شکر :عمرظفیربھٹی

ہم سب نے عمومی طور پر شکر کا بہت تزکرہ سنا ہے --- شکر کرنے کی تلقین بھی کی جاتی ہے ۔۔۔ لیکن\nیہ شکر ہے کیا ۔۔۔۔؟؟؟ اور شکر ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟؟؟؟ \nاس پر بہت سی مباحث ہو چکی ہیں ۔۔۔ میرا مقصد اس بحث کو بڑھانا یا اس موضوع پر دلائل دینا نہیں ہے ۔۔۔\n\nہم اپنی زنگی میں ایک لفظ بہت کثرت سے استعمال کرتے ہینں ۔۔۔ وہ ہے الحمدللہ ---\nکہ جی کیسے ہیں آپ ؟؟؟\nاللہ کا شکر ۔۔۔ \nالحمدللہ ---\nاللہ کا بہت کرم ---\nلیکن کیا ہمارا مقصد بھی یہی ہوتا ہے ؟؟؟ نہیں بلکہ بڑے سرسری سے انداز میں کہتے ہیں کہ "جی شکر ہے" ۔۔۔۔\n\nاب کسی کو پوچھا جاۓ کہ کیا حال ہے تو اب زرا تصور میں لائیں کہ آگے سے کیا جواب آتا ہے اور ساتھ اس کے چہرے کے زاویے خیال میں لائیں--- اسکی آنکھوں میں دیکھیں ---\n\n"بس جی اللہ کا شکر ہے " \n"بس جی اللہ دا کرم اے چنگی گزر رہی اے ۔۔۔"\n\nمنہ کے زاوئے بگڑ رہے ہیں --- آنکھوں میں نا امیدی اور لالچ ---\n\nیہ تو جیسے ہم اللہ پر احسان کر رہے ہیں کہ اے اللہ مسلمان ہوں ۔۔۔ اب کیسے کہہ دوں کہ اچھی نہیں گزر رہی ۔۔۔ کیسے نا شکری کروں کہ شکر گزاری کا کہا گیا ہے ۔۔۔ لیکن دل سے نکل نہیں رہا شکر اور زبان سے انکار کر نہیں سکتے ۔۔۔۔ (منافق- اللہ سے بھی چالبازیاں (\nلوگوں کا ڈر ---- کہ کہیں گے کتنا نا شکرا ہے ۔۔۔\n\n

                                                      پہلا منظر\n

\n\nآپ گھر میں آرام کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں --- سامنے ٹی وی چل رہا ہے ---\n\nآپکا بیٹا بھاگتا ہوا آیا \n"پاپا پاپا میں نے فرسٹ پوزیشن لی ہے (خوشی کے مارے بچہ بے قابو ہے کہ بچپن کی خوشیاں ایسی ہی ہیں (\nاور آپ کا دھیان اخبار, ٹی وی کی طرف ہے ۔۔۔ منہ کا ڈیزائن بنا ہوا ہے ۔۔۔\n\nاور آپ بچے کو کہہ رہے ہیں کہ بیٹا بہت اچھے ہو آپ ۔۔۔ مجھے بہت پیارے ہو --- ( دھیان اخبار میں اور دھیان میں غم روزگار (\n\nیا آپ اسکو پاس بٹھا کر کہتے جائیں --- تم بہت اچھے ہو ۔۔۔ بہت اچھے ہو بہت اچھے ہو ---\nلیکن ۔۔۔ دھیان آپکا ہو ۔۔۔ اپنی الجھنوں میں ۔۔۔ \nزرا تصور میں لائیں --- خیال میں لانے کی کوشش تو کریں کہ اس وقت بچے پر کیا بیتے گی ۔۔۔۔ ؟؟؟ اسکی کیا حالت ہو گی ۔۔۔؟؟؟ \nکہ باپ کو خوشی نہیں ہوئی ۔۔۔ وہ بس فارمیلیٹی پوری کر رہا ہے؟؟؟\nیا کرنے کی کوشش کر رہا ہے ؟؟؟؟۔۔ ۔ سو وہ بھی صرف اس خیال سے کہ کہیں بچہ ناراض نہ ہو جاۓ ---اس کو برا نہ لگ جاۓ ۔۔۔۔ ؟؟؟\n\n

                                           دوسرا منظر (مرد حضرات(\n

\n\nبا جماعت نماز ادا کی --- \nازکار کرنے شروع کیئے ( ساتھ آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھا (\n\nزبان پر اللہ اکبر اللہ اکب اللہ اکبر (تیزی کے ساتھ (\n\nسبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ( اٹھ کر کھڑے ہو گۓ(\n\nالحمدللہ الحمدللہ الحمدللہ ( جاۓ جوتا کی طرف جاتے ہوۓ، دھیان مسجد سے نکل کر کرنے والے کاموں میں (\n\n

                                     تیسرا منظر(خواتین(\n

\n\nدھیان کچن کی طرف --- ازکار شروع ---\n\nمصلہ لپیٹنے تک وہی تیزی ۔۔۔ \nوہی گھرکے کاموں کی طرف بھاگ دوڑ ---\n\nاور زبان ۔۔۔ الحمدللہ کو ضرب پر ضرب دیئے جا رہی ہے ۔۔۔\nاورہم نے جسم پر پھونک ماری اور شکر ادا ہوا ۔۔۔۔ واہ رے بندے ---\nیہ ہے شکر ہمارا ؟؟؟؟\n\nاور وہ جو علام الغیوب ہے ۔۔۔۔ \nما یخفی صدور کا علم ہے جس کے پاس ---\nاسکا شکر ادا کرتے وقت ۔۔۔ اتنے بیزار؟؟؟؟ ۔۔۔۔ اتنا برا منہ بنا کر کہتے ہیں کہ \n" بس ٹھیک ہی ہے ، کیا بتاؤں ۔۔۔ بس شکر ہے ۔۔۔۔ ؟؟؟؟\n\nنہ دھیان اس رب العالمین کی طرف ۔۔۔ نہ محبت بھرا انداز۔۔۔ نہ عاجزی ؟؟؟\n\nمیں یہ نہیں کہتا کہ اللہ اکبر سبحان اللہ الحمدللہ کا زکر نہ کیا جاۓ ۔۔۔ یا (33،33،34 ) مرتبہ نماز کے بعد یہ گنتی نہ کی جاۓ ۔۔۔۔\nلیکن \nالحمد للہ کہتے وقت --- ایک دفعہ صرف ایک دفعہ ---سب کو بھلا کر ۔۔۔ اپنا سر جھکا کر ---\nاپنی اولاد ۔۔۔ماں باپ --- بہن بھائی --- سب کو ذہن سے نکال کر ۔۔۔ اپنے جسم کو تصور میں لائیں ---صرف اپنے اعضاء پر غور کریں کہ کتنا مکمل بنایا اس ذات نے ۔۔۔ معزور نہیں پیدا کیا --- آنکھیں دیں --- \n۔۔۔ کوئی ٹیڑھ نہیں ۔۔۔ ہاتھ پاؤں سلامت --- \nتو پھر کہیں الحمدللہ ۔۔۔۔ اور لطف دیکھیں ۔۔۔ جسم کا روم روم الحمدللہ نہ کہہ اٹھا تو کہنا ---- \nالحمدللہ کہتے ہوۓ پوری دنیا گھوم جاۓ تصور میں ۔۔۔ پھر لزت دیکھیں ۔۔۔\n\nاپنی اولاد کو دس دفعہ نہ کہیں کہ وہ پیارا ہے پیارا ہے --- اس پہاڑے کی بجاۓ پاس بٹھائیں --- ماتھے پر بوسہ دیں --- اور صرف ایک دفعہ ۔۔۔ ایک دفعہ کہیں کہ :\nمیرا بیٹا بہت اچھا ہے ۔۔۔ شکریہ بیٹا آپ نے امتحان میں کامیاب ہو کر مجھے خوشی دی ہے ۔۔۔\nپھر اس بچے کا والحانہ انداز دیکھیں ۔۔۔ کیسا لزت آفریں منظر ہو گا ۔۔۔ \nسوچ کر اتنا اچھا لگ رہا ہے تو ۔۔۔ عملی طور پر آپ کو کیا سکوں ملے گا ۔۔۔۔\n\n"اوراگر تم شکر کروگےتو میں تمہیں زیادہ دوں گا"\n\nپھر ہم شکوہ کناں نہیں ہوں گے کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟؟؟ نہ یہ کہیں کہیں گے کہ شکر تو کرتا ہوں ۔۔۔ پتہ نہیں کب ملے گا ۔۔۔۔ نہ لالچ ہو گا ۔۔۔۔ بس عاجزی اور شکر ہو گا ---\nیہ لزت محسوس کر کہ تو دیکھیں ۔۔۔ پھر اس کیفیت سے نکلنے کو ۔۔۔ مسجد سے بھاگنے کو ---- یا جلدی سے مصلہ لپیٹنے کو دل نہیں کرے گا ۔۔۔\nیہ تب ملے گا جب شکر ادا کریں گے --- محبت سے --- بیزاری سے نہیں --- عاجزی سے --- تب زبان اور دل ہی نہیں شکر ادا کر رہے ہوں گے --- پورا جسم --- ہر ایک عضو --شکر کی عملی تفسیر ہو گا ۔۔۔۔۔\n\nالحمدللہ