دھرنا ہوگا، لوگ مریں گے - حسن تیمورجکھڑ

دھرنے ہوں گے، مرنے ہوں‌گے۔
جلسے ہوں گے، جلوس نکلیں گے۔ ریلیاں چلیں گی، پوسٹر لگیں گے۔
بینرز سجیں گے، کتبے اٹھیں گے۔ لوگ مریں گے۔

دفاتر پہ تالہ ہوگا، کارخانےنہیں چلیں گے۔
روزگار سکڑے گا، بھوکا سسکےگا۔ مزدور مریں گے۔

رستے بند ہوں گے۔سڑکوں پہ فولادی دیواریں کھڑی ہوں گی۔ خاردارتاریں بچھیں گی۔
انسانی زنجیریں روکیں گی۔ کسی کامستقبل داؤ پہ لگے گا توکسی کی زندگی۔
ایمبولینس نہیں چلے گی، مریض مریں گے۔

طاقت کے ہوتے خاموش رہنا مشکل ہے۔ طاقت ابھرے گی۔ وحشت ناچے گی۔
ہنگامے ہوں گے۔ لاٹھی چلے گی۔لوگ مریں گے۔

ہجوم ہوگا۔ مظاہرین بپھریں گے۔
املاک ٹوٹیں گی۔ دروازے اکھڑیں گے۔
آگ لگے گی۔ لوگ مریں گے۔

ہلچل مچےگی۔ ایوان ہلیں گے۔
برج الٹیں گے۔ پانسے پلٹیں گے۔لوگ مریں گے۔

ملک جلے گا۔ تماشہ بنے گا۔
صوبے لڑیں گے۔ ریاست بکھرے گی۔
دنیا ہنسے گی۔ لوگ مریں گے۔

تجارت رکے گی۔ معیشت دبے گی۔ رویپہ گرے گا۔
مہنگائی بڑھے گی۔ غربت ڈسے گی۔ لوگ مریں گے۔

تعلیم روٹھے گی۔ صحت بگڑے گی۔
کھیل چھوٹیں گے۔ روگ پھوٹیں گے۔
رونقیں ڈوبیں گی۔ اندھیرے چھائیں گے۔لوگ مریں گے۔

سیاست بدلے گی۔ نفرت بڑھے گی۔ برداشت گھٹے گی۔
روایت پڑے گی۔ سلسلے چلیں گے۔ لوگ مریں گے۔

برائی پھیلے گی۔ دوزخ دہکے گی۔
ابلیسیت ناچے گی۔۔ آدمیت کانپے گی۔ لوگ مریں گے۔

انا نکلے گی۔ انااکڑے گی۔ انا للکارے گی۔ انا دھتکارے گی۔
انا بپھرے گی۔ اناپھنکارےگی۔ دونوں بچیں گے۔ لوگ مریں گے۔

Comments

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ

حسن تیمور جکھڑ شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ سماجی موضوعات پہ لکھنا پسند ہے۔ میڈیا عروج کے اس دورمیں بھی سنسر پالیسی سے خائف ہیں، اس لیے سوشل میڈیا اور دلیل کو اظہار کا ذریعہ بنایا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */