شاعری اور اسلام - طالبۃ الفردوس

زمانہ جاہلیت اور شاعری\nعرب اپنی زبان دانی اور فصیح الکلامی کی بدولت مشہور رہے ہیں. شاعری سے عربوں کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے. فطری ذوق اور معاشرتی حالات نے اس کو مزید نکھارا حتی کہ کہا جا سکتا ہے کہ شاعری عرب کے خون میں رچی بسی تھی. قبل از اسلام عرب میں شاعری کی کئی اصناف مروج تھیں. منافرت، ہجو، قصیدہ، شباب، عشق، ہجر و وصال غرض ہر طرح سے ہی شاعری عرب کا اوڑھنا بچھونا رہی ہے. مختلف شعری مقابلہ ہوتے، کلام کی فصاحت و بلاغت کو دیکھتے ہوئے افراد کے مراتب طے کیے جاتے، بہترین کلام کو خانہ کعبہ میں لٹکایا جاتا اور عزت و تکریم دی جاتی تھی. عام گفتگو میں نثر سے زیادہ شعر بیان ہوتے. چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قبل از اسلام کا شعری ذخیرہ نثر سے کہیں زیادہ ہے. اگر یہ کہا جائے کہ نثری ادب نہ ہونے کے برابر تھا تو غلط نہ ہوگا. غرض شاعری ان کی زندگی تھی.\n\nبعثت نبوی ﷺ اور شاعری\nنبی کریم ﷺ بعثت کے بعد مشرکین مکہ نے آپ ﷺ کو آپ کے کلام الہی کی بےانتہا تاثیر پر کہا یہ تو کوئی شاعر ہے، یعنی ان کے نزدیک عمدہ ترین اور اثر انگیز بات شاعروں کی ہی ہوتی ہے یا وہ شعر کو مجازاً جھوٹ پہ محمول کرتے ہوئے آپ کو شاعر کہتے تھے نعوذ باللہ.\nاللہ پاک نے فرمایا ”اور شاعروں کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں. کیا آپ نہیں دیکھتے، وہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں، اور یقینا وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں (الشعراء223 تا 226)“ یعنی تم لوگ دیکھو تو سہی جس شخص کو تم شاعر کہہ رہے ہو، اس کا مزاج، اس کا وقار، اس کے صحابیوں کے انداز، کیا یہ شاعروں والا مقام و انداز ہے؟ اللہ فرماتا ہے [pullquote]وما علمنہ الشعر وما ینبغی لہ [/pullquote]\n\n”ہم نے اسے شعر کہنا سکھایا ہی نہیں اور نہ ہی یہ اس کے لائق ہے، یہ تو محض ایک نصیحت ہے اور واضح قرآن ہے (یسین 69)“\n\nیعنی دیکھو تو سہی تمہارے ہی درمیان رہنے والا شخص شعر کہنا نہیں جانتا جبکہ تمہارا تو بچہ بچہ شعری میلان رکھتا ہے، ذرا دیکھو تو جسے شاعر کہہ رہے ہو، وہ شاعر لگتا ہے کیا؟\nیہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺکبھی پورا شعر درست قواعد اور وزن کے مطابق نہ کہہ پاتے اور فرماتے چلو مقصد پورا ہوا، یعنی آپ ﷺاپنی گفتگو میں شعر بیان کرتے تو باوجود جوامع الكلم ہونے کے درست وزن بیان نہ ہوتا، اللہ کی بات سچی ہے کہ ”ہم نے اسے شعر کہنا سکھایا ہی نہیں.“\nاللہ پاک آپ ﷺکو اس الزام سے بھری کرنا تھا چنانچہ آپ کو شعر گوئی نہیں آتی تھی. مگر اس کے باوجود آپ اچھے اشعار کو پسند کرتے تھے. ہمیں درست اسناد کے ساتھ ایسے واقعات ملتے ہیں.\n\nجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعر سے خوش ہوئے\n←کعب بن ابی ذوہیر کو آپ نے اپنی چادر دی تھی جب اس نے قصیدہ سنایا تھا\n←ذوہیب بن ابی سلمہ اصحاب معلقات میں سے تھا\n← حسان بن ثابت کو منبر پر بلایا اور کہا یہاں اور اور شعر سناؤ\n← فرمایا یقنا بعض شعر میں حکمت ہے (ابی داؤد)\nاسی طرح بہت سے واقعات ملتے ہیں جو ثابت کرتے ہیں آپ اچھے اشعار کی پزیرائی کرتے تھے.\nخلفاء راشدین کے دور میں بھی شاعری اپنے اوج کمال تک پہنچی. خود خلفاء برمحل اشعار کہتے رہے.\nاسی طرح علماء کرام آج تک برمحل اشعار کا استعمال کرتے ہیں.\nیعنی شعر گوئی کسی بھی صنف میں کسی بھی طرح حرام کبھی نہیں رہی. شعر کہنا طبعی میلان کے تحت ہے ایک شاعر اپنے اس میلان سے عاجز ہوتا ہے اللہ سے برا منصف کوئی نہیں، کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی کے طبعی میلان کو حلال راستہ نہ دکھائے؟ مگر شعر گوئی میں کچھ نقصانات بہرکیف ہیں، ہم ان سے چشم پوشی نہیں کر سکتے. اور اللہ تعالیٰ نے بھی جہاں بھٹکے ہوئےشعراء کا ذکر کیا، ساتھ ہی إلا الذین کہہ کر ایسے افراد کی نشاندہی بھی کر دی جو شاعر بھی ہیں اور پسندیدہ بھی (مفہوم آیت 227 الشعراء)\n\nشعر کہنے کی مکروہات:\n←قرآن میں شعراء کو پسندیدہ لوگ نہیں کہا گیا.\n←نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم کو بھی ناگوار تها شعر کہنا\n←شعر کہنے میں جھوٹ کا اندیشہ ہے جو کبیرہ گناہ ہے\n←زنا کے قریب لے جانے والے امور میں سے ہے\n← حقائق سے دوری تصوراتی تخیلاتی دنیا میں رہنا نفس کی ہلاکت کا باعث ہے.\n← شعر گوئی فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ بنتی ہے\n← بعض اوقات نعت و قصائد شرک کا موجب بن جاتے ہیں\n← وقت کا ضیاع ہے\n← لغویات میں سے ہے\n← شعراء اپنے کلام میں حلال و حرام کی تمیز نہیں رکھتے چنانچہ قاری کا وبال بھی شعراء کے سر پر ہوتا ہے\n← گناہ، نفرت، ہوس، ہجر، مایوسی، بغاوت شرک پر ابھارتے ہیں چنانچہ معاشرہ بھی بگڑتا ہے\n← شعراء غلو کرتے ہیں، افراد کو ان کے معیار سے بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں.\n\nتمام شعراء کرام اور اشعار کو پسند کرنے والے افراد مندرجہ ذیل آیت کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے لیے لائحہ عمل ضرور طے کر لیں اگر شاعری مطلقاً حرام نہیں ہے تو مطلقاً حلال بھی نہیں ہے مقصدیت اسے حلال یا حرام کرتی ہے.\n”اور شاعروں کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلتے ہیں کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یقنا وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں اور یقنا وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور جو اچھے کام کریں اللہ تعالٰی کو کثرت سے یاد کریں اور انہوں نے بدلہ لیا اسکے بعد کہ ان پہ ظلم کیا گیا اور جنہوں نے ظلم کیا جلد ہی وہ جان لیں گے کہ وہ پلٹ کر کس جگہ جاتے ہیں؟ (الشعراء223 تا 227)“\nحوالہ جات کے لیے :\n◀تفسیر تیسر القرآن\n◀معارف القرآن\n◀تفسیرقرطبی\n◀صحیح بخاری\n◀وکی پیڈیا\n◀افتخار ڈاٹ اردو\nوما علینا البلاغ