شخصیت و کردار - عمر خالد

عمر خالد شخصیت و کردار کے تمام اصول (principle) محدثین نے ”عدالت“ کے مشمولات (Content) میں ذکر ک\0یے ہیں، عدالت کا ایک بنیادی عنصر ”مروت“ ہے، جس کا تمام تر تعلق زمان و مکان سے جڑا (Related) ہے، مثال کے طور پر: سر ڈھانکنا عربوں کا رواج تھا، اور ننگے سر باہر نکلنا پست حرکت شمارہوتی تھی، اس کے برعکس مغرب میں سر ڈھانکنے کا کوئی رواج نہیں بلکہ وہاں بزرگوں کے روبرو ننگے سر رہناہی آداب حاضری گردانی جاتی ہے، اسی طرح آج عرب چاول مٹھی بھر کے دیسی طرز کے مطابق کھاتے ہیں جبکہ برصغیر میں خوب سلیقہ مندی کے ساتھ انگلیوں میں نوالہ بنا کر نوش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کی ہزارہا مثالیں ہیں جس سے انسانی اجتماعیت و معاشرت میں امتیاز پیدا ہوجاتا ہے، ایک ہی چیز کسی خطہ ارض میں قابل تحسین ہوسکتی ہے جبکہ دوسرے خطہ میں ناگوار و کمتر، فرد کی نفاست و کردار کا تعین انہی بنیادوں پر ہوتا ہے، اور انہی اصولوں کی روشنی میں شخصیت کی تشکیل سوسائٹی میں اثر انگیز افراد پیداکرتی ہے۔ جب ہم کسی کو دیسی Uncivilized کہتے ہیں تو دراصل اس فرد کی اجتماعی زندگی سے لاپرواہی و عدم دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے ، یا پھر دوسرے لفظوں میں تعلیمی و تربیتی نشونما کے دوران باقی رہ جانے والی خامیوں کی نشاندہی ۔\n\nاخلاق و مروت سے انسانی حکمت ودانش کا بھی تعین ہوتا ہے، جن لوگوں نے جاہلی عربیوں کی تاریخ کا معمولی مطالعہ بھی کیا ہوگا انہیں عربوں میں حکمت و دانش کی معراج کا اندازہ ہوگا، بہت سے دیسی عمر رسیدہ حضرات زندگی کی تلخیاں برت کر حکمتوں بھری باتوں سے نوازتے رہتے ہیں، اور ہمارے نیم خواندہ اسے عبرت نامہ یا رہنمائے حیات سمجھ کر ساری زندگی سینہ سے لگائے صبح روشن کی جستجو کرتے رہتے ہیں ، حالانکہ یہ مایوس نامہ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو برباد کرنے کا پورا سامان کررہا ہوتا ہے۔\n\nکردار سازی یا شخصیت سازی کا سارا مدار فتوحات ذہنی کی کڑیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ جیسے ہر کامیابی ایک نئی کامیابی کی نوید ہے، ویسے ہی ہر ناکامی کا اگلا قدم ایک اور مایوسی کی جانب اٹھتا ہے۔ یہاں تفریق کی شدید ضرورت ہے، ورنہ بصورت دیگر اخلاق و مروت یا تو تکلف کا مظہر رہ جائیں گے یا پھر حسرت جاں فقط۔\n\nیہ سچ ہے کہ تکلف کی آمد سادگی کو رخصت کردیتی ہے اور تکلف کی نشونما مروت و سلیقہ مندی کے چشمہ سے ہوتی ہے، لیکن یہ بجائے خود کوئی ذریعہ نہیں، تصنع و تکلف ہمیشہ احساس محرومی سے پیدا ہوتے ہیں، احساس محرورمی جدید دور کا ایک وبائی اور عام مرض ہے جو انسان کو اندر ہی اندر گھائل کررہا ہے، اس تناظر میں محرومی کے بنیاد اسباب سیاسی اور معاشی برتری کی لالچ ہے، لہذا تکلف و تصنع کی روایت بھی انہی سرچشمہ سے پھوٹ کر اثرانداز ہورہی ہیں ۔ اورعقل، سوچ، صلاحیت، قابلیت الغرض تمام انسانی خصوصیات کا رشتہ اقدار سے توڑ کر غیر فطری اصولوں سے وابستہ کرچکی ہے، چنانچہ آج کے دور میں Civilized ہونے کا مطلب ہوگا، جو معاشی یا سیاسی برتری حاصل کرچکا ہو، اس زاویہ نگاہ سے جب دینی اقدار کے پیکر میں کسی "شخصیت" کی رونمائی ہوتی ہے تو اسے قبول کرنے میں ایک نامحسوس حجاب سامنے آجاتا ہے، اور واقعاتی تناظر میں ایک دھندلی یادداشت بن کر رہ جاتا ہے۔