یزیدی فرقہ - مختصر تعارف - حافظ طاہر اسلام عسکری

اموی سلطنت کے سقوط پر حامیانِ یزید نے ایک سیاسی تحریک کا آغاز کیا تا اس کا دوبارہ قیام ممکن ہو سکے لیکن رفتہ رفتہ یہ تحریک ایک منحرف مذہبی فرقے میں ڈھل گئی ۔ واقعہ کربلا کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے بعض حلقوں کی جانب سے یزید پر لعنت کی جاتی تھی ، اس کے ردِ عمل میں اس فرقے نے یزید کی تقدیس و تعظیم کا عَلم بلند کیا اور اُس پر لعنت کو ممنوع قرار دیا اور آخرِ کار مطلق طور پر ہی لعنت سے انکار کر دیا ۔ چناں چہ قرآن کریم میں جہاں لعنت کا تذکرہ تھا، اسے بھی مٹانے لگے اور کہا کہ قرآن شریف میں لعنت کا کلمہ مسلمانوں نے اپنی طرف سے داخل کر دیا ہے ۔ یزیدی ، شیطان کو لائق تکریم جانتے ہیں کہ ان کی نگاہ میں یہ اصل موحد تھا جس نے غیر اللہ (سیدنا آدم ؑ) کو سجدے سے انکار کر دیا اور یہ کہ اس نے خدا سے ٹکر لے لی جو اس کے عزم و جراَت پر دلات کناں ہے۔ ان کی مقدس کتاب کا نام ’’رش ‘‘ ہے جس کے معنی ’’ کتاب ِسیاہ ‘‘ کے ہیں ۔

یزیدیوں کا کلمہ ہے : أشھد واحد اللہ ، سلطان يزيد حبيب اللہ . یہ لوگ سال میں تین روزے رکھتے ہیں جو یزید کی تاریخ پیدایش سے متصل ہوتے ہیں ۔ ان کے ہاں پندرہ شعبان کو نماز پڑھی جاتی ہے جو پورے سال کی نمازوں کے لیے کافی سمجھی جاتی ہے ۔ یزیدی شیطان کو ’’ طاؤسِ ملائکہ ‘‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں اور اسی بنا پر طاؤس یعنی مور کا بھی بہت احترام کرتے ہیں ؛ اس کی تصویر اپنی عبادت گاہوں میں رکھتے اور اس کی پرستش بجا لاتے ہیں ؛ یہ نیلے رنگ کو بھی محترم سمجھتے ہیں کہ مور کا غالب رنگ یہی ہے ۔ فرقۂ یزیدیہ کی مقدس شخصیات میں عدی بن مسافر کا نام قابل ذکر ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے ملے تھے ؛ ان کا عقیدہ ہے کہ عدی ہی لوگوں کا حساب کتاب لیں گے اور جنت دوزخ کے فیصلے کریں گے ؛ یہ ان کی قبر کا طواف کرتے ہیں جوعراق کے علاقے ’’ لالش ‘‘ میں واقع ہے ۔ یزیدیوں کے یہاں ایک مرد چھ شادیاں کر سکتا ہے ۔ سال بھر میں ان کی کئی عیدیں اور تہوار ہیں ، مثلاً عید ِمربعانیہ ، عید ِیزید ، عیدِ سالِ نو وغیرہ ۔

یزیدی گروہ میں لکھنے پڑھنے کو حرام سمجھا جاتا ہے اور سینہ بہ سینہ علم کو معتبر جانا جاتا ہے ۔ یہ نصرانی عقائد و مراسم کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ان کا مذہب عیسائیت ، مجوسیت اور مانوی نظریات کا معجون مرکب ہے ۔ عراق میں موجود’’ ایزدی گروہ ‘‘ کو بھی انھی کی توسیع بتلایا جاتا ہے لیکن بعض محققین اسے درست تسلیم نہیں کرتے ۔

Comments

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری

حافظ طاہر اسلام عسکری اسلام کے علمی و فکری اور تحریکی موضوعات سے شغف رکھتے ہیں؛ اتحاد ملت اور امت کی نشاَۃ ثانیہ کے خواب کو شرمندہ تعبیر دیکھنا مقصدِ زیست ہے۔ شعر و ادب کو اہل مذہب کے لیے لازمی گرادانتے ہیں تاکہ فکر و خیال کی لطافتوں کا ابلاغ شائستہ تر اسلوب میں ممکن ہو سکے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.