شکریہ کپتان - حسن تیمورجکھڑ

تہمید کے طور پر میں ایک کہاوت سنانا چاہتا ہوں۔

ایک گاؤں میں باپ بیٹا رہتے تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے بازارسے گدھا خریدا اور اسے لے کر پیدل گھرکی جانب چل پڑے۔ راستےمیں انہیں کچھ لوگ ملے جنہوں نے ان کامذاق اڑایا کہ دیکھو، گدھے کے ہوتے ہوئے بھی پیدل چلے جا رہے ہیں۔ اس پر وہ دونوں باپ بیٹاگدھے پہ سوار ہوگئے۔ کچھ دور چلے تو چند افراداور ملے، انہوں نے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا کہ دیکھو ان دو ظالم انسانوں کو جو اکٹھے ایک گدھے پر سواری کر رہے ہیں۔ یہ سن کردونوں شرمندہ ہوئے اور فیصلہ کیا کہ ایک بندہ سواری کرے گا اور ایک پیدل چلے گا۔ باپ بیٹھا رہا، بیٹا پیدل چل پڑا۔ کچھ دور چلے تو کچھ لوگ اور ملے اور طنزیہ ہنسی ہنستے ہوئے بولے کہ دیکھو کیسا باپ ہے کہ خود مزے سے سواری کر رہا ہے اور بیٹا بےچارہ پیدل چلنے پہ مجبور ہے۔ یہ سن کر باپ نیچے اترا اور بیٹے کو سوار کرا دیا۔ کچھ دور چلے تو ایک ٹولہ اور آن ملا، اور آپس میں باتیں کرنے لگا کہ دیکھو کیسا زمانہ آگیا، بزرگ باپ پیدل چل رہا ہے اور بیٹا سواری کے مزے لے رہا ہے ۔ یہ سن کر دونوں باپ بیٹا بڑا سٹپٹائے۔ خیر انجام یہ ہوا کہ انہوں نے گدھے کو راستے میں پڑنے والی نہر میں پھینکا اور یہ کہتے ہوئے چل دیے کہ اس دنیا میں لوگوں کو خوش کرنا ناممکن ہے۔

اب آتے ہیں مدعے کی جانب۔
میڈیامیں ہاہا کار مچی ہے کہ پٹھان ڈر گیا، کھلاڑی ہارگیا، نیازی نے ہتھیار ڈال دیے وغیرہ وغیرہ۔ عمران خان کو آپ چاہے یوٹرن کا بادشاہ بولیں، سیاسی نابالغ بولیں، یا پھر نادان۔مگر میں اس فیصلے پراس کی نہ صرف تائید کرتا ہوں بلکہ خوش بھی ہوں۔ میں پی ٹی آئی کا سپورٹر ہوں، اور ن لیگ کا حامی، پیپلزپارٹی کو پسند کرتا ہوں اور مسلم لیگ ق کامشکور ہوں۔ ہر اس کام کے لیے جو وہ ملک کے لیے کرتے ہیں۔ جو حقیقی معنوں میں قوم کی فلاح کے لیے ہو۔ میں سخت مخالف ہوں ایسی سیاست کا جو اپنے مفاد، اپنی اولاد، اپنی جائیداد کے لیے ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم کو اعتبار آیا - حبیب الرحمن

کپتان کا اسلام آباد لاک ڈاؤن کافیصلہ مجھے پہلے بھی سمجھ میں نہیں آیا اور بلاجواز سا لگا تھا۔ شاید کپتان اپنے جارحانہ مزاج کی وجہ سے نااہل مشیروں اور سیاسی حریفوں اور حلیفوں کے لیے آسان شکار ہیں۔ ماضی کی کئی شاندار غیر متوقع کامیابیوں نے ضرور ان کو بڑا لیڈر بنا دیا، مگر سیاسی بصیرت ایک الگ چیز ہوتی ہے۔ کپتان نے ماضی قریب میں یکے بعد دیگرے کئی ایسی حرکات کیں (اللہ جانے کس کے کہنے پر کیں) کہ دل ٹوٹ گیا۔

پانامہ لیکس کے معاملے پر سولو فلائٹ کی کوشش بھی ناکام رہی۔ لاہور میں مال روڈ پر دھرنا اور پھر شاہدرہ سے ہونے والی احتساب ریلی بھی ناقص حکمت عملی کے باعث ناکام رہے، اس سے سیاسی ساکھ کو اچھا خاصا دھچکا لگا۔ خان صاحب کو شاید کسی فوجی مشیرکی معیت حاصل ہے جس کی سرشت میں جنگی جنون اور بےچینی بھری ہے۔ یہی مشیر خان صاحب کو بیٹھنے نہیں دے رہا۔ ورنہ تو ہر صاحب بصیرت کارکن، رہنما، سیاسی حلیف، رقیب، دانشور اور صحافی خان صاحب کو یہ باقی ماندہ عرصہ دھینگا مشتی کے بجائے مؤثر اپوزیشن کے ذریعے گزارنے کامشورہ دے رہے ہیں۔

میں بھی انہی نکات کو یہاں دہرانا چاہتا ہوں کہ خان صاحب اب لیڈری چھوڑیں، اور سیاست پر آئیں۔ قومی وصوبائی اسمبلیوں میں (بالخصوص پنجاب) میں مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے ہوئے قومی اور عوامی معاملات پر قانون سازی میں پیش پیش رہیں۔ بھلے ان کی پیش کردہ قراردادیں اور بل اور تحریکیں منظور نہ ہوں، لیکن کم سے کم ان کی موجودگی کااحساس تو رہے، اور ووٹوں کا حق بھی کچھ ادا ہو۔

پانامہ لیکس کو کسی کمیشن یا عدالت میں لے جا کر اسے یکسر ہی ختم نہ ہونے دیں۔ اسے اپنی طاقت کے طور پر انتخابات تک کے لیے بچا کر رکھیں تاکہ اپنے ووٹرز کے ساتھ ساتھ مخالفین کے باشعور ووٹرز کو بھی توڑ سکیں۔ (کیوں کہ کمیشن یا عدالت میں جیت حکمرانوں کی ہی ہونی ہے چاہے سو میں سے99 گواہ خلاف ہی کیوں نہ ہوں)

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کی ٹیم پر تنقید کیوں؟ محمد عامر خاکوانی

عمران خان صاحب! آپ کو چاہیے کہ قومی اسمبلی میں کرپشن کو قابل گردن زنی جرم قرار دینے کا بل لائیں، چاہے منظور ہو یا نہ، مگر پارٹی کے مؤقف کو تقویت ملے گی۔ اور پھر حکومت کے اقدامات پر کڑی نظر رکھیں اور ہر موقع پر اپوزیشن کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ووٹرز بالخصوص نوجوان اور پڑھے لکھے طبقے نے آپ کو اسی کام کے لیے بھیجا تھا نہ کہ آئے روز سڑکوں پہ کینٹینرز لگوانے۔

خان صاحب اپنے زیرحکومت صوبے میں اصلاحات پر زور دیں اور ان کی برابر تشہیر بھی کرتے رہیں، تاکہ عوام میں مقبولیت نہ صرف برقرار رہے بلکہ بڑھے بھی۔ ایک اچھا اور بروقت فیصلہ آپ کو دوبارہ سیاسی مقبولیت کی اس معراج پر پہنچا سکتا ہے جس کی آپ کو تمنا ہے۔ تے دنیا دی چھڈو، یہ کبھی کسی سے خوش نہیں ہوتی۔

Comments

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سماجی موضوعات پہ لکھنا پسند ہے۔ میڈیا عروج کے اس دورمیں بھی سنسر پالیسی سے خائف ہیں، اس لیے سوشل میڈیا اور دلیل کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.