روحانی سلطنت کا تاجدار حضرت داتا گنج بخش - حافظ محمد اویس چشتی سیفی

اویس چشتی گنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نورِ خُدا\nناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما\nمخدوم الاولیاء والاصفیاء تاجدارِ سلطنتِ ولایت ، رونقِ بزمِ معرفت حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ اُن عظیم روحانی شخصیات کے سرخیل ہیں جن کی سعی ٔ جمیلہ کی بدولت ظلمت کدۂ ہند میں نورِ اسلام پھیلا ۔\nنام و نسب\nحضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت شہر غزنی کے محلہ ہجویر میں ہوئی اسی لئے آپ کو علی ہجویری کہتے ہیں آپ کی تاریخ ولادت میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض روایات کے مطابق ۴۰۰ہجری کوسلطان محمود غزنوی کے عہد میں ہوئی ۔آبِ کوثر میں لکھا ہے کہ شیخ علی ہجویری جو داتا گنج بخش کے نام سے مشہور ہیں وہ ایک ہزار نو کے قریب پیدا ہوئے ، حافظ عبداللہ کی تحقیق کے مطابق آپ کی ولادت ماہِ ربیع الاول ۳۷۳ ہجری میں ہوئی ۔ آر اے نکلسن جس نے کشف المحجوب فارسی کا انگلش میں ترجمہ کیا ہے اُس نے کتاب کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ علی ہجویری کی پیدائش دسویں صدی عیسوی کے آخر پر یا گیارہویں صدی عیسوی کے ابتدائی عشرے میں ہوئی ۔بہرحال اکثر مورخین کا اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ آپ کی تاریخ ولادت سن ۴۰۰ ہجری ہے ۔\nنسبی فضل و شرف\nحضرت علی ہجویری داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت سیدنا زید ابن امیر المومنین حضرت سیدنا امام حسن پر منتہی ہوتا ہے ۔\nآپ بابِ مدینۃ العلم منبع ولایت شیرِ خدا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے نسباً بھی تعلق رکھتے ہیں اور اِسماً بھی حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی علی ہے آپ کے دادا جان کا نام بھی علی ہے اور آپ کے جدِ امجد کا نام بھی علی ہے ۔\nکُنیت اور لقب\nحضرت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کی کنیت ابوالحسن اور لقب داتا گنج بخش ہے ۔ حضرت علی بن عثمان داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ منبعِ فیض و عطا ہیں صدیوں سے اولیائے کرام آپ کے دربار گہربار سے گہرہائے سے معرفت حاصل کرتے آرہے ہیں ۔داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ سے بعد میں آنے والے تمام اولیائے کرام آپ کی چوکھٹ پر حاضری دینا خیرو بھلائی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے رہے ہیں ۔\nحضرت علی ہجویری داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ اُسوۂ رسول کی کامل تصویر تھے آپ نے ساری زندگی حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اتباع میں گزاری ،آپ اوصافِ حمیدہ کا پیکر تھے ۔تقویٰ و ورع ، خوفِ خدا ، صبر و رضا ، جود و سخا ، فیض و عطا ، علم و فضل ، میں یگانہء روزگار تھے۔\nخواجۂ خواجگان ، نائب رسول فی الہند ، سرچشمۂ رشدو ہدایت ، منبعٔ فضل و رحمت حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ آپ کے آستانِ نور سے فیض لینے کے لئے حاضر ہوئے اور اعتکاف فرمایا اور آپ کے حُسنِ سخاوت کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ پکار اُٹھے ۔\nگنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نورِ خُدا\nناقصاں راپیر کامل کاملاں را رہنما\nاس وقت سے حضرت علی بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ کا لقب داتا گنج بخش مشہور ہوگیا آپ کا یہ لقب مبارک اس قدر مشہور و معروف ہوا ہے کہ آپ کا ذاتی نام پردے میں چلا گیا ہے اور آج لوگ آپ کو داتا گنج بخش کے نام سے زیادہ جانتے ہیں ۔\nحضرت بابا فرید کی حاضری\nداتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے آستانِ اقدس پر عظیم اولیائے کرام نے حاضری دی اور فیض حاصل کیا ، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلہ عالیہ چشتیہ کے عظیم روحانی پیشوا تھے اُن کو داتا حضور رحمۃ اللہ علیہ سے بڑی عقیدت تھی اور اس عقیدت کا رنگ کچھ ایسا تھا کہ آپ جب داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے دربارِ اقدس میں حاضر ہوتے تو نہایت باادب حاضری پیش کرتے ۔\nحضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر یہاں اعتکاف فرمایا ، چلہ کشی کی اور اکتسابِ فیض کیا ، حضرت بابا فرید الدین رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ آپ جب بھی مرقدِ مبارک پر حاضر ہوتے تو گھٹنوں اور کہنیوں کے بل رینگتے ہوئے حاضر ہوتے ۔\n{تجلی ہجویر ص۵۴}\nحضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کے دربار عالی مرکزِ تجلیات میں برصغیر کے عظیم اولیائے کرام نے حاضری پیش کی یہاں اُن کی تفصیلات بیان کرنا مشکل ہے مقتدر اولیائے کرام کا دربارِ عالیہ سے فیض یاب ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کو روحانی سلطنت کا تاجدار بنایا گیا ہے