میاں صاحب کے پانامے اور پاجامے - خورشید احمد خان

بھائی یہ پانامہ لیکس کیا شے ہے۔ بقول شاہی سید یہ دھاندلی کیا بلا ہے یہ مولی ہے گاجر ہے ٹماٹر ہے کیا چیز ھے دھاندلی؟۔ ہم پانامہ لیکس کے بارے شاہی سید کے جملہ سے متفق\nہیں۔ کیونکہ مرغی کا نمک سے کیا واسطہ میاں صاحب کا پانامہ ہو یا پاجامہ ہونے دو۔ البتہ اتنا ادراک ہے کہ خان صاب کہہ رہے ہیں کہ میں جب پانامہ لیکس کا نام لیتاہوں تو راے ونڈ میں تہلکہ مچ جاتاہے۔ پتہ نھی کیو۔؟ مصافحوں کی بات بعد میں کرینگے پھلے ذرا یہاں جھانک کر چل دیتے ہیں۔\n\nعرب میں ایک عجیب روایت تھی جب انکا کوئی مشہور بندہ جنگ میں مارا جاتا تو وہ اس کا بدلہ لینے تک رونے پر پابندی لگادیتے تھے مثلا غزوہ بدر کو لیں۔ جنگ میں مشرکین کے بڑے ستر سردار مارے گیے جن میں ابو جہل جیسے کئی نامور سردار شامل تھے۔ یہ پیغام جب مکہ پہنچا تو انہوں نے رونے پر پابندی لگا دی اعلان۔ہوا کہ ہم پہلے مقتولوں کا بدلہ لیں گے اسکے بعد رونے کی اجازت دی جاے گی جس نے اس سے پھلے رونے کی کوشش کی اسکو قبیلہ سے نکال دیا جائے گا۔ یہ پیغام لواحقین کے لیے موت سے بھی زیادہ سنگین تھا ان دنوں رات کے پچھلے پھر کسی عورت نے دوسری بوڑھی کے ررونے کی آواز سنی اور خوشی کے مارے اسکی جانب چپکے سے گ\0\0ئی اور کہا اماں اگر رونے سے پابندی ختم ہوگئی ہو تو بتاو میں بھی رودوں۔؟ بوڑھی عورت نے آنکھیں پونچھتے ہویے سسکیاں لیتے ہویے کہا میں تو اپنے پیارے سے اونٹ کیلئے رورہی ہوں جو مجھے کل سے دکھائی نہی دے رہا۔ آنے والی عورت نے کہا میرا بیٹا بدر میں مرا تھا میرا کلیجہ غم سے پھٹا جارہا ہے اگر پابندی ختم ہو تو میں.........؟اور پھر کہنے لگی کہ اماں آپ رشتے میں میری پھوپھی لگتی ہو سو آؤ میرے گلے لگ جاو میں آپکے غم میں برابر کی شریک ہوجاتی ہوں اور پھر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودیں۔\n\nیہ عربوں کی روایت تھی کہ یہ عورتیں اپنے بیٹوں کا غم بھلانے کے لیے اونٹ اور بکریوں کا سہارا لیتی تھیں۔ آندھیوں طوفانوں اور جنگوں کا ذکر کرتیں اور اپنے بھائی بیٹے کا غم غلط کرتی تھیں۔ معلوم نھی اس دور میں اس واردات کو کیا کہاجا تھا لیکن آج کا معاشرہ اسے منافقت کہتا ہے۔ اس قسم کی صورتحال کے لیے پشتو میں بھی ایک محاورہ ہے کہ بھائیوں کا نام لے کر اپنے بوائے فرینڈ کو رونا۔ لیکن اب لوگ ہوشیار اور بالغ النظر ہوچکے، بہادر اور سمجھ دار ہوچکے لہذا انہیں اب دکھ پیٹنے کے لیے بکریوں اور اونٹوں کا سہارا نھی لینا پڑتا۔ لیکن پانامہ میاں صاحب کے بعد معلوم ہوا کہ یہ تو بنیادی طور پر منافق معاشرے کا مسئلہ ہے۔ اور منافق معاشرہ چودہ سو سال بعد یا پھر 21ویں صدی کی جگمگاتی روشنیوں میں پروان چڑھا ہو، لوگوں کے رد عمل لوگوں کے رویے یکساں ہوتے ہیں۔\n\nجہاں تک خیال ناقص ہے.... میاں صاحب کے پانامے کے پچھے خود ہی ان کا دست اقدس کارفرما ہے۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں. میاں صاحب اس طرح کے طاقتور اور صحت مند کٹے اپنے دور اقتدار میں نہ چھوڑیں تو ذہنی بوجھ کی شکایت ہوتی ہے انھیں۔ لیکن افسوس اور حیرت انگیز افسوس تو ان مخالفینِ میاں صاحب کے موقف پر ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم یہ سب کچھ جمہوریت کی بقا کے لیے کرہے ہیں۔ واہ یہ کیسی جمہوریت ہے بابا جو یہ تک نہیں جانتی کہ جمہوریت اقتدار نہیں اپوزیشن سے مظبوط ہوتی ہے جس ملک میں جتنی بڑی اپوزیشن ہو وہ ملک اتنی ہی بڑی جمہوریہ ہوتا ہے۔ اور جس ملک میں جتننی مختصر اپوزیشن ہو وہ ملک اتنا ہی شہنشاہ ہوا کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا اپوزیشن لیڈر کا اپنے آپ سے خطرہ ہوتا ہے مخالفین کی بات دور کی ہے۔ چلو یہ بھی مان لیا۔سیاست حصول اقتدار کا ذریعہ ہوتی ہے یہ وہ راستہ ہے جس پر لوگ چل کر لیلائے اقتدار تک پہنچے ہیں۔ تو پھر یہ لوگ اعتراف کیوں نہیں کرتے؟ یہ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ ہمارا کوئی پارٹی کوئی نظریہ کوئی مشور نہیں۔ ہر وہ سیاسی نظریہ ہر وہ منشور اور ہر وہ پارٹی ہمارا منشور ہے جو ہمیں ایوان اقتدار تک لے جائے۔ آپ اپنی کارکردگی اپنے فن کو جمہوریت کا نام کیوں دیتے ہیں۔ بھائیوں کا نام لیکر بوائے فرینڈ کا ذکر کیوں کرتے ہو۔ اونٹوں اور بکریوں کا بہانہ لیکر اپنی خواہشوں اور حسرتوں کے آنسوں کیوں بہاتے ہوں۔؟ خان صاب کے ساتھ دیگر رفیقان سفر سامنے آکر صاف کیوں نہیں کہتے کہ ہماری زندگی کا ایک ہی مقصد ہے وہ ہے اقتدار۔ کیونکہ وہ تو ہمیں بھی پتہ ہے کہ مچھلی اور پاکیستانی سیاست دان اقتدار کے تالاب سے باہر کبھی نھی رہ سکتے ۔ یقین کیحیے برائی کرنے\nوالے اتنے برے نہیں ہوتے جتنے برے اس برائی کو اچھائی ثابت کرنے والے ہوتے ہیں۔\n\nعمران خان قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ اگر نہیں تو پیچھے ضرور ہیں....

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */