نیشنل فراڈنگ سروس یا نیشنل ٹیسٹنگ سروس - عبدالجبار

عبدالجبار\n بیروزگاری پہلاالمیہ دہشت گردی دوسرا المیہ اور نیشنل فراڈنگ تیسرا المیہ .پاکستانی قوم کا مقدر المیہ ہی بن کے رہ گیا ہے.جس کے پاس دولت نہیں ہے وہ پڑھ نہیں سکتا ،اگر دولت نہ ہونے کے باوجود پڑھ بھی جائے تو جاب نہیں کر سکتا .اگر جاب کرنی ہے تو اس کو نیشنل فراڈنگ سروس کے کوچے میں شب و روز طواف کرنا ہو گا.نیشنل فراڈنگ سروس سے تو تعلیمی معیار پر سوال اٹھتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام تباہ کن نظام ہے جو ہمیں اتنا تک نہیں بتا سکتا کہ کس نے علم عقل سے حاصل کیا ہے اور کس نے نقل سے .اور اسی واسطے ہمارے نظام تعلیم پر چہار سو سوال اٹھتے ہیں کہ جناب انگلش قابلیت کا ٹیسٹ پاس کرو اگرچہ تم انگلش میڈیم سکولوں کے ستم رسیدہ ہو .اور تعلیمی نظام کو تباہ کس نے کیا ؟؟.میں تو جہاں تک سمجھتا ہوں حکومتوں نے خود کہ اگر سرکاری ملازم ہو تو اپنے ادارے نہ بناؤ مگر ہم اس ادارے کو پرائیوٹ کر کے دم لیں گے .چلو سکالر شپ کی صورت میں تسلیم کر لیتے جی آر ای کے لیے بھی تسلیم کر لیتے کہ 16 سالہ تعلیم کے بعد اگر آپ نے آگے بڑھنا ہے تو آپکو ٹیسٹ پاس کرنا پڑے گا ،مگر یہ کیا کہ درجہ نہم کے لیے بھی ٹیسٹ پاس کرو .اسکا مطلب یہ ہوا کہ یونیورسٹیز کے اندر نظام امتحان شفاف نہیں ہے .کوئی شخص بھی اعزازی نمبر لے کے جاب کی لائن میں آ سکتا ہے.ستم بالا ستم یہ ہے کہ تشہیر کرتے وقت کوئی پالیسی نہیں کوئی سیٹس نہیں ،مگر جب طالب علموں نے کاغذات جمع کرا دیے تو تب اعلان ہو تا ہے پالسی تو یونین وائز ہے ،تحصیل وائز ہے ،وغیرہ،وغیرہ.اب دیکھنا یہ ہے کہ پڑھے لکھے کب تک نیشنل فراڈنگ سروس کے تیروں کا شکار بنتے رہیں گے.جس نے گھرگروی رکھ کر تعلیم حاصل کی ہو.جس نے مزاروں کے دیوں کی روشنیوں میں پڑھائی کی ہو.جس نے سٹریٹ لائٹس میں بیٹھ کر اسباق یاد کیے ہوں .جس کے ماں باپ نے اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو پڑھایا ہو.\n\nسوال یہ ہے کہ قابلیت جانچنے کے لیے بھی این ٹی ایس دے ؟؟\nوہ کہاں سے نیشنل فراڈنگ سروس کے پیسے لائے .اور نیشنل فراڈنگ سروس والے کہیں گے جی ہم تو امتحان کے اندر سہولیات مہیا کرتے ہیں ،اس لیے ہم پیسے لیتے ہیں .کوئی ان سے جا کے پوچھے ،کیا امتحان اے سی روم میں کنڈکٹ کرواتے ہو،کیا ریفریشمنٹ کا انتطام ہوتا،کیا لوڈشیڈنگ کی صورت میں متبادل نظام ہوتا ہے ؟کیا عملہ تمیز دار ہوتا ہے؟؟اب ستم کی شنید تو یہاں تک ہو چکی ہے مگر ایک نظر این ٹی ایس ٹیسٹ سنٹروں میں بیٹھے ہوئے پردہ نشینوں پر جو فی کس موبائل کے20 سے لے کر پچاس روپے اینٹھ لیتے ہیں جیسے انہوں نے موبائل کو دوھ پلانا ہویا پھر موبائل میں لوڈ کراکے واپس کرنا ہو .اب مسئلہ کرپشن کا ہو یا نہ ہو بابا ایک بات تو صاف ہے کہ بیروزگاری کے اس طوفان میں یا تو امیر شہر کے گھر میں چراغ جلتے ہیں ،یا پھر نیشنل فراڈنگ سروس والوں کے دیے روشن ہیں.مفلسوں کا کون پرسانِ حال ہوگا .مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے میرے کئی سنگین جرائم میں سے دو بنیادی تو یہی ہیں کہ ،ایک میں مملکت خداد پاکستان کا شہری ہوں ،دوسرا ایک پڑھا لکھا بیروزگار ہوں .\nاب میں نیشنل فراڈنگ سروس والوں سے نہیں ارباب اقتدار سے پوچھتا ہوں کہ آپکی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے آپکے نمائندگان اگر نیشنل فراڈنگ سروس کا ٹیسٹ دیں تو ہم بھی دیں گے وگرنہ ہماری تذلیل اخر کب تک ہو گی.اب جناب ٹیسٹ ہے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کا اس میں لفظ پٹرولیم مفقود ،اب ٹیسٹ ہے جناب جیالوجسٹ کا اس میں لفظ جیالوجی نظر ہی نہیں آتا.فراڈیو اگر ہماری اہلیت کا اندازہ لگانا ہے تو پھر ایسا کرو کہ جو سبجیکٹ ہے اسی میں سے پیر بناؤ.پوسٹ درجہ نہم کے لیے چالان 475 اور ہاں سائنس میتھ کے نام پر علیحدہ علیحدہ فراڈ .اور پیٹرن بھی کیسا ہے ،مجھے تو ہنسی آتی ہے ایک حکومت کی قابلیت پر دوسرا نیشنل فراڈنگ سروس کے ٹیسٹوں پر.اب انجینئر و آجاؤ، ڈاکٹرو آ جاؤ،اور نیچرل سائنسز والو بھاڑ میں جاؤ.سوال یہ ہے اگر آپ انجیئنروں کو جاب نہیں دے سکتے تو ایڈمیشن کیوں دیتے ہو.اب ان بے چاوروں نے تو بیروزگاری کے عالم میں تمہارے نشتر سہنے ہیں ،اور کیا کریں .نیشنل فراڈنگ سروس والے قوم کا لہو حکمران کیا کم چوس رہے ہیں جو تم بھی مفلس عوام کی ہڈیوں کا گودا تک نکال کر مانند گدھ کھا رہے ہو.اور ہر آئے روز ایک ہی ٹیسٹ کے لیے اشتہار دیتے ہیں .پھر کنسیل ،پھر دوبارہ اشتہار لگا یا جاتا .\nآج ہی میری نظر سے گزرا ہے پرائیوٹائزیشن کرنے کا اشتہار ،جس میں جو پہلے سے ادارے چلا رہے ہیں انکے لیے کوئی ٹیسٹ نہیں ،ہاں جو مجرم ہیں یعنی کہ ابھی ایم ایس سی یا ایم اے کیا ہے انہیں نیشنل فراڈنگ سروس کا سامنا کرنا ہےاور مزے کی بات یہ ہے ا سکی خاطر کم از کم عمر30 سال ہو یعنی جو 25 سال کا ہے وہ پانچ سال ہمارے رگڑے کھائے پھر ہمارے پاس دوبارہ کھال اتروانے کے لیے حاضر ہو.سیاسی جغادریوں کی سیاسی ذرائع سے پیسے بٹورتے ہوئے جب ہوس کی آگ نہیں بجھی تو انہوں نے یہ فراڈنگ کا ایک نیا سسٹم نکال لیا .حزب اقتدار سے حزب اختلاف سے یہی سوال ہے کہ پہلے ہمارا استحصال نہیں ہوا کیا ؟؟\n.پہلے تمہارے سوئس بینک اکاؤنٹ نہیں بھرے .کیا پانامہ سے پیسہ تھوڑا بنا ؟؟خدارا اہلیت کو جانچنا ہے تو کوئی چالان نہٰیں ہونا چاہیے .بس ایک سادہ سی سی وی ہو جو ارسال کی جائے وہ بھی آن لائن اور اسکی بنیادپر ٹیسٹ ہو ؟حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اگر ٹیکس لیتی ہے تو پھر وہ بنیادی سہولیات بھی مہیا کرے .اگر نہیں کر سکتے تو کرسی چھوڑ کیوں نہیں دیتے ..\nکرسی ہے تمھارا یہ جنازہ تو نہیں ہے.\0\0\nکچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے