نوائے فرد - فائزہ صابری نوا

مالک! میں ناشکرا حد سے زیادہ\0، میں لا پرواہ حدوں کو چھو کر، میں بے فیضا، بے پناہ.\nدینے والے! مجھے شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرما دے،\nسوہنے! میری لاپرواہی ختم کر دے،\nمالکا! مجھے معلوم ہے کچھ نہیں ہوگا، کوئی ثبوت نہ ہونے کے باوجود مجھے یقین ہے اپنے بخشے جانے کا کہ تو حد سے گزر کر رحیم ہے.\nمرشد! مجھے فیض عطا فرما دے، میرا سینہ فیض سے بھر دے، نکال پھینک سب غلاظت جو تجھے پسند نہیں کہ میں اس بے نور زندگی سے تنگ پڑ گیا ہوں.\nمرشد! تو کہتا ہے کہ میں خلیفہ ہوں تیرا. سوہنیا! میں کیا کروں، میں کیسا خلیفہ ہوں کہ جو ہر چیز کا محتاج ہے، جسے سب کی ضرورت ہے اور کسی کو اس کی ضرورت نہیں.\nمیرے عالم! میں علم حاصل کرنا چاہتا ہوں اور تجھے پا لینا چاہتا ہوں. تیری الفت کے سمندر میں غرق ہونا چاہتا ہوں، تجھے اپنے اندر بھر لینا چاہتا ہوں اور پھر باہر بھی تجھے ہی دیکھنا چاہتا ہوں... اسی خواہش میں گھُل رہا ہوں...\n\nسوچ دینے والے مجھے آج تک معلوم نہیں پڑ سکا کہ مجھے کیا سوچنا ہے! کچھ ہے جس کا اِدراک مجھ پہ ہوتے ہوتے رہ جاتا ہے. کوئی سوچ ہے جو مجھے تنگ کرتی ہے، ستائے رکھتی ہے. میں کھو جانا چاہتا ہوں ایسے اندھیروں میں جہاں مجھے صرف تیرے ہی اجالے ملیں...\n\nمولا! جانتا ہوں اس قابل نہیں مگر میں صرف تیری یاد کی کرن کا منتظر ہوں.... جو میرے گمان سے سوا لے جائے جہاں کوئی خواہش نہیں رہتی..\nدیکھ میں تلوار پر چل رہا ہوں مگر پھونک پھونک کر قدم نہیں رکھ رہا، مجھے تجھ پہ پورے سے زیادہ یقین ہے. کبھی کبھی تو آنکھیں بند کرکے چلتا ہوں مزے سے... کٹنے سے نہیں ڈرتا، کبھی کبھی تو جی چاہتا ہے اس میٹھی دھار سے پاؤں کٹ جائے اور پھر جب میٹھی سی چبھن ہو گی اس کا مزہ مدہوش کر دینے والا ہو گا.\n\nگمانے والے! میں گمنام ہو جانا چاہتا ہوں، دھیان دینے والے! میں بے دھیان ہو جانا چاہتا ہوں. پہچان دینے والے! میں بے پہچان جینا چاہتا ہوں... سرکار! میں نفس کو تابع کر لینا چاہتا ہوں لیکن یہ مجھے مصلوب کرتا رہتا ہے... میں تیرا ہونا چاہتا ہوں یہ مجھے اس راہ سے بھٹکاتا ہے بہکاتا ہے... مجھے کچھ دکھا کر کے چمکارتا ہے تو میں بچوں کی طرح دوڑتا ہوا اس کی بانہوں میں بھر جاتا ہوں. نفس کو تابع کرنے کی طاقت دینے والے... کیوں؟ مجھے اتنی طاقت دے کہ زیادہ نہ سہی میری بہت ہی چل جایا کرے..\n\nسماعت کے دیون ہارا! تیرا کتنا احسان ہے تو نے مجھے کچھ کچھ بہرا رکھا ہے اور اگر نہ رکھتا تو میں کائنات کی ہر چیز کی آواز سنتا اور روتا رہتا اور میرے کان پھٹ جاتے... زبان دینے والے! تو چاہے تو اسے واپس لے لے.،میں نے کبھی اسے استعمال نہیں کیا.. میں نے کبھی کسی کو اس کا حق لے کر نہیں دیا، میں کبھی بولا ہی نہیں تو پھر مجھ پہ یہ بوجھ کیسا؟ شاید میرے نہ بولنے کا بوجھ ہے... سوہنے خالقا! تو مجھے بولنا سیکھا کہ پہ کچھ گلہ نہ رہے.\n\nتجھ سے بات کرنی ہے مگر قوت گفتار نہیں... اس کھنڈر میں ایک تناور درخت اگانا ہے تو بیج ڈال دے میں پانی دیتا رہوں گا.... بس بیج کہہ دے، ایک بار، میرے رازداں! میں تجھ سے بات کرنا چاہتا ہوں، پہلے میں ویرانے ڈھونڈتا تھا تجھ سے ہم کلام ہونے کو مگر اب ہجومِ آدمی میں تجھ سے مخاطب ہو جاتا ہوں تجھ سے مسکراتا ہوں، تو میرا دوست ہے مگر میں بات کرتا ہوں تو لوگ کافر اور گستاخ کہنے لگتے ہیں... مرشد! میں تیرے قریب ہونا چاہتا ہوں، تو دھڑکن ہے، تو سنتا ہے کہ میری دھڑکن تیری منشاء میں محوِرقص ہے... جانے کب سے خود کو خالی اور پرسکون محسوس کرتا ہوں.\n\nبخشنے والے کیا میں لذتِ دیدار سے بانجھ ہوں؟؟؟ سوہنیا! کیا میں بنجر ہوں؟ مجھ پر سرکار کوئی تو فصل لہلہائے... خود سے لڑتا ہوں تو پھر تھک کے تیرے پناہ لیتا ہوں، تو جانتا ہے نا پچھلی شب کتنے زور کا زلزلہ آیا تھا، کئ زور سے آندھیاں جھکڑوں کی صورت چل رہیں تھیں نا! ہر طرف گرد تھی، کچھ دِکھ نہیں رہا تھا... تو تُو نے مٹی کے اس بھر بھر ے سے ڈھیلے کو بچایا... ہمیشہ کی طرح... کبھی کبھی دل میں محشر بپا ہو جائے تو ہر طرف سے ناکام و نامراد کی صدائیں اٹھتی ہیں، مگر تیری طرف دیکوں سوہنیا تو اتنی ساری آوازوں پر تیری اک نگاہ بھاری، اور سرکار ہمیشہ کی طرح خود کو کامیاب و کامران سمجھنے لگتا ہوں... تو جانتا ہے میں نے کیا کہنا ہے، کیا کہا ہے... بس چپکے سے کن فرما دے... مالک! حالات بس سے باہر ہوئے جاتے ہیں، آخر تو ہی سب کچھ ہے، تو نے دستِ شفقت رکھنا ہے اور کن کا مژدہ سنا دینا ہے. تو خالق! پھر سجدے میں جا کر میں نے تجھے اتنا چومنا ہے کہ بس.... تیری کرم نوازی ہے کہ تو اس حقیر کی مان لے.،تجھے تیری بزرگی کا واسطہ مان لے.... مشکلات بڑھ گئیں، یا حل المشکلات! کوئی دوسرا ساتھ نہیں ،لذتِ یقین سے آشنا فرمانے والا! مجھے میرا یقین لوٹا دے، میں راضی ہوں سرکار! ازحد راضی، تو جس میں رکھے، کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے کہ میں محوِ رقص میں ہوں، تمام عالم رقص میں ہے مگر....آنکھیں کھولوں تو سب کچھ ساکت... پے در پے آزمائش کے وار کر، ایک ہی وار کر، ایک ہی دھار سے سب چیر کے رکھ دے مگر کبھی کبھی ذرا پہلو بدلنے دیا کر... کبھی درد سے پھٹ جاتا ہوں، آزمائش شرط ہے کہ چاروں شانے چت ہوں، بہت لمبی سیڑھی لگائ ہے تو نے میرے لئے.... اتنا فاصلہ طے ہوا، مگر ابھی بھی دھند اس قدر کہ منزل کا ہونا نہ ہونا معلوم نہیں پڑتا، کچھ ہے بھی یا محض دھول کا بے دام ذرہ ہوں. \nکرم فرمانے والے! تیرے کرم کی انتہا نہیں کہ میری سوچ سے ورا... تو پھر سوچوں تو میری سوچ ہی کیا؟ \nرحیم! کریم! \nتو میرا!\n سوہنیا! \nپر صرف میرا نہیں... \nمگر میں تیرا ہوں، صرف تیرا... \nتو ہی جانے کیا ہوں، کون ہوں، میں جو تجھ سے محبت کرتا ہوں مگر کبھی کبھی تیری مانتا ہی نہیں، جب میں تجھ سے ڈرتا ہوں تو کانپ جاتا ہوں، یہ خوف محبت میں ضروری ہے کہ جس سے محبت ہو اس سے خوف آتا ہے... بے صورت! صورت گر! مجھے تجھ سے خوف آنے لگا ہے. \nکرم فرما کہ عذاب سے جان چھوٹے دل کا منظر صاف ہو جائے. پاک ہو جائے. تلاطم خیز طوفان میں دراڑ پڑ جائے... تو جانتا ہے پیاریا! دوئ کے رستے پہ چلتا ہوں.. بندہ ہوں، لالچ بہت ہے نا! پتا نہیں کہ کس راستے پہ ملے گا اور یہی لالچ ہر سو بھگاتا ہے. تیرے اس بندے کو.....