وہ کیا تبدیلی ہے جس کی پاکستان کو ضرورت ہے؟ نعمان بخاری

نعمان بخاری آجکل جو موضوع عام ہے اور جس پر سب کا اتفاق ہے وہ یہی کہ پاکستان کے اس فرسوہ ولایتی نظام اور کرپٹ حکمرانوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے- ولایتی اس لیے کہ گزشتہ ستر سالوں سے ہم پر روس، برطانیہ، امریکہ اور اس کے حواریوں کے پتلے حکمرانی کے مزے لوٹ رہے ہیں- یہ سیاستدان لوگ نہایت چالاک، شاطر اور مکار ہیں! ان کو پتہ ہوتا ہے کہ اگلے الیکشن میں کس پارٹی کی حکومت ہوگی اور اسی پارٹی میں اپنے سٹیٹس کو کو برقرار رکھنے اور لوٹ مار و کرپشن کیلئے شامل ہوتے ہیں، اپنے حربے آزماتے ہیں اور پھر حکمران بن جاتے ہیں- عوام ان سے تبدیلی کی امیدیں لگائے بیٹھتے ہیں اور تبدیلی آتی ہے لیکن ان حکمرانوں کے محلوں، ان کے اکاونٹس، اور ان کے فرعونی کبر میں اضافے کی صورت میں آتی ہے- غریب عوام کے روز ذلیل ہونے میں کوئی تبدیلی نہیں آتی-\n\nیہ پاکستان جس مقصد کیلئے بنا ہے اس کو دہراتے ہوئے تین نسلیں گزر گئی لیکن کسی کو اس مقصد کے پورا کرنے کا خیال نہ گزرا، اور جنہوں نے کچھ کام کیا ان کو نہایت بے شرمی اور ظلم سے پھانسیاں دی گئیں- آج تک وہی انگریزوں کے غلاموں کی نسلیں ہیں، انگریزوں کی وفاداری پر ان کو ملی ہوئی جاگیریں ہیں اور ان کی ہمارے اوپر حکمرانی ہے- قیام پاکستان، بلکہ دو سو سال زائد عرصے سے یہی خاندان ہمارے اوپر حکمران ہیں، ان کی حکمرانی تبدیل نہ ہوئی نہ اس سسٹم کو تبدیل کرنے کی راہ آپ کو کوئی دکھائے گا- تبدیلی کیا ہے؟ میں سادہ الفاظ میں عام آدمی کا لیونگ سٹینڈرڈ اوپر جانے کو تبدیلی کہونگا، میں اک عام سوشل ورکر کو اسمبلی کا ممبر بننے کو تبدیلی کہونگا جس کے پاس مہنگے الیکشن کیلئے روپے نہیں ہوتے- میں اک عام آدمی اور اسمبلی کے ممبر کو یکساں انصاف ملنے کو تبدیلی کہتا ہوں- آج اگر کوئی لاکھ دعوے کریں سسٹم کو اچھا کرنے کی لیکن سٹیٹس کو وہی ہے، وہی ہٹو بچو کا شور ہے، سائرن ہیں اور عوام کو اپنی اوقات یاد دلانے کیلئے سڑکوں پر پروٹوکول کے قافلے اور سپشل گارڈز ہیں-\n\nپاکستان کے کلچر اور جسٹ 'انکل نواز' کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ان منجھے ہوئے مکّار لوٹے جاگیرداروں، کرپٹ آفسروں، بی اے پاس کی جعلی ڈگریوں کے وزراء، اور جھوٹے وعدوں کے کلچر کی تبدیلی کی ضرورت ہے- اور یہ صرف ایک ہی نسخے سے آ سکتی ہے جو وہی مقصد ہے جس کیلئے یہ ملک بنا تھا- اس ملک کو ولایت و امریکہ کے غلاموں کی نہیں بلکہ محمدؐ کے غلاموں کی ضرورت ہے کونکہ جب دنیاوی عدالت کے خوف کے بجائے خوفِ خدا حکومتی زمےداری پورا کرنے کی بنیاد ہو، جب حکومت کو امانت سمجھا جائے تو کرپشن کہاں باقی رہیگی؟ پھر اس ملک و قوم اور اس کے وسائل کے ساتھ انصاف کا معامہ ہوگا- عزیز قارئین، اس بات کو کھلے دماغ سے سمجھا اور سمجھایا جائے کہ اگر اس ملک کو عوام دوست اور فلاحی بنانا ہے تو اسے صرف نام سے اسلامی جمہوریہ نہیں بلکہ شفاف الیکشن کے ذریعے حقیقی معنوں میں اسلامی ملک میں تبدیل ہونے کی ضرورت ہے-