سے سنتے آر ہ\0ے ہیں کہ دنیا صدائے بازگشت ہے.. اور یہ بہت بڑی حقیقت ہے، یہاں جو ہم دیتے ہیں وہی پاتے ہیں، جو بوتے ہیں وہی کاٹتے ہیں. ممکن نہیں کہ یہاں چنا بو کر گندم کاٹیں. کانٹے اگا کر گلاب پائیں اور محنت کے بغیر کامیابی حاصل کریں. جس طرح اپنے اعمال کے نتائج ہمیں آخرت میں بھگتنے ہوں گے بالکل اسی طرح ہم دنیا میں بھی اپنے اعمال کا صلہ پاتے ہیں. \n سورۃ الكہف میں آیت 32 سے 44 تک، دو دوستوں کا ایک قصہ بیان ہوا ہے جس میں ایک شخص نہایت مال اور اثر و رسوخ رکھتا تھا جس پر اسے بہت غرور تھا، اس کے ساتھی نے اسے نصیحت کی مگر اس پر اثر نہیں ہوا لہذا اس کا باغ تباہ کردیا گیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا. اس نے اپنے پچھتاوے کا اظہار ان الفاظ میں کیا کہ کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا. نعمت سلب ہونے کے بعد اسے یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ مصیبت اس کی بد اعمالی کا نتیجہ ہے. \nاسی طرح بخاری و مسلم میں ایک حدیث بیان ہوئی ہے جس کے مطابق پہلے لوگوں میں سے تین آدمی پیدل سفر میں رواں دواں تھے. اچانک بارش ہونا شروع ہو گئی. انھوں نے ایک قریبی غار میں پناہ لی, غار ان پہ بند ہو گئی، کہ اس کے دھانے پر پتھر آن گرا تھا. اب وہ ایک دوسرے سے کپنے لگے: اے ساتھیو! اللہ کی قسم! آج تمھیں فقط سچ ہی نجات دلائے گا، لہذا ہر شخص ہم میں سے جو سچائی رکھتا ہے، آج رب کی بارگاہ میں پیش کردے، شاید نجات مل جائے. لہذا تینوں نے باری باری اپنی التجا، اپنا نیک عمل اپنے رب کے حضور پیش کیا. اور ہر ایک اپنا نیک عمل اللہ کے سامنے پیش کرتا اور آخر میں التجا کرتا، اے اللہ! اگر تجھے معلوم ہے کہ یہ عمل میں نے تیرے خوف سے کیا ہے تو ہمیں کشادگی عطا فرمادے، تو بالاخر اللہ نے وہ چٹان دور کردی، غار کا منہ کھل گیا، وہ باہر آکر جانب منزل روانہ ہو گئے.\nیہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کے نیک اعمال کس طرح مصیبت میں اس کے کام آتے ہیں. تو اعمال کی جزا و سزا محض آخرت سے وابستہ نہیں، یقینا وہاں جزا و سزا کمال کے درجے میں ملے گی مگر ان کے کچھ اثرات دنیا میں بھی انسان کے سامنے آتے ہیں.\nاللہ تعالی قرآن میں فرماتے ہیں: \nاور تم پر جو مصیبت پڑتی ہے، خود تمھارے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے پڑتی ہے اور بہت سی تو اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے. (شوری:30/42)\nاسی طرح سیدنا علی رض فرماتے ہیں:\nجو مصیبت نازل ہوتی ہے گناہوں کی وجہ سے نازل ہوتی ہے اور جو مصیبت رفع ہوتی ہے توبہ کی وجہ سے رفع ہوتی ہے.\nلہذا صرف آخرت ہی نہیں اپنی دنیا کو بھی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم گناہوں سے اجتناب اور نیک اعمال کریں. ابتداء میں مشکل تو ہوگی مگر ایک بار ارادہ پختہ ہو گیا تو اللہ ایسے ذرائع سے مدد کریں گے کہ گمان بھی نہ ہوگا. \nصرف پہلا قدم اٹھانا مشکل ہوتا ہے اس کے بعد اس راستے پہ قدم خود بخود اٹھتے جاتے ہیں، گرہیں کھلتی جاتی ہیں. \nاب گناہوں سے توبہ کریں تو بےفکر ہو کر کریں کیونکہ یہ ہمارے ہی فائدے میں ہے، اسی طرح نیکی کریں، اور کر کے بھول جائیں، آپ اپنی نیکی کو بھول سکتے ہیں، مگر آپ کی نیکی آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی.. یقین کیجیے، آپ کے اعمال نیک ہوں یا بد، ہوتے بہت وفادار ہیں، آپ انھیں پاتال میں بھی چھوڑ آئیں... گھوم پھر کے آپ کے پاس لوٹ آتے ہیں. کبھی زندگی کی کسی تاریک راہ میں، آپ کی کوئی گزشتہ نیکی اچانک جگنو کی مانند آ کر آپ کی راہ روشن کردیتی ہے، اور آپ کو گمان بھی نہیں ہوتا. \nاور کبھی جب آپ اپنی زندگی کی لگائی ہوئی کھیتی کو دیکھ کے شاداں و فرحاں ہو رہے ہوتے ہیں تو اچانک آپ کے سابقہ گناہ کی کوئی سلگتی چنگاری... آپ کی کھیتی کو جلا کر خاکستر کر دیتی ہے اور آپ ھاتھ ملتے رہ جاتے ہیں.

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */