ہمارا خاندانی نظام مشترکہ ہو ہی نہیں سکتا - جہانگیر بدر

جہانگیر بدر مشترکہ خاندانی نظام اسلامی ہے یا غیر اسلامی اس حوالے سے دلیل پر بحث ہو رہی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام زندگی کو اگر اسلام نے کہیں منع نہیں کیا تو اس کوکہیں لازمی بھی نہیں ٹھہرایا۔\nسچ تو یہ ہے کہ ہمارا خاندانی نظام سرے سے مشترکہ ہے ہی نہیں۔ ہم جس خاندانی نظام میں رہتے ہیں یہ خوب سے خوب تر ہو سکتا ہے،کیونکہ ہم اپنوں سے پیار کرتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے ہیں ،اپنے غریب بھائیوں کی مدد کرتے ہیں، لیکن ان وجوہات کی بنا پر ہم اسے مشترکہ خاندانی نظام نہیں کہہ سکتے اور نہ ہی یہ کسی طرح مشترکہ خاندانی نظام کی تعریف پر پورا اترتا ہے۔\nمشترکہ خاندانی نظام کی اپنی ایک تعریف ہے۔مشترکہ خاندانی نظام ایک کمپنی کی مثل ہوتا ہے اور گھر کا ہر فرد اس میں برابر کا حصے دار ہوتا ہے۔ہر فرد کی کمائی ایک ہی اکاونٹ میں جاتی ہے اور سب کو برابر کا حصہ ملتا ہے۔ آمدنی چاہے کسی کی کم ہو یا زیادہ لیکن حصہ برابرہوتا ہے ۔ گھر کا کوئی فرد اگر اپنی خفیہ ذاتی جائیداد بنا بھی لے تو ظاہر ہونے پر گھر کے ہر فرد کا اس میں برابر کا حصہ ہوتا ہے اور ذاتی جائیداد بنانے والے کو بد نیت سمجھا جاتا ہے۔\nہمارے نظام میں اور نہ ہی اسلام میں ایسی کوئی شرط ہے۔ اگر گھر کا کوئی فرد اپنی آمدنی سے کوئی جائیداد بناتا ہے تو وہ اس کا بلا غیرے شرکت مالک ہے۔ اس جائیداد میں اور کسی کا حصہ نہیں ہوتا۔اگر کوئی بھائی چھوٹا ہویا بڑا جس کی مالی حالت اچھی ہو وہ اپنے باقی بےروزگار یا غریب بھائیوں کی یا کسی اور رشتہ دار کی مدد کرتا ہے تو یہ اس کے لئے باعث رحمت اور بڑی نیکی کا کام تو ہو سکتا ہے لیکن اس پر لازمی نہیں ہے کہ وہ ایسا کرےاور نہ ہی کوئی غریب بھائی اپنے امیر بھائی سے بطور اپنے کےحق کے اس کی ذاتی آمدنی سے کسی چیز کا تقاضا کر سکتا ہے۔\nاگر دادا زندہ ہو اور بیٹا پہلے فوت ہو جائے تو فوت ہونے والے بیٹے کی اولاد اپنے دادا کی جائیداد کی وارث نہیں ہوتی۔پاکستان میں رائج قانون مختلف ہے جس میں فوت ہونے والے کی اولاد کو بھی وارث شامل کیا گیا ہے لیکن اسے وفاقی شرعی عدالت غیر اسلامی قرار دے چکی ہے اور اب یہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔\nان وجوہات کی وجہ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا خاندانی نظام ہمدردی کا تو ہو سکتا ہے لیکن مشترکہ نہیں ہو سکتا ہے۔\nآج سے دس سال پہلےجب ایک دن جمہوریت پر بات ہو رہی تھی تو میرے ایک استاد نے کہا تھاکہ اس ملک میں اس وقت تک جمہوریت ایک خواب ہی رہے گا جب تک ہم ذہنی طور پر اس برائے نام خاندانی نظام سے آزاد نہیں ہوتے۔اس نظام نے ہمارے ذہنوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ہم اپنے بچوں کو ان کے آزاد ذہن سے سوچنے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ہم چھوٹوں کے اختلاف کو گستاخی سمجھتے ہیں۔ میں نے اس وقت اپنے استاد کی ان باتوں سے اتفاق نہیں کیا۔ لیکن دس سال بعد جب مجھے ایک دوست نے اپنے چھوٹے بھائی کا قصہ سنایا کہ کس طرح وہ الیکشن میں اپنے گھر والوں سےاختلاف کر کے کسی دوسری پارٹی کو ووٹ دے رہا تھا لیکن ووٹ دینے کے لئے جاتے ہوئے راستے میں کس طرح اس کا ذہن تبدیل ہوا تو مجھے اپنے استاد کی بات یاد آئی اور اسی دن میں نے ان کی بات سےاتفاق بھی کر لیا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */