وطن عزیز کا نوحہ - نعیم الدین جمالی

وطن عزیز پاکستان میں جمہوریت اور آزادی کی زندگی کی عمر ستر سال تک ہو چکی ہے، آزادی کے لیے جن محب وطن، نڈر، جرات مند اور بہادر لوگوں نے لازوال قربانیاں دی تھیں، شاید ان کی ہڈیاں بھی مٹی بن چکی ہیں، ان کا نام ونشاں بھی صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے، اپنے بھی انہیں بھلا چکے ہیں، بوڑھی ماؤں نے اپنے جوانوں کا انتظار کرتے کرتے موت کو لبیک کہ دیا ہے، بیوہ ہوئی عورتیں اپنے مجازی خدا کی راہیں تک تک کر موت کی آغوش میں آچکی ہوں گی، بوڑھے والدیں ابنے بچوں کے سہارے تلاشتے الوداع کر گئے،کیا خواب تھے ان کے؟
کس لیے انہوں نے یہ مشقتیں اور مصیبتیں سہیں اور برداشت کیں؟ کس لیے انہوں نے اپنی جائیدادیں داؤ پر لگائیں؟
جس اسلامی ملک کی تشکیل کے لیے انہوں نے نہ دیکھنے والے مناظر دیکھے؟
کیا ان کے خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے ہیں؟
اس دو قومی نظریہ پر بننے والی ملک کی وہی شکل وصورت اور مقاصد ہیں جو آزادی کے سپہ سالاروں نے ہمیں یاد کروائے تھے؟
ان کی آنے والی تیسری نسل اس خواب کی ایک جھلک دیکھ پائی ہے؟
یہ وہ سوالات ہیں جو مجھ جیسے ہزاروں ہم وطن لوگوں کے ذہنوں میں ابھرتے ہیں، انہیں ابھرنے کا حق ہے، اس طویل جمہوری عرصہ میں ہم نے کیا پایا کیا کھویا؟

جس جمہوریت کی بقا کے نام پر سیاستدانوں کے بلند وبانگ دعوے ہم سنتے آ رہے ہیں، اس جمہوریت نے کون سے خوشنما کردار، بامعنی، فیصلہ کن، مثبت تعمیری تبدیلی کے جوہر دکھائے ہیں، ظلم پر یہ ایستادہ نظام جس طرح چل رہا ہےاس پر صرف حکمران اور خاص سیاسی لوگ،امراء اور اشرافیہ پنپ رہی ہے، جس جمہوریت کے لیے وہ سر پر کفن باندہ کر شھید ہونا اعزاز سمجھتے ہیں، اس میں رہ کر انہوں نے وہ کارنامے انجام دیے ہیں کہ جنہیں سن کر کانوں میں پیپ پڑتی ہی، بیان کرنے سے زبان لکنت زدہ ہوجاتی ہے. حکمرانوں نے اس جمہوریت کا سہارا لیکر عوام کو لوٹ کر ان کا بھرکس نکال دیا ہے، عوام کا دبا کچلا طبقہ مزید مصائب کا شکار ہے، کس جمہوریت کے ہم گیت گائیں جس میں امیر مجرم ہونے کے باوجود عدالتوں سے بری ہوجائیں، جس میں ان کے لیے قانون کی ترمیم اور اس کا بائے پاس ہو سکتا ہے، غریب بے گناہ ہوکر بھی مجرم ! عدالت کے فیصلے آنے سے پہلے وہ موت سے مل چکا ہو، اس جمہوریت میں احتساب الف لیلی کی کہانی سی صداقت رکھتا ہے، عوام میں اب وہ قوت احساس نہیں کہ حکومت کی نانصافیوں ، زیادتیوں اور لوٹ مار کے خلاف رد عمل کا اظھار کر سکے، کس جمہوریت کے لئے ہم ڈھول پیٹیں ،جس میں تعلیمی پسماندگی ،جعلی ڈگریوں کی فروخت ،علاج ومعالجے کا فقدان ،بےروزگاری میں روز افزوں اضافہ ،قومی وسائل کا بے دھڑک استعمال ،اشرافیہ طبقے کی عیاشیاں ،معاشی ابتری ،قرضوں کا پھیلتا ہوا جال ،کرپشن ،اقرباء پروری جیسے مسائل کی بھر مار ہو.

وطن عزیز کے یہ وہ نوحے ہیں جن سے اخبارات اور ٹی وی صبح سے شام تک ہمیں گوش گذار کرتے ہیں، حقائق ہی یہی ہیں ان بیچاروں کا کیا قصور ہے، سوچتا ہوں کیا ہمارے مقدر میں ہی رونا دھونا ہے؟ ہماری محرومیوں کا سفر کبھی ختم بھی ہوگا؟ تیل،گیس ،سونے چاندی ،جیسے ذخائر ،کھیتی کےلئے بھتریں زمینیں ،محنت کش کسان ،ہرے بھرے سیاحتی مقامات ترقی کے تمام راستے اس ملک عزیز میں موجود ہیں ،گندم کی پیدوار میں ہمارا نواں نمبر ہے پھلوں اور دوردھ کی پیداوار میں دنیاں میں ہماری پانچویں ہوزیشن ہے،گوشت کی پیداوار میں دسویں نمبر پر فائز ہیں ،\nلیکن اسکے باوجود بائیس فیصد ہم وطن غذائی قلت کا شکار ہیں، ہمارے نوحے کب تک جاری رہینگے ؟

وطن عزیز پر رب عزوجل تو بہت مھربان ہے ،ہمیں دنیا کی ہر نعمت سے نوازا لیکن شیطان اقلیت کو میوزیکل چیئر سے ہی فرصت نہیں ،ایک دوسرے پر الزامات کے گولے برسانے سے فرصت نہیں، وطن عزیز کو اگر ہم حقیقی جمھوری ملک کہنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنا الو سیدھا کرنا پڑے گا ،بدعنوان لوگوں کو احتساب کےکٹھرے میں لانا ہوگا، قانوں امیر وغریب شاہ وگدا دونوں کے لئے یکسان ہوگا ،انصاف کو سستا کرنا پڑے گا ،سیاسی اشرافیہ میں سے وہ لوگ جو ملکی ترقی کی راہ میں رکارٹ ہیں انہیں اکھاڑ پھینکنا ہوگا

Comments

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے، سندھ یونیورسٹی میں ایم اے فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔ تدریس اور مفتی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */