عبادت کا اصل مقصد اور طبی فوائد - بشارت حمید

بشارت حمید کچھ عرصہ قبل ایک دوست سے گفتگو ہو رہی تھی، اس نے فجر کی نماز کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ بزرگوں سے سنا ہے کہ فجر کی نماز ادا کرنے والے کا رزق کشادہ کر دیا جاتا ہے، اس لیے فجر کی نماز ضرور پڑھنی چاہیے۔ میں نے سوال کیا کہ فرض کریں، اگر یہ فائدہ حاصل نہ ہو تو پھر کیا نماز چھوڑ دینی چاہیے؟ اس کا اس کے پاس کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔\n\nہم روز مرہ زندگی میں اسلام کے فرائض کے بارے میں مختلف طبی اور دنیاوی فوائد کی باتیں کرتے اور سنتے ہیں جیسے کہ روزے سے معدے پر اچھا اثر پڑتا ہے، معدے کو سکون میسر آتا ہے، صحت بہتر ہوتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ\n\nاسی طرح نماز کے دوران بلڈ سرکولیشن کے حوالے سے مختلف طبی فوائد کے بارے تفصیلات ملتی ہیں۔ اچھی بات ہے کہ ہم اس حوالے سے بھی علم رکھتے ہوں کہ سجدے میں دل کا لیول دماغ سے اونچا ہو جاتا ہے اور دماغ کو خون کی سپلائی بہتر ہو جاتی جو کہ دماغ کی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔ وغیرہ وغیرہ\n\nسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی نے عبادت کا جو بھی طریقہ بیان فرمایا ہے کیا اس کا مقصد انسان کا روحانی پہلو سے تزکیہ ہے یا پھر اسکی جسمانی صحت کی بہتری ہے؟ اگر دنیاوی فائدہ ہی پیش نظر رکھا جائے تو پھر زکوۃ اور حج کے بارے کیا خیال ہے؟ ان دونوں عبادات میں بظاہر تو دنیاوی طور پر مالی نقصان ہو رہا ہوتا ہے کہ انسان اپنی محنت سے کمائے ہوئے مال میں سے بنا کسی دنیاوی فائدے کے اچھی خاصی رقم خرچ کرتا ہے اور میرا سوال یہ ہے کہ ان سے صحت پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟\n\nہمارے پاس ہدایت کا اصل منبع و سر چشمہ قرآن مجید اور حضور اکرم صل اللہ علیہ و سلم کی سنت مبارکہ ہے۔ اگر ہم ان کی طرف رجوع کریں اور یہ جاننے کی کوشش کریں کہ صرف ایک عبادت "نماز" کے بارے ہمیں کیا جواب ملتا ہے تو قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، پھر ارشاد فرمایا کہ میری یاد کے لیے نماز قائم کر، پھر ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ جب آخرت میں جہنمیوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس چیز نے جہنم میں داخل کروایا تو وہ کہیں گے کہ ہم نماز پڑھنے والوں میں شامل نہیں تھے۔ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ صبر اور نماز کے ساتھ (اللہ سے) مدد چاہو اور یقیناً یہ(نماز پڑھنے کا) کام بہت بھاری ہے (ان لوگوں پر) سوائے اللہ سے ڈرنے والوں کے۔\n\nمندرجہ بالا چند مقامات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نماز کی ادائیگی کا اصل مقصود اللہ کی یاد اور اس کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرنا ہے اور ہماری نیت صرف اور صرف یہی ہونی چاہیے۔\n\nاسی طرح کتب احادیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے مکان کا کمرہ تعمیر کیا اور اس میں ایک سوراخ بھی رکھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے دیکھا تو پوچھا کہ یہ سوراخ کس لیے ہے تو ان صحابی نے جواب دیا کہ روشنی اور ہوا کے لیے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس نیت سے رکھتے کہ یہاں سے آذان کی آواز سنائی دیتی رہے تو تمہیں اس کا اجر بھی ملتا اور اس سے ہوا اور روشنی بھی مل جاتی۔\n\nاس تمام بحث سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم عبادت کو خالص اللہ کی رضا کے لیے بجا لائیں اور دل میں کوئی دنیاوی فائدے کے حصول کی نیت نہ ہو تو اس سے ہمیں دونوں فوائد حاصل ہوتے رہیں گے۔ اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ چاہے کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہو یا نہ ہو ہم اللہ کی عبادت کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالٰی ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */