سموگ کی چادر اور احتیاطی تدابیر

دہلی سے لاہور کے گرد و نواح تک سموگ بڑھ رہی ہے اور شہری اپنی کم علمی کے باعث آنسو بہا رہے ہیں اگرچہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت اور پاکستان کے پڑوسی دوست ملک چین میں سموگ اور فضائی آلودگی ایک خطرناک صورتحال اختیار کر چکی ہے اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں لیکن بھارت اور پاکستان میں پھیلی اس چادر کو ٹائمز آف انڈیا نے بھارت میں ہونے والی دیوالی تقریبات سے منسوب کیا ہے یہاں بجا طور پر یہ سوال ابھرے گا کہ ایسا کیوں؟ سموگ آخر ہے کیا؟

\n\n

سموگ کیا ہے؟

\n\n

سموگ "فوگ" مطلب دھند اور "سموک" مطلب دھویں سے ماخوذ کی کئی اصطلاح ہے اس کی ظاہری شکل لاہور اور گرد و نواح کےشہری اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں، کیمیائی طور پر اس میں صنعتی فضائی مادے، گاڑیوں کا دھواں، کسی بھی چیز کے جلاؤ سے نکلنے والا دھواں مثلاً بھٹوں سے نکلنے والا دھواں شامل ہوتا ہے حالیہ سموگ میں دیوالی کی تقریبات میں بڑے پیمانے پر ہونے والے آتشبازی کا ایک بڑا حصہ گردانا جا رہا ہے سموگ کی وجہ سے اوزون کی مقدار فضا میں خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے- اگرچہ اکثر ممالک میں فضائی آلودگی کو مانیٹر کرنے کے لیے آن لائن "ائیر کوالٹی انڈیکس میپ" کا سہارا لیا جاتا ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے علاقےمیں فضاء کیسی ہے لیکن بدقسمتی سے اس نقشے میں پاکستان کے بارے معلومات فراہم نہیں کی جاتیں

\n\n

14915449_687405894759387_4709753049342532439_n

\n\n

کیا سموگ خطرناک ہوتی ہے؟

\n\n

جی ہاں سموگ خطرناک ہے- اگرچہ اس کے کیمیائی اجزاء اپنی آزادانہ حثیثت میں بھی خطرناک ہوتے ہیں لیکن باہم ملنے کے بعد زہریلے ہو جاتے ہیں، سموگ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پودوں اور فطرت کی ہر چیز کو نقصان پہنچاتی ہے چین میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں افراد سموگ کی وجہ سے جان ہار بیٹھتے ہیں، وہاں 17 فیصد اموات سموگ کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں

\n\n

انسانی صحت پر اثرات:

\n\n

سموگ بھی زیادہ وقت گزارنے سے مختلف جز وقتی طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جیسا کہ سانس لینے میں دشواری، کھانسی یا گلے اور سینے میں جلن: صرف چند گھنٹوں میں ہی سموگ آپ کی پھیپھڑوں کی داخل ہو کر جلن پیدا کر سکتی ہے، تاہم اگر جلن نہ بھی ہو تو یہ آپ کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے سموگ میں سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے، خاص کر گہری سانس لینا مشکل ہو سکتا ہے اگر آپ دمہ کے مریض ہیں تو سموگ میں جانا آپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے آنکھوں میں جلن اور جبھن: بعض اوقات گہری سموگ میں زہریلی مادے آنکھوں میں جلن اور جبھن پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو سکتی ہیں اور آنسو بہہ سکتے ہیں

\n\n

سموگ سے زیادہ منفی اثرات بچوں اور جوانوں پر پڑتے ہیں تاہم یہ کسی نہ کسی درجے میں تمام عمر کے افراد کو متاثر کرتی ہے

\n\n

احتیاطی تدابیر:\nحتیٰ المقدور کوشش کریں کہ گھر سے باہر کھلی فضاء میں نہ نکلیں، اگر گھر سے باہر نکلنا ہو تو علی الصبح نکلیں-\nکھلی فضا میں ماسک کا استعمال کریں، کھلی فضا سے واپسی پر آنکھوں اور ناک کو پانی سے دھویں\nنومولود اور کم عمربچوں کو کھلی فضا میں لے جانے سے رکیں\nدمہ، دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا خاص خیال رکھیں\nبھاری کام کرنے سے پرہیز کریں، کام کے دوران وقفوں کو بڑھا دیں\nعلامات میں شدت کی صورت میں فوراً ڈاکٹر کو چیک کروائیں