چائے والا، تذکرہ قوم لوط اور میڈیا - شازیہ طاہر

کچھ دنوں سے الیکٹرانک میڈیا کی طرف توجہ ذرا کم ہی ہے اور بعض اوقات تو کئی کئی دن تک خبریں سننے کی نوبت بھی نہیں آتی لیکن بھلا ہو موبائل فونز کا کہ یہ آپ کو بےخبر نہیں رہنے دیتے. سوشل میڈیا پر زیرگردش آج کل میڈیا کا نیا ”شکار“ یعنی ”چائے والے“ کا تذکرہ بہت ہی زیادہ دیکھنے اور سننے کو ملا تو اپنے لوگوں کی حالت زار پر ہمیشہ کی طرح کڑھنے کے ساتھ ساتھ نہایت دکھ اور تکلیف بھی ہوئی کہ افسوس من حیث القوم اور من حیث الامت ہم کہاں جا رہے ہیں؟ اور ہمارا یہ نام نہاد میڈیا ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو کس ڈگر پر لے کر جا رہا ہے؟ کیا پوری میڈیا انڈسٹری یا ارباب اختیار میں کوئی ایک ذی شعور ایسا نہیں ہے جو اس شتر بےمہار میڈیا کو لگام دے. پہلے قندیل بلوچ اور اس کا عبرتناک انجام اور اب یہ چائے والا۔

سوشل میڈیا کی خبروں کے مطابق اس چائے والے کے ساتھ سینکڑوں لڑکیاں سیلفی بنوا چکی ہیں، اور اس کام میں نوجوان لڑکے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں، کہیں موصوف کے حسن کے تذکرے ہیں اور کہیں اس کی نیلی آنکھوں کی خوبصورتی کی تفصیل ہے. سنا ہے کئی لڑکیاں تو اس کے حسن پر مر مٹی ہیں اور شادی اور دوستی کی پیشکش بھی کر چکی ہیں، اورتو اور بعض ”مرد صحافی“ حضرات بھی اس کے حسن کے قصیدے پڑھنے میں یوں مشغول نظر آئے جیسے وطن عزیز اور امت مسلمہ کا سب سے اہم مسئلہ صرف یہ ”چائے والا“ ہی ہو۔\nذرا ایکسپریس نیوز کی اس خبر کے اقتباس کو دیکھیے:
”اسلام آباد میں چائے بنانے والے ایک نوجوان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے بالخصوص بھارت میں اس چائے والے کی تصویر نے دھوم مچادی ہے جہاں بھارتی خواتین میں اس نوجوان نے بے پناہ مقبولیت حاصل کرلی ہے اور بھارتی لڑکیوں نےنوجوان کو دنیا کا حسین ترین مرد قرار دیدیا ہے جب کہ بہت سے لوگ تصویر کی خوبصورتی کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔بلاشبہ ارشد خان انتہائی پُر کشش مرد ہے اوراگر اس نے شوبز کی دنیا میں قدم رکھ دیا تو یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ کئی ناموراداکار جو اپنی خوبصورتی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں ان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجاسکتا ہے۔“ (بحوالہ ایکسپریس نیوز)

یوں گمان ہو رہا ہے کہ جیسے ہم چلتے پھرتے معاذاللہ قوم سدوم میں کے دور میں آ نکلے ہیں. بہت سے لوگ ”سدوم“ کے بارے میں نہیں جانتے، سدوم حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے شہر کا نام تھا، جس پر اللہ کا عذاب اس کے باسیوں کی بداعمالیوں کے سبب آیا تھا.

آئیے آج کئی صدیاں پیچھے کی تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہماری قوم بھی سلو پوائزن کی طرح خدانخواستہ جانے انجانے میں انتہائی غیر محسوس طریقے سے ایسے کسی فعل کی طرف تو نہیں جا رہی اور ہمیں اس کا ادراک بھی نہ ہو.

حضرت لوط جب سدوم میں پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو فواحشات میں ملوث پایا۔ پیغمبر نے انہیں اللہ کی طرف دعوت دی اور ان کی اصلاح کی کوشش شروع کردی۔ سورہ الشعراء میں ہے کہ حضرت لوط نے اپنی قوم کو کہا کہ ”اللہ سے ڈرو اور میری بات مانو“ (آیت 163) مگر انہوں نے حضرت لوط کی بات ماننے سے انکار کردیا اور ان کا مقابلہ شروع کردیا۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ قوم لوط کے جواب کا ذکر کرتے ہیں۔ ”انہوں نے کہا کہ اے لوط اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے یہاں سے نکال باہر کریں گے۔“ (سورۃ الشعراء آیت 167)۔ مگر لوط علیہ السلام اپنی بات پر قائم رہے اور کہا کہ ”آپ لوگ ایک ایسی بےحیائی کے مرتکب ہو رہے ہیں جو تم سے پہلے پوری دنیا میں کسی نے نہیں کی۔“ (سورۃ الاعراف۔ آیت 80) سورۃ العنکبوت، آیت 28 میں حضرت لوط کو اپنی قوم کو ان الفاظ میں مخاطب کرتے بتایا گیا ”[کیا تم [شہوت رانی کے لیے] مَردوں کے پاس جاتے ہو اور ڈاکہ زنی کرتے ہو اور اپنی [بھری] مجلس میں ناپسندیدہ حرکتیں کرتے ہو]۔“ اس کے جواب میں قوم لوط اپنے نبی کو چیلنج کرتی ہے کہ ”اگرتو سچا پیغمبر ہے تو ہم پراللہ کا عذاب لا کردکھا۔“ (سورہ العنکبوت ، آیت 29)
سورۃ الشعراء میں ہے کہ حضرت لوط علیہ السلام نے اللہ سے فریاد کی ”اے میرے پروردگار مجھے اور میرے اہل خانہ کو اس [برائی] سے نجات دے جس کا ارتکاب یہ لوگ کر رہے ہیں۔“ (سورۃ الشعراء، آیت 169) اس پر اللہ تعالیٰ نے فرشتے حضرت لوط کے پاس انہیں اطمینان دلانے کے لیے نازل کیے۔ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ ”آپ خوف زدہ نہ ہوں اور نہ غم کریں۔ آپ بچ جانے والوں میں ہیں۔“ (سورۃ العنکبوت آیت 33). فرشتوں نے مزید بتایا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں، ”ہم اہل بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں کیونکہ یہاں کے لوگ ظالم ہیں۔“ (العنکبوت، آیت 31) فرشتوں نے کہا کہ ”ہم اس بستی پر اس کے مکینوں کے فسق و فجور کے باعث آسمان سے مصیبت نازل کرنے والے ہیں۔“ (العنکبوت، آیت 34)۔ سورۃ الھود میں ہے کہ ”پھر جب ہمارا [عذاب] کا حکم آیا تو ہم نے بستی کو تل پٹ کرکے رکھ دیا اور اس پر پکی مٹی کے پتھروں کی بارش کی جو تہہ در تہہ گرتے رہے۔“ (ھود آیت، 82)۔ سورہ الحجر میں ہے کہ ”پس انہیں طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سخت کڑک نے پکڑ لیا.“ (الحجر، آیت 73) اور سورۃ العنکبوت میں آیت 35 میں مذکور ہے کہ ”اور ہم نے اس [شہر] کی کچھ نشانیاں اہل خرد کے لیے باقی چھوڑ دیں۔“

تورات کی روایت کے مطابق قوم لوط پر آسمان سے آگ برسائی گئی مگر قرآن کریم کی بیان کردہ روایات حالیہ تحقیق کے مطابق ہیں کیونکہ اگر آگ کا عذاب نازل کیا گیا ہوتا تو اس شہر پر آج آگ کے آثار پائے جاتے۔ سورہ العنکبوت میں ہے کہ ایک پتھر [سیارہ] قوم لوط پر گرا۔ اس کے علاوہ بارش کے قطروں کی طرح اس پر پتھر برسائے گئے، جنہوں نے بستی کے اوپر کو نیچے کر دیا۔ پھر اس کے اوپر 35 صدیوں تک مٹی کی دبیز تہہ بچھا دی۔\nمندرجہ ذیل آیات میں بھی قرآن حکیم ہمیں بتا رہا ہے کہ اﷲ کے قوانین میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی:’’یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کر راست رو ہوتے۔ مگر جب خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔ یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور بری بری چالیں چلنے لگے، حالانکہ بری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اس کا انتظار کررہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اﷲ کا جو طریقہ رہا ہے وہی ان کے ساتھ بھی برتا جائے؟ یہی بات ہے کہ تم اﷲ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اﷲ کی سنت کو اس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیر سکتی ہے‘‘۔ (سورۃ الفاطر۔ آیات 42 تا 43 )
جی ہاں! اﷲ کے طریقے (قانون) میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ ہر وہ شخص جو اس کے متعین کردہ قوانین کے خلاف کھڑا ہوگا اور ان کی خلاف ورزی کرے گا، اسے انہی قوانین الہٰی کے تحت سزا بھی دی جائے گی۔

ہم یہاں اٹلی میں رہتے ہیں اور یہاں پر بھی قوم سدوم کی طرح ایک قوم پر اللہ کا عذاب آیا.جی ہاں سلطنت روم کی تنزلی کی علامت ، پومپییئ Pompei (اٹلی کا ایک شہر) کے لوگ بھی جنسی بے راہ روی، بدفعلی کی عادتوں میں مبتلا تھے۔ ان کا انجام بھی بالکل وہی ہوا ، جو قوم لوطؑ کا ہوا تھا۔ وہ آفت یا وہ عذاب جس نے گمراہ قوم سدوم کو نابود کردیا، بالکل ویسی ہی آفت نے پومپیئی Pompei کو بھی تباہ وبرباد کیا۔ ( اس قوم اور ان پر آنے والے عذاب کی تفصیلات بھی ان شاءاللہ جلد آپ تک پہنچانے کی کوشش ہوگی)

اب یقینا ہر طرف سے یہ شور برپا ہوگا کہ اللہ توبہ، لوگوں کی سوچ ہی اتنی گندی اور ”عریاں“ ہے کہ ایک ”غریب“ کے حسن کی تعریف کیا کر دی یہاں تو استغفراللہ قوم لوطؑ سے مقابلہ کیا جانے لگا. تو محترم بہنو اور بھائیو: برائی پہلے ہمیشہ غیر محسوس طریقے سے ہی ہمارے اندر گھر کرتی ہے اور اگر اس کا سدِباب نہ کیا جائے تو وہ اپنی جڑیں ہمارے ارد گرد اس قدر مضبوط کر لیتی ہے اور پھر ہم اس کے اس قدر عادی ہو جاتے ہیں کہ ہمیں برائی برائی محسوس ہی نہیں ہوتی۔ موجودہ معاشرے کی بڑھتی ہوئی بے راہ روی، فحاشی اور بےحیائی کے اثرات ہمارے نسلوں پر کس قدر برے اثرات مرتب کر سکتے ہیں اس کا اندازہ ہمیں چند سالوں بعد مزید ہو جائے گا۔ کیونکہ پچھلے چودہ سالوں سے پرائیویٹ میڈیا اپنی اس کوشش میں کس قدر کامیاب ہو چکا ہے اس کا اندازہ تو مجھے اور آپ سب کو بخوبی ہو چکا ہے اور کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے سے حقیقت چھپ نہیں سکتی۔ اور یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو بے راہ روی کے اس گندے سیلاب سے بچانے میں ناکام رہے ہیں۔

میڈیا سے مؤدبانہ عرض ہے کہ اگر مقصود صرف اس غریب کے ”معصوم حسن“ کی ہی تشہیر کرنا ہے تو فرصت نکال کر کبھی مقبوضہ کشمیر کے ان گہری نیلی آنکھوں والے معصوم بچوں کی بھی خبر لگا دیا کریں جن کی ماؤں کے سامنے ان کی آنکھوں میں گولیاں مار کر ان کو بینائی سے محروم کر دیا گیا تاکہ وہ آزادی کے خواب بھی نہ دیکھ سکیں۔ اور ازراہ نوازش ذرا شام اور اور فلسطین کی ان معصوم کلیوں کو بھی دکھا دیا کریں جو بِن کھلے ہی مرجھا گئیں۔ حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا ؏
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
نہ آبلہ مسجد ہوں، نہ تہذیب کا فرزند
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں، بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
مشکل ہے کہ اک بندۂ حق بین و حق اندیش
خاشاک کے تودے کو کہے کوہِ دماوند