مورال - سعید ارشاد

سعید ارشاد درد کی شدت سے اس نے ایک دفعہ پھر آنکھیں بند کر لیں، اسے اپنا دماغ ماؤف ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا، پورے جسم سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں، لیکن اس کا جذبہ اب بھی قائم و دائم تھا، اس ملک کے لیے وہ ایسی ہزاروں جانیں قربان کر سکتا تھا. دکھ تھا تو ان مرنے والے معصوم بچوں اور مرد و خواتین کا تھا جو بےگناہ اس خودکش دھماکے میں اپنی جان کی بازی ہار گئے تھے. سارا منظر اس کی آنکھوں میں کسی فلم کی طرح چلنے لگا، اس کی عمر بمشکل چھبیس سال تھی، محکمہ پولیس جوائن کیے اسے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا، سب ٹھیک چل رہا تھا اپنی نوکری سے بھی وہ مطمئن تھا، ملک میں انتخابات ہونے والے تھے، جلسوں جلوسوں کا زمانہ تھا، اوپر سے محرم الحرام بھی شروع ہو گیا تھا، بہت سے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ اس کی ڈیوٹی بھی ایک عبادت گاہ کے باہر لگ گئی تھی، یہ ایک معمول کا عمل تھا، لیکن اس کی ماں کو بہت فکر تھی جس کا وہ برملا اظہار بھی کرتی رہتی تھی، مائیں تو آخر مائیں ہوتی ہیں، وہ ہر دفعہ یہی کہتا ماں موت تو ہر حال میں آنی ہے اور شہادت مل جائے تو اور کیا چاہیے، ماں اس کو ہر روز سینکڑوں دعاؤں منتوں مرادوں کے ساتھ رخصت کیا کرتی تھی.\n\nاس صبح بھی جب وہ ماں کی دعائیں لے کر رخصت ہوا تو اس کا دل قدرے پریشان تھا، لیکن اس نے کچھ خاص توجہ نہ دی اور اپنی ڈیوٹی پر پہنچ گیا، سب کچھ بالکل نارمل تھا، اکا دکا لوگ سڑک پر نظر آ رہے تھے، نماز ظہر کے بعد عبادت گاہ میں آہستہ آہستہ لوگ آ رہے تھے، نماز عصر تک پوری عبادت گاہ بھر چکی تھی، پولیس کے علاوہ چند فوج کے جوان بھی عبادت گاہ کی سکیورٹی پر معمور تھے کہ اچانک دور کچھ ہلچل سی ہوئی، اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھتا ایک شخص مجمعےکو چیرتا ہوا عبادت گاہ کی طرف بڑھا اور ایک کان پھاڑ دھماکہ ہوا اور قیامت صغری برپا ہو گئی. جب اسے ہوش آیا تو ہر طرف انسانی اعضا پھیلے ہوئے تھے، چیخ و پکار اور ایمبولینسز کے سائرن کی آواز سے کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، کسی نے انتہائی بے دردی سے اسے ایمبولینس میں ڈالا اور ہسپتال پہنچا دیا. اس کی ایک ٹانگ کٹ چکی تھی، بازو شدید زخمی تھا، اس کے ساتھ ڈیوٹی کرنے والے پولیس اور فوج کے جوان بہادری کی داستانیں رقم کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے تھے، جس کا اسے ابھی ہسپتال کے ویٹنگ روم میں ٹی وی دیکھتے ہوئے پتہ چلا. ایک نیوز چینل پر فوجی جوانوں کے لیے اعزازات اور ان کی ملک کے لیے خدمات کی خبر چل رہی تھی جسے شاندار الفاظ میں سراہا جا رہا تھا، اسے ایک انجانا سا حوصلہ اور خوشی ملی کہ ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں ہیں، بس اسے انتظار تھا، اپنے ساتھیوں کے متعلق خبر کا کہ ان کی خدمات اور قربانی کو بھی سراہا جائے تو اسے کچھ قرار نصیب ہو، ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کسی نے چینل بدل دیا. دوسرے چینل پر ایک مشہور سیاستدان اعلان کر رہا تھا کہ میں پولیس کو اپنے ہاتھوں سے پھانسی دوں گا.